پروفیسر وارث میر کی وصیت

تحریر: حامد میر

پنجاب اسمبلی نے 9جون2020 اور سندھ اسمبلی نے 15جون 2020 کوپروفیسر وارث میر کے حق میں قرارداد یں منظور کیں تو مجھے اُن کی وصیت یاد آ گئی۔ اس وصیت کا ذکر میں نے اُن کی زبان سے بھی سنا تھا لیکن یہ وصیت 1983میں اُنہوں نے اپنےایک کالم میں بھی شائع کی تھی جس کا عنوان تھا ’’ایک خواب جو حقیقت بن گیا‘‘۔ ان کا یہ کالم ’’وارث میر کہانی‘‘ میں بھی شامل ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جنرل ضیاء الحق نے جب 1977میں مارشل لاء لگانے کے بعد صحافت پر بھی پابندیاں لگا دیں تو پروفیسر وارث میرایم فل کرنے کے لیے برطانیہ میں موجود تھے۔ وہ سٹی یونیورسٹی لندن میں دورانِ تعلیم بیمار پڑ گئے۔ ان کا ایک اسپتال میں ہرنیا کا آپریشن ہوا جو بگڑ گیا اور ان کی حالت بہت خراب ہو گئی۔ ڈاکٹروں نے انھیں کہا کہ اپنی وصیت لکھ دیں۔ پروفیسر وارث میر نے ایک مختصر وصیت تحریر کی جو کچھ یوں تھی ’’میں اپنی تمام منقولہ اور غیرمنقولہ جائیداد اپنی اہلیہ کے نام منتقل کرتا ہوں اور اپنے بچوں کو تاکید کرتا ہوںکہ وہ اسلام اور پاکستان کی جنگ جاری رکھیں‘‘۔ یہ وصیت 1978میں لکھی گئی اور اُس وقت مجھ سمیت اُن کے تمام بچے اسکول میں پڑھتے تھے لیکن وہ تب بھی اپنے بچوں سے اسلام اور پاکستان کی جنگ جاری رکھنے کی توقع رکھتے تھے۔والد صاحب کے مطابق ان کی اس وصیت کا اسپتال کے ڈاکٹروں، نرسوں اور مریضوں نے بہت مذاق اڑایا اور پروفیسر وارث میر کو ’’مسٹر میر! سولجر آف اسلام، اللہ اکبر‘‘ کہا جاتا۔ مذاق کے اس ماحول میں اُنہوں نے خواب میں خانہ کعبہ کی زیارت کی اور کچھ دنوں بعد لندن کے اسپتال میں اپنا مضحکہ اڑواتے ہوئے صحت یاب ہوتے ہی مکہ جا پہنچے اورحج اکبر ادا کر ڈالا۔ اسی پروفیسر وارث میر کے بارے میں پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض چوہان نے 23؍مئی2020 کو ایک وڈیو بیان جاری کیا اور اُنہیں غدارِ وطن قراردے دیا۔ بدزبان چوہان کو غصہ تو مجھ پر تھا کیونکہ میں نے ایک ٹی وی پروگرام میں وزیراعلیٰ پنجاب پر تنقید کی تھی لیکن وہ میرے والد مرحوم پر حملہ آور ہو گیا اور کہا کہ وارث میر نے 1971میں بھارتی فوج اور مکتی باہنی کی حمایت کی اور پھر خود بنگلہ دیش جا کر وزیراعظم حسینہ واجد سےفرینڈز آف پاکستان ایوارڈ وصول کیا، اسی غصے میں پنجاب حکومت نے پچھلے سال پنجاب یونیورسٹی کے قریب واقع وارث میر انڈر پاس کا نام بھی تبدیل کر دیا۔
وزیر اطلاعات کے اس وارث میر مخالف بیان پر پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن رکن خلیل طاہر سندھو نے احتجاج کیا تو اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے گواہی دی کہ وہ وارث میر کو ذاتی طور پر جانتے تھے اور وہ ایک محبِ وطن پاکستانی تھے۔ اگلے دن 9؍جون 2020کو خلیل طاہر سندھو نے پنجاب اسمبلی میں وارث میر کی جمہوریت اور آزادیٔ صحافت کے لئے خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے قرار داد پیش کی جسے حکومت اور اپوزیشن نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ اس قرارداد کی اہمیت یہ ہے کہ 23مئی2020 کو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اطلاعات نے جس شخص کو غدارِ وطن قرار دیا 9جون2020 کو اُسی صوبے کی منتخب اسمبلی نے اپنی قرار داد کے ذریعہ غدارِ وطن قرار دیے جانے والے وارث میرکو ایک محبِ وطن پاکستانی قرار دے دیا۔ پاکستان میں غداری کے فتوؤں کے خلاف یہ قرار داد ایک پہلی موثر شعوری کوشش تھی جس میں حکومت اور اپوزیشن یک زبان تھیں۔پنجاب اسمبلی سے اس قراردادکی منظوری کے ایک ہفتے بعد سندھ اسمبلی نے بھی 15جون2020کو متفقہ طور پر پروفیسر وارث میر کی قومی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے حق میں ایک قرارداد منظور کی ۔ قرارداد میں کہا گیا کہ سندھ اسمبلی کا ایوان پروفیسر وارث میر کو جمہوریت ، انسانی حقوق، آزادئ صحافت اور صوبائی خودمختاری کے معاملے پر ان کی گرانقدر خدمات کے اعتراف میں انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہےاور ان کی حب الوطنی پر اٹھائے گئے سوالات کی مذمت کرتے ہوئے واضح کرنا چاہتا ہے کہ سچ بولنے اور کلمہ حق کہنے والے اہل فکر و دانش اور سیاستدانوں کو غدار قرار دینے کی روایت نے پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچایا ہے اور اب اس روش کو ختم ہونا چاہیے۔
مجھے نہیں معلوم کہ پروفیسر وارث میرکو فیاض چوہان نے کس کے کہنے پر غدار قرار دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ پروفیسر وارث میر کو چند برس قبل فیض احمد فیضؔ، حبیب جالب اور غوث بخش بزنجو سمیت کچھ دیگر پاکستانیوں کے ہمراہ ’’فرینڈز آف بنگلہ دیش‘‘ ایوارڈ (بعد از مرگ) سے نوازا گیا تھا، یہ وہ پاکستانی تھے جنہوں نے 1971کے فوجی آپریشن کی مخالفت کی تھی۔ پروفیسر وارث میر کا ایوارڈ میں نے وصول کیا تھا۔ فیض احمد فیضؔ کا ایوارڈ ان کی صاحبزادی سلیمہ ہاشمی نے وصول کیا اور پاکستان واپس آ کر اُنہوں نے پنجاب کے نگران وزیر اطلاعات کا حلف اُٹھایا تھا۔ یہ ایوارڈ وصول کرنے کی وجہ صرف اور صرف بنگلہ دیش اور پاکستان کے تعلقات کو بہتر بنانا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب حسینہ واجد نے بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم کو پاکستان بھیجنے سے انکار کیا تو میں نے ایوارڈ واپس کرنے کا اعلان کیا جس پر مجھے بنگلا دیشی حکومت کی طرف سے کچھ عرصہ خاموشی کا پیغام دیا گیا اور پھر بنگلہ دیش نے اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے کا اعلان کر دیا۔
آج بنگلہ دیش اور بھارت کے تعلقات میں وہ گرم جوشی نہیں رہی جو کچھ سال پہلے تھی لیکن افسوس کہ آج بھی کچھ نام نہاد محبِ وطن بنگلہ دیش اور بھارت کو ایک ہی نظر سے دیکھتے ہیں۔ وارث میر نے 1971کےفوجی آپریشن کی مخالفت کی لیکن مکتی باہنی کی حمایت نہیں کی تھی جیسا کہ الزام لگایا گیا۔ وہ اکتوبر 1971میں پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ کا ایک وفد لے کر ڈھاکا یونیورسٹی گئے۔ وفد میں حفیظ خان، جاوید ہاشمی، راشد بٹ مرحوم اور کچھ دیگر طلبہ شامل تھے۔ یہ وفد حکومت کی منظوری سے گیا اور ڈھاکا میں اس وفد پر خود کش حملے کی کوشش بھی ہوئی۔ اس دورےکے دوران وارث میر نے وہاں جو دیکھا وہ فوری طور پر شائع نہ ہو سکا کیونکہ ملک میں صحافت پر سنسرشپ عائد تھی۔ اُن کا یہ سفر نامہ دسمبر 1985میں روزنامہ جنگ میں شائع ہوا اور یہ ’’وارث میر کہانی‘‘ میں بھی شامل ہے۔ اس تجزیاتی سفر نامے میں آپ کو وارث میر کی بنگالیوں کے لئے محبت ضرور نظر آئے گی کیونکہ وارث میر بنگالیوں کو پاکستان کا اصل خالق سمجھتے تھے۔ وارث میر کی تحریروں میں آپ کو آمریت، مذہبی انتہاء پسندی اور ابن الوقت اہلِ صحافت و دانش کی مذمت نظر آئے گی لیکن وہ اپنی ہر تحریر میں اسلام، پاکستان، جمہوریت اور آزادی صحافت کی جنگ لڑتے نظر آئیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button