لاہور ہائیکورٹ کا کرنل انعام کی گرفتاری پر اظہار عدم اطمینان

لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے لیفٹیننٹ کرنل (ر) ایڈووکیٹ انعام الرحیم کی حراست کے خلاف دائر درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی ہے۔
ذرائع کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس وقاص رؤف نے اس کیس کی سماعت جمعے کے روز شروع کی تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی نے بتایا کہ انعام الرحیم کو قانون کے تحت حراست میں لیا گیاہے۔ تاہم وہ عدالت کو ایک آرمی افسر کی مسلح افواج سے ریٹائرمنٹ کے کئی سال بعد حراست میں لینے کے حوالے سے مطمئن نہیں کرسکے بعدازاں عدالت نے درخواست کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے سماعت 9 جنوری تک ملتوی کردی۔
اس حوالے سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کاکہنا تھا کہ پاکستان آرمی ایکٹ (پی اے اے) کی دفعہ 13 فوج کو ریٹائرڈ افسران سے تفتیش کا اختیار دیتی ہے۔تاہم لیفٹیننٹ کرنل (ر) انعام الرحیم کے اہلِ خانہ کے وکیل احسان الدین شیخ نے موقف اختیار کیا کہ ریٹائرڈ آرمی افسر کے خلاف دفعہ 13 کا اطلاق اس وقت ہوتا ہے جب شکایت پہلے سے درج ہو۔درخواست گزار کی جانب سے پیش ہونے والے ایک اور وکیل بریگیڈیئر واصف خان نیازی نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی کو جواب دیتے ہوئے مختلف کیسز کی مثالیں پیش کیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ریٹائرڈ افسر کی حراست کے حوالے سے آرمی ایکٹ واضح ہے جبکہ انعام الرحیم کو پی اے اے کی متعلقہ دفعہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حراست میں لیا گیا۔سماعت کے دوران جسٹس رؤف نے کہا کہ چونکہ یہ معاملہ ہابیئس کارپس سے متعلق ہے اس لیے عدالت کو اس حوالے سے قانونی سوالات کا جائزہ لینے کے لیے وقت درکار ہے بعدازاں سماعت ایک ہفتے تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔
واضح رہے کہ وکیل کے مبینہ اغوا کے درج مقدمے کے مطابق ایڈووکیٹ انعام الرحیم کو نامعلوم افراد نے عسکری 14 میں موجود ان کی رہائش گاہ سے اٹھایا جو گیریژن شہر میں خاصی محفوط آبادی سمجھتی جاتی ہے۔ایف آئی آر میں کہا گیا کہ جس پر ایڈووکیٹ عبدالرحیم سورہے تھے نامعلوم افراد ان کی رہائش گاہ میں زبردستی داخل ہوئے اور انہیں جبراً اغوا کرتے ہوئے اہلِ خانہ کو دھمکیاں دیں۔
یاد رہے کہ وزارت دفاع نے اعتراف کیا کہ تھا کہ وکیل کو پاکستان آرمی ایکٹ (پی اے اے) کے تحت آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا تھا۔ ایڈووکیٹ انعام الرحیم نے لاپتہ افراد کی بازیابی اور فوج اور مسلح افواج کے انتظامی احکامات کے خلاف متعدد درخواستیں دائر کر رکھی تھیں۔ جبکہ کرنل (ر) انعام جنرل ہیڈ کوارٹر راولپنڈی حملے اور نیوی کے افسران سمیت دیگر افراد کی سزا کے حوالے سے ہونے والے ہائی پروفائل کورٹ مارشل کے خلاف دائر درخواست کے بھی وکیل تھے۔
