پیپلز پارٹی اور نون لیگ

 

 

 

تحریر : سلیم صافی

بشکریہ : روزنامہ جنگ

 

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) دو الگ الگ بلکہ اپنی ساخت کے لحاظ سے حریف جماعتیں ہیں ۔ تحریک انصاف کی بڑی جماعت بننے تک دونوں ایک دوسرے سے الجھتی رہیں۔ ماضی میں دونوں نے ایک دوسرے کے لیڈران کو جیلوں میں بھی بند کیا اور ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات بھی لگائے ۔ کسی زمانے میں مسلم لیگ(ن) نے بے نظیر بھٹو پر الزام لگایاکہ انہوں نے سکھوں کی فہرستیں انڈیا کے حوالے کیں جبکہ ایک وقت میں بلاول بھٹو نے بھی نواز شریف کو مودی کا یار قرار دیا ۔ ان سب تلخیوں کے باوجود دونوں کو عمران خان کی سونامی نے (چونکہ عمران خان کے دور میں دونوں پارٹیوں کی قیادت کو جیل میں ڈالاگیا) اکٹھا ہونے پر مجبور کیا ۔ عمران خان کے اقتدار سے باہر ہونے کے بعد پہلے یہ دونوں جماعتیں پی ڈی ایم کے جھنڈے تلے اکٹھی اقتدار میں بیٹھیں اور پھر 2024کے انتخابات کے بعد مل کر حکومت سازی کی ۔ پیپلز پارٹی نے یہ فیصلہ کیاکہ وہ آئینی عہدے لے گی اور نہ کابینہ کا حصہ بنے گی ۔

چنانچہ صدر ، چیئرمین سینیٹ اور قومی اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پیپلز پارٹی کے حصے میں آئے ۔ ایک غیرآئینی عہدے یعنی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرمین شپ بھی پیپلز پارٹی نے لے لی جبکہ سندھ کی حکومت پوری کی پوری اس کے حصے میں آئی۔اسی طرح بلوچستان حکومت کی قیادت بھی پیپلز پارٹی کو دی گئی۔ یہ یاری ڈھائی سال تک خوش اسلوبی کے ساتھ چلی یا چلائی گئی لیکن اب اس میں کچھ دراڑیں پڑتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔

آغاز گلگت بلتستان کے انتخابات سے ہوا جہاں چونکہ پی ٹی آئی کو ٹیکنیکلی آؤٹ کیا گیا تھا اس لئے مقابلہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان رہا۔انتخابی مہم کے دوران دونوں جماعتوں کے لیڈران فرینڈلی فائر کرتے رہے لیکن نتائج آنے کے بعد (اگرچہ سبقت پیپلز پارٹی کو ملی اور اب حکومت بھی اس نے نون لیگ کے ساتھ مل کر بنائی) بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) پر دھاندلی کرنے کے الزامات لگائے اور ان کا لہجہ بھی قدرے سخت ہوگیا۔ تاہم ماحول خراب کرنے میں بنیادی کردار آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات نے ادا کیا۔ یہاں پر چونکہ پی ٹی آئی نے بائیکاٹ کیا ہوا تھا اور مقابلہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مابین ون ٹو ون تھا اس لئے دونوں جماعتوں نے جیت کیلئےبھرپور زور لگایا۔

اگرچہ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کے فیصل ممتاز راٹھور وزیر اعظم تھے (وہاں کے قانون کی رو سے انتخابات کیلئے نگران حکومت قائم نہیں ہوتی) اور پولیس و بیوروکریسی بھی ان کی مقرر کردہ تھی لیکن بلاول بھٹو صاحب انتخابی مہم کے دوران یہ الزام لگاتے رہے کہ نون لیگ دھاندلی کی کوشش کررہی ہے ۔ اب کی بار ان کے الزامات کے جواب میں میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف نے بھی جوابی وار کئے ۔

چنانچہ سردجنگ ،گرم جنگ میں تبدیل ہوگئی اور پیپلز پارٹی کے بعض رہنما نون لیگی حکومت کو طعنہ دینے لگے کہ وہ فارم 47کی پیداوار ہے ۔وہ غصے میں آکر یہ بھی نہیں سوچ رہے تھے کہ اگر حکومت فارم 47کی پیداوار ہے تو پھر خود صدر زرداری اور چیئرمین سینٹ وغیرہ بھی فارم 47کی پیداوار ہیں کیونکہ انہیں ان لوگوں نے صدر منتخب کیا جو فارم 47کی پیداوار تھے ۔

