فیصل واوڈا عدالت اور الیکشن کمیشن دونوں کو ماموں بناتے پکڑے گئے


دہری شہریت نااہلی کیس میں الیکشن کمیشن کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی جواب جمع کرانے میں مسلسل بے اعتنائی برتنے کی وجہ سے وفاقی وزیر فیصل واوڈا کے بطور ممبر قومی اسمبلی بچنے کے امکانات معدوم ہوتے نظر آتے ہیں۔ ان کی نااہلی کے امکانات 4 نومبر کو اس وقت اور زیادہ بڑھ گئے جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ فیصل واڈا الیکشن کمیشن کے روبرو نااہلی کیس میں یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ ان کا کیس اسلام آباد ہائی کورٹ میں لگا ہوا ہے اور جب یہاں ان سے پوچھا جاتا ہے تو وہ بتاتے ہیں کہ میرا کیس تو الیکشن کمیشن کے پاس زیر سماعت ہے۔ لیکن اب ایسے نہیں چلے گا۔
الیکشن کمیشن کی طرف سے پیشی کیلئے فیصل واوڈا کو آخری موقع دینے کے فیصلے کے بعد 4 نومبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے نااہلی کیس میں فیصل واوڈا کی طرف سے جواب داخل نہ کرنے پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کے ساتھ چھپن چھپائی کا کھیل کھیلنا چھوڑ دیں، موصوف الیکن کمیشن میں کہتے ہیں کہ مقدمہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے اور یہاں جواب جمع کرانے سے انکاری ہیں، عدالت سے سیدھی بات کریں، یہ نہ ہو کہ عدالت موکل کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیں۔ واضح رہے کہ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی فیصل واوڈا 2018ء کے عام انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت امریکی شہری تھے اور ان کا الیکشن کمیشن میں جمع کرایا جانے والا حلف نامہ جعلی تھا کیونکہ اسمیں انہوں نے کہا تھا کہ ان کے پاس غیر ملکی شہریت نہیں ہے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ 11 جون 2018ء کو کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت وہ امریکی شہری تھے۔ کاغذات کی اسکروٹنی کے وقت بھی ان کی امریکی شہریت برقرار تھی۔ فیصل واوڈا نے اپنے کاغذات نامزدگی میں حلفاً کہا تھا کہ وہ صرف پاکستانی شہری ہیں تاہم دستاویزات سے ثابت ہوا جب انہوں نے کاغذات جمع کرائے وہ امریکی شہری تھے۔
قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ثابت ہوجائے کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت وہ امریکی شہری تھے تو واوڈا نااہل ہوجائیں گے۔ 4 نومبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا کی نااہلی کے کیس کی سماعت کی وفاقی وزیر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل نے عدالتی کارروائی روکنے کی درخواست کی ہے۔ عدالت نے فیصل واوڈا کی جانب سے جواب داخل نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا اور فیصل واوڈا کے وکیل سے سوال کیا کہ پہلے یہ بتائیں کہ ہمارے آرڈر کی روشنی میں جواب داخل کرادیا ہے؟ آپ نے الیکشن کمیشن کی آرڈر شیٹس درخواست کے ساتھ کیوں نہیں لگائیں؟ کورٹ کے ساتھ ہائیڈ اینڈ سیک نا کھیلیں۔ جسٹس عامر فاروق نے وکیل سے مکالمہ کیا کہ آپ الیکشن کمیشن میں بھی پیش نہیں ہورہے اور ادھر بھی جواب جمع نہیں کریا جا رہا اورالیکشن کمیشن جاکر کہتے ہیں کہ معاملہ ہائیکورٹ میں بھی چل رہا ہے۔
