محرم کے دوران پنجاب میں کرونا کی دوسری لہر اٹھنے کا خدشہ

طبی ماہرین نے محرم الحرام کے دوران احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کرنے پر ایک بار پھر پنجاب میں کرونا وائرس کی دوسری لہر کے بارے میں خبردار کیا ہے
صوبائی محکمہ صحت کے مطابق حکومت پنجاب نے لاہور، راولپنڈی اور گوجرانوالہ کے 17 علاقوں/مقامات پر مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ان میں سے 12 لاہور میں، 3 راولپنڈی میں، اور دو گوجرانوالہ میں نشاندہی کی گئی۔ انہوں نے کہا مائیکرو لاک ڈاؤن کے تحت کہ لاہور کے 17 مقامات میں سے 19 ہزار 538 افراد کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ راولپنڈی میں 947 اور گوجرانوالہ میں 53 افراد کو چند پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حکام کے مطابق ایک متعلقہ پیش رفت میں حکومت پنجاب نے عیدالاضحی کے بعد پورے صوبے میں 59 ہزار 815 افراد کے اسمارٹ سیمپلنگ کی۔ان میں سے 95 میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی جو وائرس کی منتقلی کا بہت معمولی تناسب ظاہر کرتا ہے۔
اسمارٹ سیمپلنگ کے دوران لوگوں سے شاپنگ مارکیٹس اور مختلف برادریوں کے ٹیسٹ کے لیے نمونے لیے گئے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق مارکیٹوں سے 34 ہزار 282 افراد کے نمونے لیے گئے، شاپنگ پلازوں سے 4 ہزار 810، سیاحتی مقامات سے 5 ہزار 953، ہوٹلوں سے 2 ہزار 255، ریستورانٹس سے 2 ہزار 18، مزارات سے 684، پولیو/صحت سے متعلق رضاکاروں سے 4 ہزار 658، سرکاری افسران سے 3 ہزار 968 اور مجالس، جلوسوں سے ایک ہزار 180 نمونے لئے گئے۔
صوبائی محکمہ صحت کے ایک عہدیدار کے مطابق عید الاضحٰی کے پیش نظر لوگوں میں مذہبی سرگرمیوں کے دوران لوگوں کے ایک دوسرے سے قریبی جسمانی رابطے بڑھے جس کی وجہ سے وائرس کی بحالی کے خطرات لاحق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ جاننا بہت حوصلہ افزا ہے کہ نئے مثبت کیسز میں کوئی اضافے کی اطلاع نہیں ملی ہے جو اسمارٹ نمونے لینے کے نتیجہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا طبی اور صحت کے ماہرین کو خوف ہے کہ یہ خطرہ ابھی بھی موجود ہے کیونکہ محرم کے دوران مجالس میں ایس او پیز کی مسلسل خلاف ورزی جاری ہے. ان کا کہنا تھا کہ عوام کی جانب سے اگر اضتیاط نہ کی گئی تو آنے والے دنوں میں کرونا کیسز میں اضافہ ہو سکتا ہے.
