ماں بیٹی سے اجتماعی زیادتی کے ملزمان گرفتار

سی سی پی او لاہور نے کہا ہے کہ ماں بیٹی سے اجتماعی زیادتی کے ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے، ملزمان نے وہاڑی میلسی سے آئی ماں بیٹی کو ایل ڈی اے ایونیو ون میں زیادتی کا نشانہ بنایا، دونوں ملزمان کو سزائے موت دلائی جائے گی، ایک ملزم ریپ کیس میں ریکارڈ یافتہ ہے، جس اہلکار نے 71 سالہ بزرگ کو گرفتار کیا، اس کومعطل کردیا ہے۔
انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں رکشے میں خواتین کے ساتھ زیادتی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، ماں اور بیٹی کیساتھ یہ واقعہ لنک روڈ طرز پر دلخراش واقعہ پیش ہے، ماں بیٹی وہاڑی میلسی سے آرہی تھیں، چوہنگ میں اتر کر رکشہ لیا ، رکشے کا نمبر ایل ای یو 4882 تھا، اس رکشے میں دو لوگ سوار ہوگئے، رکشے والے نے بتایا کہ یہ ہیلپر ہے، انہوں نے کینٹ کی طرف جانا تھا، رکشے والے نے ڈیفنس روڈ کی طرف جانے کی بجائے ایل ڈی اے ایونیوون کی طرف رکشہ موڑ کر خالی پلاٹوں کے پاس رکشہ روکا اور وہاں خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا،ان میں ایک ملزم ریکارڈ یافتہ ہے ، پہلے بھی دو بار ریپ کیس کے مقدمات ہیں۔
ملزمان دوران گینگ ریپ ماں بیٹی کو تشدد کا نشانہ بناتے رہے، ملزمان زیادتی کی سنگین واردات کے بعد موقع سے فرار ہو گئے تھے، اب اس میں 392 دفعہ بھی لگا دی ہے۔ یہ واقعہ بھی موٹروے لنک روڈ واقعے کی طرح دلخراش ہے۔ سی سی پی او لاہور نے کہا کہ مینارپاکستان کیس میں 71 سالہ بزرگ کو غلطی کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھا، جب بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی جاتی ہیں تو غلطی بھی ہوسکتی ہے، جس نے بزرگ کو گرفتار کیا اس کو شوکاز نوٹس دیا اور معطل بھی کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کے جان ومال کی حفاظت پولیس کی اولین ترجیح ہے،زیادتی کے ملزمان کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
