ماریہ میمن نے والدہ کے انتقال کے باوجود ایس او پیز پر عمل کرکے مثال قائم کر دی

کرونا وائرس کا شکار خاتون اینکر ماریہ میمن نے والدہ کے انتقال کے باوجود ایس او پیز پر عمل کرکے لوگوں کےلیے مثال قائم کر دی، قرنطینہ میں موجود ماریہ میمن نے والدہ کے انتقال کی خبر سننے کے باوجود لوگوں کے تحفظ کی خاطر والدہ کی آخری رسومات میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
تفصیلات کے مطابق معروف پاکستانی خاتون صحافی اور اینکر ماریہ میمن نے کچھ روز قبل بتایا تھا کہ ان کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا۔
کرونا ٹیسٹ کی تشخیص کے بعد ماریہ میمن نے خود کو فوری قرنطینہ کر لیا تھا۔ اسی دوران ماریہ میمن پر اس وقت غم کا پہاڑ ٹوٹا جب ان کی والدہ انتقال کر گئیں۔ ماریہ میمن کی والدہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں اور طویل علالت کے بعد انتقال کر گئیں۔
اپنی والدہ کی آخری رسومات میں شریک نہیں ہوئی اگر میری وجہ سے کسی ایک کو بھی وائرس لگ جاتا تو خود کو کبھی معاف نہ کرپاتی، ماریہ میمن👌👌👍#11thHour@WaseemBadami @Maria_Memon pic.twitter.com/X80msxoaFQ
— Faiza Rehman (@FaizaRehman77) June 10, 2020
اس حوالے سے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے ماریہ میمن نے بتایا کہ جب ان کی والدہ کا انتقال ہوا تو وہ دوسرے شہر میں خود کو قرنطینہ کیے ہوئے تھیں۔
والدہ کے انتقال کی خبر سننے کے بعد وہ غم سے نڈھال تھیں، تاہم اس کے باوجود انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ والدہ کی آخری رسومات میں شرکت نہیں کریں گی۔ چونکہ وہ کرونا وائرس کی مریضہ ہیں، اس لیے اگر وہ والدہ کے آخری دیدار کےلیے دوسرے شہر کا سفر کرتیں تو اس سے بہت سارے لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی تھیں۔ اسی لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ قرنطینہ میں ہی رہیں گی۔
انہوں نے آن لان ویڈیو کال کے ذریعے اپنی والدہ کا آخری دیدار کیا۔ ماریہ میمن کی جانب سے ان تمام تفصیلات بتائے جانے کے بعد لوگوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر ان کی تعریف کی گئی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کےلیے والدہ کے انتقال کی صورت میں ان کے آخری دیدار سے خود کو محروم کر دینا آسان فیصلہ نہیں ہوتا، تاہم ماریہ میمن نے خود کی بجائے لوگوں کی زندگیوں کے تحفظ کو ترجیح دیتے ہوئے یہ مشکل فیصلہ بھی کر لیا، اور سب کےلیے مثال قائم کر دی۔
