لاہور کی احتساب عدالت میں خواجہ آصف کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

لاہور کی احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں گرفتار مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کا 13 جنوری تک 14 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔
قومی احتساب بیورو نے اسلام آباد سے گرفتار کیے گئے خواجہ آصف کو احتساب عدالت کے جج جواد الحسن کے روبرو پیش کیا۔نیب کے وکیل عاصم ممتاز نے مؤقف اختیار کیا کہ خواجہ آصف کو کمرہ عدالت میں موجود ہیں، خواجہ آصف نے اپنی آمدن سے زائد اثاثے بنائے اور اپنی اہلیہ اور بچوں کے نام پر بھی اثاثے بنائے۔نیب وکیل نے کہا کہ خواجہ آصف کے اثاثے 51 لاکھ سے 81 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ چکے ہیں لیکن انہوں نے اپنے ذرائع آمدن نہیں ظاہر کیے۔نیب وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ خواجہ آصف کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے تاکہ تفتیش مکمل ہو سکے۔اس موقع پر خواجہ آصف نے عدالت میں اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نیب پنڈی سے رزلٹ نہیں لے سکے اس لیے کیس لاہور بھیج دیا۔ان کا کہنا تھا کہ میں 7 مرتبہ رکنِ قومی اسمبلی رہا ہوں، نیب کا کیس جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔دوسری جانب خواجہ آصف کے وکیل نے نیب کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی مخالفت کی۔خواجہ آصف کے وکیل نجم الحسن نے کہا کہ نیب راولپنڈی نے خواجہ آصف کو جب بھی طلب کیا وہ ہر مرتبہ پیش ہوئے۔انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہپا کہ نیب لاہور نے بھی 5 مرتبہ طلب کیا پانچوں بار خواجہ آصف پیش ہوئے اور نیب کو تمام مطلوبہ ریکارڈ فراہم کیا۔اس موقع پر جج کا خواجہ آصف کے وکیل سے دلچسپ مکالمہ ہوا، جج نے وکیل سے دریافت کیا کہ آپ کو کہیں دیکھا ہے، جس پر وکیل نے بتایا کہ آپ کی عدالت میں جب پہلا بم دھماکا ہوا تھا تو میں آپ کی میز کے نیچے چھپ گیا تھا جس پر عدالت میں قہقے گونج اٹھے۔بعدازاں احتساب عدالت نے خواجہ آصف کا 13 جنوری تک جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا اور نیب کو آئندہ سماعت پر خواجہ آصف سے ہونے والی تفتیش سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔جج نے خواجہ آصف کی ان کے رشتہ داروں سے ملاقات کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر خواجہ آصف کو عدالت پیش کیا جائے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کو قومی احتساب بیورو نے 29 دسمبر کی رات گرفتار کیا تھا اور اگلے ہی روز راولپنڈی کی احتساب عدالت میں پیش کر کے ان کا ایک روزہ راہداری ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد انہیں نیب لاہور منتقل کردیا تھا۔نیب کی جانب سے جاری کردہ خواجہ آصف کی تفصیلی چارج شیٹ کے مطابق وہ نیب آرڈیننس 1999 کی شق 4 اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کی دفعہ 3 کے تحت رہنما مسلم لیگ (ن) کے خلاف تفتیش کررہے تھے۔اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ عوامی عہدہ رکھنے سے قبل 1991 میں خواجہ آصف کے مجموعی اثاثہ خات 51 لاکھ روپے پر مشتمل تھے تاہم 2018 تک مختلف عہدوں پر رہنے کے بعد ان کے اثاثہ جات 22 کروڑ 10 لاکھ روپے تک پہنچ گئے جو ان کی ظاہری آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف نے یو اے ای کی ایک فرم بنام M/S IMECO میں ملازمت سے 13 کروڑ روپے حاصل کرنے کا دعوی کیا تاہم دوران تفتیش وہ بطور تنخواہ اس رقم کے حصول کا کوئی بھی ٹھوس ثبوت پیش نہ کر سکے، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم نے جعلی ذرائع آمدن سے اپنی حاصل شدہ رقم کو ثابت کرنا چاہا۔احتساب کے ادارے کے مطابق ملزم خواجہ آصف اپنے ملازم طارق میر کے نام پر ایک بے نامی کمپنی بنام ’طارق میر اینڈ کمپنی‘ بھی چلا رہے ہیں جس کے بینک اکاؤنٹ میں 40 کروڑ کی خطیر رقم جمع کروائی گئی، اگرچہ اس رقم کے کوئی خاطر خواہ ذرائع بھی ثابت نہیں کیے گئے۔نیب نے کہا کہ نیب انکوائری کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ کیا خواجہ آصف کی ظاہر کردہ بیرونی آمدن آیا درست ہے یا نہیں اور انکوائری میں ظاہر ہوا کہ مبینہ بیرون ملک ملازمت کے دورانیہ میں ملزم خواجہ آصف پاکستان میں ہی تھے جبکہ بیرون ملک ملازمت کے کاغذات محض جعلی ذرائع آمدن بتانے کے لیے ہی ظاہر کیے گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button