لبیک کے ساتھ معاہدے سے ریاست خطرے میں کیسے پڑی؟


کپتان حکومت کی جانب سے کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ ایک خفیہ معاہدے کی صورت میں دوبارہ گھٹنے ٹیکنے کا عمل اس وقت شدید عوامی تنقید کی زد میں ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ معاہدے سے ایک کالعدم جماعت کو کامیابی ملی ہے اور ریاست کے حصے میں سوائے رسوائی کے کچھ نہیں آیا۔ دوسری جانب مذہبی گروہوں کے ہاتھوں ریاست کو یرغمال بنانے کے عمل کو مذید تقویت ملی یے لہذا ریاست پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے کیونکہ اب ہر کوئی مسلح جتھے لے کر ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کے لئے لانگ مارچ اور دھرنوں کے لئے سڑکوں پر نکل آئے گا اور اپنے جائز اور ناجائز مطالبات منوانے کے لئے دباؤ ڈالے گا۔
ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا حکومت نے تحریک لبیک کے ساتھ خفیہ معاہدہ کرکے اچھا فیصلہ کیا ہے یا ایک بار پھر شدت پسندوں کے سامنے گھٹنے ٹیک کر ریاست کی رٹ کا جنازہ نکالا ہے۔ یہ سوال بھی بڑی شدت سے پوچھا جا رہا ہے کہ جب ایک ملک میں انفرادی جرم کرنے والوں کے خلاف سزائیں اور قوانین موجود ہیں تو ایک ایسی تنظیم جسے غیر ملکی ایجنٹ اور شدت پسند قرار دیا گیا ہو، اس کے ہزاروں لوگوں کے ساتھ معاہدہ کرکے انہیں محفوظ راستے دے کر کیا ریاست کے سرنڈر کی ایک بری روایت نہیں ڈالی گئی۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا تحریک لبیک سے معاہدے کے بعد یہ ضمانت دی جاسکتی ہے کہ آئندہ یہ لوگ تشدد اور مارچ کا راستہ نہیں اپنائیں گے اور کیا کل کو دیگر شدت پسند تنظیموں کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کے بعد دباؤ ڈالنے کی صورت میں عام معافی مل جایا کرے گی۔
خیال رہے کہ اس وقت پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل ہے اور تحریک لبیک جیسی کالعدم جماعت کے ساتھ حکومت کے معاہدے سے عالمی برادری کو یہی پیغام جائے گا کہ ریاست پاکستان شدت پسندوں سے نمٹنے کی بجائے ان کے آگے سرنڈر کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ یاد رہے کہ تحریکِ لبیک پاکستان اور حکومت کے درمیان اتوار کو طے پانے والا معاہدہ تاحال منظرِ عام پر نہیں آیا۔ جہاں اپوزیشن جماعتیں یہ معاہدہ منظرِ عام پر لانے کا مطالبہ کر رہی ہیں تو وہیں بعض تجزیہ کار اس معاہدے پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔بعض تجزیہ کار تحریک لبیک کے احتجاج کے بعد حکومت کے ساتھ معاہدے کو ریاست کی کمزوری سمجھتے ہیں جب کہ کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ معاہدہ کر کے ملک کو تصادم سے بچا لیا ہے۔
سابق وزیرِ داخلہ معین الدین حیدر کہتے ہیں کہ حکومت نے محاذ آرائی سے بچنے کے لیے مذہبی جماعت سے معاہدہ کیا کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ ایسا کرنے سے ملک میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ معین الدین حیدر کا کہنا تھا کہ ریاست یا فوجی اسٹیبلشمنٹ کمزور نہیں ہے کیونکہ یہ تحریکِ طالبان، جیشِ محمد اور لشکرِ جھنگوی جیسے گروہوں سے کامیابی سے نمٹ چکی ہے۔اُن کے بقول سوات اور وزیرستان میں ریاست کی رٹ برقرار رکھنے کے لیے کامیاب آپریشن کیے گئے، لہذٰا ریاست ملک کے اندر انتشار پھیلانے والے عناصر سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ مذہبی اور سیاسی تجزیہ کار پروفیسر خورشید ندیم کہتے ہیں کہ اس سارے عمل میں کالعدم جماعت کو ہر اعتبار سے کامیابی ملی ہے اور ریاست کے حصے میں کچھ نہیں آیا جب کہ مذہبی گروہوں کے ہاتھوں ریاست کو یرغمال بنانے کا عمل آگے بڑھا ہے۔ اس معاملے پر سینئر صحافی سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ لبیک سے کیے گئے معاہدے کو خفیہ رکھنے سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ شاید اس میں حکومت کی سبکی اور کمزوری کا کوئی پہلو چھپا ہے۔ اُن کے بقول معاہدے میں کچھ نہ کچھ ایسا ہے جو ریاست اور قومی مفاد کے خلاف ہے۔ اگر حکومت نے دباؤ میں آ کر یہ معاہدہ کیا ہے تو یہ پاکستان اور اس کے نظام کے لیے ایک دھچکہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا اس وجہ سے بھی ہے کہ ریاست نے خود ان تنظیموں کو وجود دیا اور پھر ان کا قد بڑھانے اور سیاسی زمین پر پاؤں جمانے میں مدد کی۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسی دوغلی اور کمزور پالیسیوں کا ریاست نے ماضی میں بھی خمیازہ بھگتا اور اب بھی بھگتنا ہو گا۔
خیال رہے کہ حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں ایک معاہدہ طے پا گیا تھا جسے ابتدائی طور پر خفیہ رکھا جا رہا ہے۔ تحریک لبیک پاکستان اور حکومت کے معاہدے پر کئی حلقوں کی طرف سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ یہ تنقید صرف حکومت کے مخالفین کی طرف سے ہی نہیں بلکہ حکومت کے کچھ حامیوں کی طرف سے بھی کی جا رہی ہے۔ تحریک لبیک نے کئی دنوں سے پنجاب کے مختلف شہروں میں کاروبار زندگی کو اپنے احتجاج کے ذریعے معطل کیا ہوا تھا۔ تحریک کے کارکنوں نے پہلے یہ دھرنا لاہور سے شروع کیا، جو شیخوپورہ سے ہوتا ہوا وزیر آباد آ کر رکا، جس کے بعد مذاکرات ہوئے۔حکومت نے اس کالعدم تنظیم کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے دھرنا ختم نہ کیا، تو اس کے خلاف طاقت کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس دھرنے اور احتجاج کے دوران کم از کم پانچ پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں جبکہ 200 سے زائد اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ پنجاب حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس دھرنے کی وجہ سے معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ حکومتی وزراء کے سخت بیانات کے بعد ایک ایسا معاہدہ جس کو بہت سے ناقدین ٹی ایل پی کے مفاد میں دیکھتے ہیں، پر سخت تنقید ہو رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر کئی ناقدین نے یہ بھی لکھا کہ ٹی ایل پی کو بھارتی خفیہ ایجنسی را کا ایجنٹ قرار دیا گیا تھا، تو کیا اب حکومت را کے ایجنٹوں سے بات چیت کر رہی ہے؟ کچھ صارفین نے یہ بھی لکھا کہ حکومت نے اس فنڈنگ کا کیا کیا، جو ٹی ایل پی کو مبینہ طور پر را سے موصول ہوئی تھی۔سیاست دانوں کی طرف سے بھی اس ڈیل پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ حکومت اب نہ صرف ‘یو ٹرن‘ لے رہی ہے بلکہ ‘ڈبل یو ٹرن‘ بھی لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے معاہدوں سے انتہا پسند قوتوں کے حوصلے بڑھیں گے اور وہ پھر سڑکوں پر آئیں گے اور حکومت کو بلیک میل کریں گے۔ دراصل اس طرح کے گروپوں کو کچھ نادیدہ قوتیں فروغ دیتی ہیں اور جب وہ جن بوتل سے باہر آ جاتا ہے، تو پھر سارا ملبہ سیاستدانوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔‘‘ پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے حوالے سے بہت سے اہم سوالات ہیں، جن کے جوابات لے کر حکومت کو پارلیمنٹ میں آنا چاہیے۔لیکن اس سے بھی پہلے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی کالعدم جماعتوں سے مذاکرات کیوں کیے جائیں؟ وہ کس بنیاد پر کیے جائیں؟ ان کو قومی دھارے میں لانے کا مطلب کیا ہے؟ اس طرح وہ اگر قومی دھارے میں آتے ہیں، تو کیا وہ پورے معاشرے کو انتہا پسندی کی طرف لے کر نہیں جائیں گے؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا گارنٹی ہے کہ یہ عناصر مستقبل میں اسطرح سڑکیں بلاک نہیں کریں گے اور کاروبار کو نقصان نہیں پہنچائیں گے؟
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کسی بھی حکومت کی جانب سے کیا جانے والا پہلا خفیہ معاہدہ ہے۔ ایسے معاہدوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی تاہم حکومت اخلاقی طور پر عمل در آمد کرنے کی پابند ہوتی ہے۔

Back to top button