مالکان کی تشدد کے باعث جاں بحق 8سالہ بچی کے والدین سے ‘صلح ‘ کی کوشش

8 سالہ گھریلو ملازمہ کے قتل کے الزام کا سامنا کرنے والے شادی شدہ جوڑے کے اہل خانہ نے بچی کے والدین کو ‘صلح’ کی پیشکش کی ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں پنجرے سے طوطے آزاد کرنے پر مالکان کے مبینہ تشدد کا شکار ہونے والی 8 سالہ بچی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی تھی۔ بچی کے دادا سید فضل حسین نے بتایا کہ مالکان کے اہل خانہ کی جانب سے صلح کی کوششیں کی گئی تھیں جنہیں مسترد کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ‘ہم صرف انصاف چاہتے ہیں’۔
علاوہ ازیں سید فضل حسین نے یہ بات مسترد کردی کہ بچی کے والدین نے کچھ رقم حاصل کرنے کے بعد اپنی بیٹی کو اس شادی شدہ جوڑے کے پاس راولپنڈی بھیجا تھا۔ انہوں نے کہا کہ والدین کو صرف یہ یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ ان کی بیٹی اسکول جائے گی اور اس شادی شدہ جوڑنے کی جانب سے اس کا اچھے سے خیال رکھا جائے گا جو حال ہی میں ایک بچے کے والدین بنے تھے۔ متاثرہ بچی کے دادا نے کہا کہ اس سلسلے میں تنخواہ اور کسی بھی چیز کا مطالبہ نہیں کیا گیا تھا سوائے اس کے کہ بچی کے والدین کو یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ ان کی بیٹی بہتر تعلیم حاصل کرے گی اور وہ شہر کے بہتر ماحول میں پرورش پائے گی۔ چونکہ بچی 4 ماہ قبل راولپنڈی گئی تھی، اس دوران اسے صرف 2 یا 3 مرتبہ اپنے والدین سے بات کی اجازت دی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ آخری مرتبہ عیدالفطر سے 3 روز قبل اس نے اپنی والدہ سے فون پر بات کی تھی لیکن کوئی شکایت نہیں کی تھی جو ظاہری طور پر مالکان کے ڈر کی وجہ سے نہ کی ہو۔ تاہم سید فضل حسین نے کہا کہ بچی کے والدین کو یقین تھا کہ اسے عیدالاضحیٰ پر اپنے آبائی علاقے جانے کی اجازت دی جائے گی۔
متاثرہ بچی جس کے 3 بھائی اور بہنیں تھیں، غربت کی وجہ سے اسکول نہیں جاسکی تھی اور مظفر گڑھ میں لال چندرہ میں اپنے علاقے میں مدرسے میں زیر تعلیم تھی۔
سینئر پولیس اہلکار نے بتایا کہ پولیس نے مالکان کے موبائل فونز سے کچھ ویڈیو کلپس بھی حاصل کیے ہیں جس میں دیکھا گیا کہ بچی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پنجرے میں بند کیا گیا۔ دوسری جانب پولیس نے بچی پر جنسی حملے کی تصدیق کے لیے ملزم کے ڈی این اے ٹیسٹ کا فیصلہ بھی کیا ہے کیوں کہ پولیس پہلے ہی ایف آئی آر میں ریپ الزامات کی دفعہ شامل کرچکی ہے۔
پولیس نے مالکان کا 4 روزہ ریمانڈ حاصل کیا تھا بعدازاں 6جون کو اس میں مزید 3 روز کی توسیع کی گئی تھی۔ اس حوالے سے پولیس کے تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزمان نے بچی کو تشدد کا شکار بنانے کا اعتراف کرلیا تھا جو اس کی موت کا باعث بنی لیکن اسے جنسی حملےکا نشانہ بنانے سے انکار کیا تھا۔
خیال رہے کہ 31 مئی کو راولپنڈی میں ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی زہرہ کو زخمی حالت میں بیگم اختر رخسانہ میموریل ہسپتال لایا گیا تھا۔ تاہم اسپتال لانے کے کچھ دیر بعد ہی زہرہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گئی اور مالکان کو اسی روز گرفتار کرلیا گیا تھا۔
مذکورہ واقعے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر عوام سمیت سیاستدانوں نے بھی 8 سالہ بچی کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button