مجھے شریفوں نے 10 ارب روپے رشوت کی پیشکش کی

چار سال کی پس و پیش کے بعد نواز لیگ کے سربراہ شہباز شریف کے ہتک عزت کے دعوے کا جواب عدالت میں جمع کرواتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے اس الزام کو دہرایا ہے کہ انکے ایک دوست کے پاس انکا اور شریف خاندان کا ایک مشترکہ واقف کار یہ پیشکش لے کر آیا تھا کہ اگر وہ سپریم کورٹ میں پاناما پیپرز کیس کی پیروی سے باز آ جائیں تو انہیں 10 ارب روپے دیے جائیں گے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی جانب سے 2017 میں دائر ہتک عزت کے مقدمے کے جواب میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ انہوں نے عوامی مفاد میں اس واقعے کا تذکرہ کیا اور اسکا مقصد کسی کی بدنامی کرنا نہیں تھا۔
سیشن کورٹ میں عمران خان کی قانونی ٹیم کی جانب سے دائر جواب میں کہا گیا کہ ’اس معاملے سے متعلق خان صاحب کا بیان بے بنیاد نہیں ہے کیونکہ یہ ایک سچے واقعہ پر مبنی تھا۔ جواب میں مزید کہا گیا کہ عمران خان نے اس واقعے سے متعلق بیان کو مدعی شہبازشریف سے منسوب نہیں کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مدعی اور مدعا علیہ سیاسی حریف ہیں اور دو عشروں سے زیادہ عرصے سے سیاسی میدان میں ایک دوسرے کا سامنا کر رہے ہیں اور شہباز شریف تو خود بھی ماضی میں عمران کے خلاف بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی بیانات دیتے رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے اپنے جواب میں اس بات کا اعادہ کیا کہ اس واقعے کا بیان کرنا عوامی مفاد میں تھا اور اسے منصفانہ انداز میں پبلک کیا گیا۔ عمران کا موقف ہے کہ انکا دعویٰ کسی بھی طرح سے غلط یا بدنیتی پر مبنی نہیں تھا۔
وزیر اعظم عمران خان نے عدالت سے استدعا کی شہباز شریف کی جانب سے دائر مقدمہ خارج کیا جائے۔ اپنے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اس مقدمے کی سماعت کے لیے عدالت کے دائرہ اختیار کو بھی چیلنج کرتے ہیں۔ اس سے قبل وزیر اعظم عمران خان کی قانونی ٹیم نے عدالت کے دائرہ اختیار پر بھی سوال اٹھائے تھے تاہم خود ہی دستبرداری اختیار کرلی تھی۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مدثر فرید نے مقدمے کی مزید سماعت 4 اگست تک ملتوی کردی۔ شہباز شریف کے قانونی ٹیم نے عدالت سے آئندہ سماعت پر فریم جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔ یاد رہے کہ 2017 میں دائر ہتک عزت کے مقدمے میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے شہباز کے خلاف جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی بیانات دیے کہ انہوں نے سپریم کورٹ میں زیر التوا پاناما پیپرز کا معاملہ واپس لینے کے عوض ایک مشترکہ دوست کے ذریعے انہیں 10 ارب روپے کی پیش کش کی۔شہباز شریف نے عمران خان کو قانونی نوٹس دیا تھا اور موقف اپنایا تھا کہ وہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے 14 دن کے اندر معافی مانگیں۔ چونکہ وزیراعظم نے معافی نہیں مانگی تھی چنانچہ ہرجانے کی وصولی کے لیے شہباز نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔
اس مقدمے میں استدعا کی گئی تھی کہ میڈیا کے ذریعے مدعا علیہ کی طرف سے مبینہ طور پر پھیلائے جانے والے بے بنیاد اور توہین آمیز بیانات نے مدعی کی سالمیت کو متاثر کیا اور یہ ان کے لیے انتہائی ذہنی اذیت اور اضطراب کا باعث بنا۔ شہباز شریف نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ وہ مدعی کے حق میں ہتک عزت آمیز مواد کی اشاعت کے معاوضے کے طور پر 10 ارب روپے کی وصولی کا حکم جاری کرے۔