انتخابی نتائج سامنے آنے اور مسلم لیگ (ن) کی جیت کے بعد تو بلاول بھٹو کا لہجہ اور بھی تلخ ہوگیا اور یہ تک فرما گئے کہ اب حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے۔

چند روز بعد وزیراعظم میاں شہباز شریف وفد کے ہمراہ صدر آصف علی زرداری سے ملے اور یہ توقع کی جارہی تھی کہ شاید اب معاملہ رفع دفع ہوگیا لیکن ایسا نہیں تھا اور اس کے بعد بھی دونوں جماعتوں کے مابین نہ صرف تناؤ برقرار ہے بلکہ پیپلز پارٹی اعلان کر چکی ہے کہ جب تک آزاد کشمیر الیکشن سے متعلق اس کے اعتراضات کو ختم نہیں کیا جاتا وہ قانون سازی میں تعاون نہیں کرے گی ۔ دوسری طرف دباؤ بڑھانے کیلئے بلاول بھٹو زرداری نے لیڈر آف دی اپوزیشن محمود خان اچکزئی اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کی ۔

سوال یہ ہے کہ کیا نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے راستے الگ ہورہے ہیں؟۔ میرے نزدیک اس کا جواب نفی میں ہے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ یہ دونوں اپنی اپنی ساخت کے لحاظ سے کتنی ہی مخالف سہی لیکن سردست ایک کشتی کی سوار ہیں اور ایک ڈوبے گا تو دوسرے کو بھی ڈوبنا ہوگا۔انہوں نے ایک دوسرے سے اتحاد کسی اچھی نیت سے نہیں کیا بلکہ پی ٹی آئی کی وجہ سے کیا ہے یا پھر اسٹیبلشمنٹ نے دونوں کو اکٹھے کیا ہے ۔ جب تک یہ سیاسی بساط قائم ہے تو دونوں اس سے مستفید ہونا چاہیں گی اور اگر کشتی میں ایک بھی سوراخ ہوتا ہے تو پھر سب ڈوبیں گے ۔ سردست دونوں جماعتیں انتخابات کیلئے بھی تیار نہیں کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ اپنے آپ کو پی ٹی آئی کا متبادل نہیں بناسکی ہیں۔

آصف علی زرداری کی خواہش ہے کہ وہ بلاول بھٹو زرداری کو اپنی زندگی میں وزیراعظم بنادیں جبکہ میاں نواز شریف اپنی زندگی میں مریم نواز کو وزیراعظم بنتا دیکھنا چاہتے ہیں لیکن اگر اب فوری انتخابات ہوتے ہیں توکسی ایک کا خواب بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا ۔ تاہم ہم یکسر اس رائے کو بھی رد نہیں کرسکتے کہ گپ شپ میں یہ لڑائی پوائنٹ آف نو ریٹرن پر چلی جائے ۔

بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کا ایک خاص حد سے آگے جانے کا ارادہ نہیں ہوتا لیکن پھر ایک اسٹیج پر وہ رائے عامہ کے غلام بن جاتے ہیں اور بادلِ ناخواستہ ان کو وہ کام کرنے پڑتے ہیں جنہیں کرنے کا ان کا ارادہ نہیں ہوتا۔

اسی طرح درمیان میں تنگ آکر کچھ لوگ ایسا بھی کچھ کر سکتے ہیں کہ جو ان دونوں جماعتوں کو گوارا نہ ہو۔ کیونکہ وہ کچھ لوگ معاشی حالات اور کئی دیگر حوالوں سے حکومتی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں۔ ان کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ہماری طرف سے بہت کچھ کرنے کے باوجود یہ دونوں جماعتیں پی ٹی آئی کو آؤٹ نہیں کرسکیں جبکہ اب ان کی آپس کی توتو میں میں سے بھی وہ کچھ لوگ زیادہ خوش نہیں۔

 

Back to top button