محب وطن وارث میر غدار کیسے ہو گیا؟

تحریر: عطاء الحق قاسمی

کچھ عرصے سے پاکستان کی بائیس کروڑ آبادی میں سے چوبیس کروڑ پاکستانیوں کو غدار قرار دیا جا رہا ہےلیکن میرے لئے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ پاکستان کی اصل آبادی سے زیادہ غداروں کے ہوتے ہوئے اب ان لوگوں کو بھی غدار قرار دیا جا رہا ہے جو کب سے اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں۔ ان میں ایک میرے بہت پیارے دوست پروفیسر وارث میر بھی ہیں۔ پاکستان بھر کے صحافیوں کی تنظیموں کی طرف سے انہیں غدار کہنے والوں کے خلاف غیظ و غضب سے بھری ہوئی قراردادیں منظور ہوئی ہیں جو کہ حوصلہ افزا بات ہے۔
برادرم وارث میر سے میرے دوستانہ تعلقات کا عرصہ کم از کم پچیس برس پر محیط ہے۔ ہم دونوں ایک ہی اخبار یعنی نوائے وقت میں کالم لکھتے تھے، کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ مجید نظامی مرحوم و مغفور کے اخبار میں کسی ایسے شخص کو جگہ مل سکتی تھی جس کی حب الوطنی کے بارے میں کسی کو رتی بھر بھی شبہ ہو۔
وارث میر کی کالم نگاری کا ذکر میں نے کالم کا رتبہ بلند کرنے کے لئے کیا ہے ورنہ وہ ایک مفکر تھے اور اسلامی سوشلزم کے علمبرداروں میں سے تھے۔ اس دور میں پروفیسر محمد عثمان اور حنیف رامے بھی اسلامی سوشلزم کے پرچارک تھے بلکہ اگر میرا حافظہ غلطی پر نہیں تو اسلامی سوشلزم کے حوالے سے وارث میر کے مضامین حنیف رامے کی زیر ادارت ایک جریدے نصرت میں بھی شائع ہوتے تھے۔ شاید بہت سوں کو علم نہ ہو کہ نوائے وقت کے بانی مجید نظامی مرحوم بھی اسلامی سوشلزم کے حامیوں میں سے تھے اگر میں غلط ہوں تو برادرم ڈاکٹر صفدر محمود اور برادرم مجیب الرحمٰن شامی اور دوسرے اہلِ علم دوست میری اصلاح کر سکتے ہیں کہ آیا قائداعظم نے بھی اپنی ایک تقریر میں اسلامی سوشلزم کا ذکر کیا تھا کہ نہیں؟
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایک بڑے اسکالر اور ایک بڑے محب وطن کو کچھ سیاسی بونوںنے غدار کہنا کیوں شروع کیا ؟تو اس کا پس منظر یہ ہے کہ وارث میر، آئی اے رحمان، احمد ندیم قاسمی، طاہرہ مظہر علی خان، حبیب جالب، قسور گردیزی، ملک غلام جیلانی، جاوید ہاشمی کے علاوہ چند لوگ اور تھے جنہوں نے مشرقی پاکستان میں آرمی ایکشن کی مذمت کی تھی کیونکہ وہاں عوام کا قتل عام ہوا تھا۔پروفیسر وارث میر تب پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات میں پروفیسر تھے وہ بطور سٹوڈنٹس ایڈوائیزرطالبعلموں کا ایک گروپ لے کر مشرقی پاکستان گئے تاکہ بنگالی بھائیوں کو مغربی پاکستان کی طرف سے خیر سگالی کا پیغام دیا جائے۔ ان دنوں سارا مغربی پاکستان خاموش تھا ،مشرقی پاکستان میں نہتے عوام کے خلاف آرمی ایکشن کے خلاف بس چند ایک آوازیں ہی سنائی دیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس فوجی ایکشن کے دوران بنگالی عوام کے ساتھ خاصی زیادتیاں بھی ہوئیں مگرہماری آرمی کو بدنام کرنے کیلئے بھی اس حوالے سے مغربی میڈیا میں بہت مبالغہ آرائی کی گئی۔
قصہ مختصر بنگلہ دیش بن گیا اور اس کے بعد پاکستان کے بہت سے عاشق اس صدمے کی تاب نہ لا کر ہارٹ اٹیک سے فوت ہو گئے۔ میرے والد مرحوم مولانا بہاء الحق قاسمیؒ اس روز امامت کے دوران سجدے میں گئے تو ہچکیاں لے لے کر رونا شروع کر دیا اور یہی حالت مقتدیوں کی تھی۔
بہرحال بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت نے آرمی ایکشن کے دوران نہتے بنگالی عوام سے خیر سگالی کا اظہار کرنے والےمرحوم دانشوروں کو ایوارڈ دینے کے لئے دنیا کے مختلف ملکوں سے بنگلہ دیش مدعو کیا۔ ان میں پروفیسر وارث میر کا نام بھی شامل تھا ،ان کے صاحبزادے حامدمیر نے ان کایہ ایوارڈ وصول کیا۔حامد میر تو کئی دوسرے دبنگ صحافیوں کی طرح پہلے سے ’’غداروں‘‘ کی فہرست میں شامل تھےلیکن اس واقعےکے بعد تو ان کی ’’غداری‘‘ پر مہر تصدیق ثبت ہو گئی۔ جنابِ والا! اگر میری گواہی کی کوئی حیثیت ہے تو پلیز آپ یقین کر لیں کہ وارث میر پاکستان کے عاشقوں میں سے تھے اور حامد میر کو بھی پاکستان سے عشق وراثت میں ملا ہے۔ حامد میر پاکستان کے عشق میں چھ گولیاں کھا چکا ہےاوریہ پاگل عاشق تو پاکستان کیلئے انڈین فوج کی گولیاں کھانے کیلئے بھی تیار ہے۔ یہ تحریرلکھنے کے دوران مجھے شک گزرا ہے کہ اب میری اپنی حب الوطنی بھی مشکوک ہو رہی ہے مگر اس سے پہلے یہ جان لیں کہ انڈیا مجھے ’’پرسونا نان گراتا‘‘ قرار دے چکا ہے اور یہ تمغہ میرے ہندوستان کے سفرنامے کی اشاعت کے بعد میرے ماتھے پر سجایا گیا تھا!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button