دورانِ سماعت الیکشن کمیشن کے وکیل نے فیصل واوڈا کے کاغذات نامزدگی کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا اور عدالت کو بتایا کہ ریکارڈ کے ساتھ دہری شہریت نا رکھنے کا فیصل واؤڈا کا بیان حلفی بھی دیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ کیس یہ ہے فیصل واوڈا کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت دہری شہریت رکھتے تھے، فیصل واوڈا نے ‏11 جون 2018 کو بیان حلفی میں کہا دوہری شہریت نہیں رکھتے جبکہ ‏شہریت چھوڑنے کی درخواست 25 جون 2018 کو منظور ہوئی، ‏اس کا مطلب بیان حلفی کے وقت فیصل واوڈا امریکی شہری تھے، جسٹس عامرفاروق کا مزید کہنا تھا کہ ‏فیصل واؤڈا نے بیان حلفی میں کہا وہ غیرملکی شہریت نہیں رکھتے, نہ کبھی اپلائی کیا، ‏شہریت 25 جون کو چھوڑی, بیان حلفی میں کہا گیا کہ آپ امریکی شہری نہیں، جس پر فیصل واوڈا کے وکیل نے کہا کہ ‏یہ دستاویزات جعلی بھی ہوسکتی ہیں، جس پر عدالت نے ریمارکس دئیے کہ ‏آپ سے ایک سال سے جواب مانگ رہے ہیں، اصل حقائق پیش کر دیں ‏خود کو بند گلی میں نہ لےجائیں،اب رہ ہی کیا گیا، ‏عدالت سے سیدھی بات کریں، آپ اپنے مؤکل کو مشکلات میں ڈال رہے ہیں، جسٹس عامرفاروق نے مزید کہا کہ ‏کیا آپ چاہتے ہیں فیصل واوڈا کو ذاتی طور پر طلب کرلوں، ‏آپ اپنے مؤکل سے ہدایات لیکر آئے ہیں، آپ نے ہی جواب دینا ہے۔ بعد ازاں عدالت نے فیصل واوڈا کے وکیل کی مہلت کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت 12 نومبر تک ملتوی کردی۔
واضح رہے کہ 2018 میں سپریم کورٹ نے ن لیگ کے سینیٹرز سعدیہ عباسی اور ہارون اختر کو کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت دہری شہریت پر نااہل قرار دیا تھا، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ واضح کر دیا تھا کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت امیدواروں کے پاس غیر ملکی شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ ہونا چاہئے۔ اسی بات پر سپریم کورٹ نے کئی ارکان پارلیمنٹ کو نا اہل قرار دیا تھا جس میں نون لیگ کے دو سینیٹر بھی شامل ہیں۔ دونوں نے کافی عرصہ قبل ہی شہریت کی تنسیخ کیلئے درخواست دے رکھی تھی لیکن طویل طریقہ کار کی وجہ سے کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت ان کے پاس یہ سرٹیفکیٹ نہیں تھا۔
واوڈا کے معاملے میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ 8 جون 2018 تھی جسے مزید تین دن کیلئے بڑھایا گیا تھا۔ واوڈا نے اپنے کاغذات 11؍ تاریخ کو جمع کرائے اور ایک حلف نامہ بھی جمع کرایا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس غیر ملکی شہریت نہیں ہے۔ این اے 249؍ سے ریٹرننگ افسر نے ان کے کاغذات کی 18؍ جون 2018ء کو منظوری دی جس کے بعد 22؍ جون 2018ء کو واوڈا نے امریکی شہریت کی تنسیخ کیلئے شہر میں امریکی قونصل خانے میں درخواست جمع کرائی جس کا مطلب یہ ہوا کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت وہ امریکی شہری تھے۔
اگرچہ شہریت کی تنسیخ کا عمل مختلف محکموں سے کلیئرنس کے بعد کچھ ہفتوں میں مکمل ہوتا ہے لیکن واوڈا دستیاب دستاویزات کے مطابق قونصل خانے کی طرف سے انہیں شہریت کی تنسیخ کا سرٹیفکیٹ 25؍ جون 2018ء کو جاری کیا گیا۔ واوڈا کی اپنی پارٹی سے تعلق رکھنے والے ماہرین قانون متفق ہیں کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت جس امیدوار کے پاس غیر ملکی دوہری شہریت ہوگی وہ نہ صرف فوری طور پر نا اہل قرار دیا جا سکتا ہے بلکہ اسے جھوٹ بولنے پر سزا بھی ہو سکتی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق واوڈا کے معاملے میں آرٹیکل 63؍ ون سی کے تحت کارروائی بھی ہو سکتی ہے اور انہیں نا اہل قرار دیا جا سکتا ہے، یا پھر ان کا انتخاب کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے، یا پھر انہیں جھوٹ بولنے پر سزا سنائی جا سکتی ہے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ 10 اگست کو فیصل واڈا الیکشن کمیشن میں پیش ہوتے ہیں یا ان کیخلاف نااہلی کیس میں یکطرفہ کارروائی آگے بڑھائی جاتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button