مجوزہ منی بجٹ، حکومت اور اپوزیشن کی آزمائش
تحریر: نصرت جاوید
قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مزاحمت یا مفاہمت کے سوال پر غور کرتے ہوئے عملاً مفلوج ہو چکی ہے۔ دوسری بڑی جماعت کو ایسا مخمصہ لاحق نہیں۔ امید بلکہ یہ باندھے ہوئے ہے کہ عمران حکومت اگر اپنی پانچ سالہ آئینی مدت مکمل کرلے تو آئندہ انتخابات لڑنے کے لئے ڈیرے اور دھڑوں والے الیکٹ ایبلز تحریک انصاف کا ٹکٹ حاصل کرنے کے خواہاں نہیں ہوں گے۔ نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ کا مقتدر حلقوں سے مک مکانہ ہوا، وہ اپنے لئے معافی تلافی کا ماحول نہ بنا پائی تو الیکٹ ایبلز کی موثر تعداد بالآخر ”۔ سب پہ بھاری“ کی فراست سے رجوع کرنے کو ترجیح دے گی۔
سندھ کے ووٹ بینک پر کامل گرفت کے بعد پیپلز پارٹی لہٰذا جنوبی پنجاب اور پاکستان کے دیگر علاقوں سے قومی اسمبلی کی چند نشستیں جیتنے کے بعد واحد اکثریتی جماعت کی حیثیت میں ابھرسکتی ہے۔ گجرات کے چودھریوں، بچی کھچی ایم کیو ایم اور آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والوں کے ساتھ دوستانہ مذاکرات کے ذریعے وہ سندھ کے علاوہ وفاق میں بھی حکومت بناسکتی ہے۔ پنجاب سمیت ملک کے دیگر صوبوں میں بھی شاید مخلوط حکومتوں سے گزارہ کرنا ہو گا۔ مستقبل کے نقشے بناتی اس جماعت کے پاس لمحۂ موجود پر توجہ مرکوز کرنے کی فرصت نہیں۔
اپوزیشن جماعتوں کے اندیشے اور منصوبہ ہائے دور ودراز عمران حکومت کو اسی باعث کھلا میدان فراہم کیے ہوئے ہیں۔ اسے رعونت میں یاد ہی نہیں رہا کہ فقط چھ ماہ قبل رواں مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے شوکت ترین صاحب نے سینہ پھلاتے ہوئے سب اچھا کی نوید سنائی تھی۔ مصررہے کہ پاکستان کی معیشت سنبھلنے کے بعد اب مزید ترقی اور خوش حالی کی راہ پر گامزن ہو چکی ہے۔ نمو کے سفر کو تیزی سے جاری رکھنے کے لئے لازمی ہے کہ بجلی اور گیس کے نرخوں میں مزید اضافہ نہ ہو۔ آئی ایم ایف کو قائل کر دیا جائے کہ وہ ان میں اضافے کے لئے پاکستان کو مجبور نہ کرے۔
شوکت ترین صاحب قومی اسمبلی کے بجٹ سیشن میں سینہ پھلاکر تواتر سے سب اچھا ہے کی جو کہانیاں سناتے رہے ان کی اصلیت ستمبر کے آغاز ہی سے ہمارے سامنے آنا شروع ہو گئی تھی۔ اس کے باوجود شوکت ترین صاحب رعونت سے اصرار کرتے رہے کہ منی بجٹ نامی کوئی شے متعارف نہیں کروائی جا رہی۔ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے علم معاشیات کی مبادیات سے بھی نابلد مجھ جیسے صحافی منی بجٹ پیش ہونے کی بے بنیاد افواہیں پھیلارہے ہیں۔
اتوار کی صبح یہ کالم لکھنے سے قبل مگر اخبارات دیکھے تو علم ہوا کہ قومی اسمبلی کا ایک اور سیشن پیر کی سہ پہر چار بجے طلب کر لیا گیا ہے۔ یہ طلبی خارج از امکان نہیں تھی۔ تاثر مگر یہ پھیلایا گیا تھا کہ مطلوبہ اجلاس 20 دسمبر کے بعد بلایا جائے گا۔ اس سے قبل پارلیمان کی بلڈنگ کو او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس کے لئے تیار کیا جا رہا ہے۔ مجوزہ اجلاس میں مسلم امہ کے تمام ممالک یکجا ہو کر نام نہاد عالمی برادری کو اس امر پر قائل کریں گے کہ وہ افغانستان میں طالبانی بندوبست کو باقاعدہ حکومت کی حیثیت میں جلد از جلد تسلیم کر لیں۔ اسے امریکہ میں فریز ہوئی رقوم فراہم کردیں۔ یہ رقوم میسر نہ ہوئیں تو افغانستان میں فقط کاروباری دھندے ہی تباہ وبرباد نہیں ہوں گے۔ لاکھوں گھرانے بھی قحط سالی کی وجہ سے سرما کے شدید موسم میں کامل فاقہ کشی کی نذر ہوجائیں گے۔
