مالٹا کس طرح بیماریوں سے بچاسکتا ہے

کینیڈا کی ویسٹرن اونٹاریو یونیورسٹی کی ایک طبی تحقیق میں مالٹوں کی مختلف اقسام میں موجود ایک مالیکیول نوبیلٹن کو دریافت کیا گیا جس کے استعمال سے چوہوں میں موٹاپے کی شرح میں نمایاں کمی لانے کے ساتھ اس کے مضر اثرات کو ریورس کرنے میں کامیابی ملی۔
تحقیق میں چوہوں کو زیادہ چربی، زیادہ کولیسٹرول والی غذا کا استعمال کرایا گیا جس کے ساتھ نوبیلٹن کو بھی دیا گیا اور دریافت کیا کہ اس سے انسولین کی مزاحمت اور خون میں چربی کی سطح میں کمی آئی۔
محققین کا کہنا تھا کہ ہم نے موٹاپے سے چوہوں پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کو نوبیلٹین کے استعمال سے ریورس کیا بلکہ اس سے شریانوں میں جمع ہونے والے چربیلے مواد کی سطح بھی کم ہونے لگی۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ فی الحال وہ وجہ دریافت نہیں کرسکے جس سے معلوم ہو سکے کہ یہ مالیکیول کیسے فائدہ پہنچاتا ہے۔
ان کے خیال میں یہ مالیکیول چربی کو کنٹرول کرنے والے عمل AMP Kinaseکی طرح کام کرتا ہے جو کہ جسمانی چربی گھلا کر توانائی بنانے کے ساتھ چربی بننے کے عمل کو بلاک کرتا ہے۔
تاہم جب محققین نے چوہوں پر اس مالیکیول کے اثرات کا جائزہ لینے کےلیے جینیاتی میں تبدیلیاں لاکر AMP Kinase کو نکال دیا تو بھی یہ مثبت اثر برقرار رہا۔
نتائج سے ثابت ہوا کہ نوبیلٹین AMP Kinase کی طرح کام نہیں کرتا اور اس اہم ریگولیٹر کو بائی پاس کردیتا ہے کہ جسم چربی کو کس طرح استعمال کرے اور محققین کا کہنا تھا کہ اس دریافت کے بعد بھی ہم اس سوال کا جواب نہیں پاسکے کہ نوبیلٹین کس طرح یہ کام کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ معمہ برقرار ہے مگر نتائج انتہائی اہم ہیں کیوں کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ مالیکیول AMP Kinase سسٹم میں دیگر ادویات کے کام میں مداخلت نہیں کرتا۔
اب وہ انسانوں پر اس کے اثرات کا تجزیہ کرکے جاننے کی کوشش کریں گے کہ مثبت میٹابولک اثرات کس حد تک ہمیں مل سکتے ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ روزانہ ایک گلاس اورنج جوس پینا بھی موٹاپے میں نمایاں کمی لانے میں مدد دے سکتا ہے۔
ایک گلاس اورنج جوس کی جگہ روزانہ 2 سے 3 مالٹے یا سنگترے سے بھی موٹاپے میں کمی کے ساتھ ساتھ امراض قلب اور ذیابیطس کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موٹاپا اور اس سے جڑے میٹابولک سینڈرومز دنیا بھر میں صحت کے نظام پر بہت بڑا بوجھ ثابت ہورہے ہیں اور ہمارے پاس ایسے حل بہت کم ہیں جو موثر طریقے سے کام کرسکیں، ہمیں اس دریافت کی مدد سے نئے طریقہ علاج پر زور دینا ہوگا۔