افغانستان کی فکر میں مبتلا حکومت کو مگر اچانک یاد آ گیا ہے کہ امریکہ اور یورپ میں 20 دسمبر کے بعد کرسمس کے تہوار کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں۔ بہتر یہی ہو گا کہ چھٹیوں کے موسم سے قبل ہی پاکستان کی پارلیمان سے منی بجٹ منظو رکروالیا جائے۔ اس بجٹ کی منظوری کی خبر آئی ایم ایف تک رواں دسمبر کے اختتام تک پہنچ گئی تو اسے آئندہ برس کی جنوری کے ابتدائی ایام میں پاکستان کو ایک ارب ڈالر فراہم کرنے میں آسانی ہوگی۔
مذکورہ رقم کے حصول کے لئے شوکت ترین صاحب کو کم از کم 300 ارب روپے کے اضافی ٹیکس متعارف کروانا ہیں۔ یہ جاننے کے لئے آپ کو کسی غیر ملکی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہرگز درکار نہیں کہ گراں قدر اضافی ٹیکسوں کا بوجھ بالآخر میرے اور آپ جیسے محدود آمدنی والوں اور دیہاڑی داروں ہی کو اٹھاناہو گا۔ منی بجٹ کی منظوری کے بعد مہنگائی کی نئی لہر رونما ہوگی جو اب تک آئی لہروں کے مقابلے میں کئی گنا شدید ہوگی۔
قومی اسمبلی میں مبینہ طور پر میرے اور آپ جیسے محدود آمدنی والے اور دیہاڑی داروں سے لئے ووٹ والے لوگ ہی بیٹھے ہیں۔ ہمیں معاشی پریشانیوں سے بچائے رکھنا ان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اپنی بھاری بھر کم تعداد کے باوجود مگر اپوزیشن جماعتیں عمران حکومت کے قیام سے آج تک ہمیں مطلوبہ تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ ان کی بڑھکیں اور آنیاں جانیاں حکومت کو حال ہی میں ایک دن میں پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے 33 قوانین کو یکمشت منظور کروانے سے بھی روک نہیں پائیں۔
اس کالم میں چند دن قبل عرض کرچکا ہوں کہ ایک دن میں جو قوانین یکمشت پاس ہوئے تھے منی بجٹ ان کے مقابلے میں مالیاتی بل شمار ہوتا ہے۔ حکومتی بنچوں پر ان دنوں بیٹھا کوئی رکن اسمبلی اس کی منظوری کے عمل کے دوران دانستہ طور پر غیر حاضر ہوا تو اس کے خلاف فلور کراسنگ کا الزام لگایا جاسکتا ہے۔ یہ الزام ثابت ہو جائے تو منی بجٹ کے خلاف ووٹ ڈالنے یا اس کی منظوری کے عمل سے دانستہ غیر حاضر رہنے والے اراکین اسمبلی بالآخراپنی نشستوں سے محروم بھی ہوسکتے ہیں۔ اس حقیقت کو نگاہ میں رکھتے ہوئے میں اعتماد سے یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ عمران حکومت 300 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگانے والے منی بجٹ کو بآسانی منظور کروالے گی۔
اپوزیشن کے کئی سرکردہ رہ نما مگر اپنے بیانوں میں ڈھٹائی سے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ موجودہ قومی اسمبلی میں حکومتی بنچوں پر براجمان کم از کم 25 سے 35 اراکین ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ وہ اس امر کے خواہا ں ہیں کہ اپوزیشن جماعتیں آئندہ انتخاب لڑنے کے لئے انہیں ٹکٹ فراہم کرنے کی راہ بنائیں۔ مذکورہ دعویٰ کو درست ثابت کرنے کے لئے منی بجٹ کی منظوری کے عمل سے بہتر موقعہ مل نہیں سکتا۔ اپوزیشن رہ نماؤں سے جو حکومتی اراکین مبینہ طور پر خفیہ رابطے کر رہے ہیں انہیں صاف الفاظ میں بتایا جاسکتا ہے کہ منی بجٹ کی منظوری کے لئے سرجھکاکر انگوٹھا لگانے کے بعد وہ مہنگائی کی شدید ترین لہر پھیلانے کے سہولت کار تصور ہوں گے۔
ایسے ”عوام دشمنوں“ کو اپوزیشن جماعتوں میں کھپانے کی گنجائش اس کے بعد باقی نہیں رہے گی۔ شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری اگر واضح انداز میں یہ پیغام دینے میں ناکام رہے تو میرے اور آپ جیسے محدود آمدنی والوں اور دیہاڑی داروں کے لئے وہ اور ان کی جماعتیں بھی مہنگائی کی نئی اور شدید ترین لہر پھیلانے کی حکومت کے ساتھ برابر کی ذمہ دار تصور ہوں گی۔ خلق خدا اس کے بعد تحریک لبیک جیسی جماعتوں یا گوادر میں ابھری تحریکوں جیسے عوامی ابال کا ساتھ دینے کومجبور محسوس کرے گی۔
