محسن داوڑ کا منظور پشتین کے بغیر سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ سمیت پی ٹی ایم رہنماؤں کے ایک بڑے گروپ نے باقاعدہ طور پر اپنی سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں افراسیاب خٹک بھی انکے ساتھی ہوں گے۔ تاہم پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین نئی سیاسی جماعت کا حصہ نہیں ہوں گے چونکہ وہ پارلیمانی نظام سیاست کو تسلیم نہیں کرتے۔ یاد رہے کہ منظور پشتین نے ماضی میں کہا تھا کہ اگر پی ٹی ایم سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص انتخابات میں حصہ لیتا ہے تو یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہوگا.
اب معلوم ہوا ہے کہ محسن داوڑ اور دیگر پشتون سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ایک باقاعدہ سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ 22 فروری کو ایک اجلاس میں کیا گیا جس میں محسن داوڑ سمیت عوامی نیشنل پارٹی کے سابق سینیٹر افراسیاب خٹک، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر لطیف آفریدی ایڈوکیٹ، بشری گوہر اور عوامی نیشنل پارٹی کی جمیلہ گیلانی شریک تھیں، اس اجلاس فیصلہ کیا گیا کہ محسن داوڑ اور افراسیاب خٹک سمیت پی ٹی ایم میں پارلیمانی سیاست پر یقین رکھنے والے لوگ اس پارٹی میں شامل ہوں گے۔ یوں اب منظور پشتین کی پی ٹی ایم اور نئی بننے والی سیاسی پارٹی کی راہیں جدا ہونے جا رہی ہیں۔ ذرائع نے یہ بتایا کہ محسن داوڑ سمیت پی ٹی ایم کے کچھ رہنماؤں نے منظور پشتین کو سیاسی پارٹی بنانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ نہیں مانے۔ چنانچہ اب اس نئی جماعت کی سربراہی محسن داوڑ خود کریں گے۔ تاہم ذرائع کے مطابق ابھی تک سیاسی پارٹی کے اعلان کی تاریخ اور آئندہ کا لائحہ عمل مکمل نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی منشور اور آئندہ کا لائحہ عمل طے ہو گا تو اس نئی جماعت کا باقاعدہ اعلان کر دیا جائے گا۔ لیکن ذرائع نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ اس سیاسی پارٹی کی پی ٹی ایم کو ایسے ہی حمایت حاصل ہوگی جس طرح دیگر قوم پرست جماعتوں کی سپورٹ ان کو حاصل ہے اور ان کے مطالبات کی بھی مکمل حمایت کی جائِے گی۔ تاہم اس سیاسی جماعت میں شامل پی ٹی ایم کے رہنما تنظیم سازی کا حصہ نہیں ہوں گے۔
جب ذرائع سے پوچھا گیا کہ کیا کسی دوسری سیاسی جماعت کے رہنماؤں کا اس جماعت میں شامل ہونے کا امکان ہے، تو انہوں نے جواب میں کہا کہ ابھی تک اتنا فیصلہ ہوا ہے کہ سیاسی جماعت کا اعلان کیا جائے جس کے بعد محسن داوڑ نئی سیاسی جماعت کے رہنماؤں کی مشاورت سے آگے بڑھیں گے۔ پی ٹی ایم کے مرکزی رہنما جو اس سیاسی پارٹی کا حصہ نہیں ہوں گے، نے بتایا کہ جب سے پی ٹی ایم بنی ہے محسن داوڑ سیاسی پارٹی بنانے کے حق میں تھے تاہم علی وزیر اور منظور مشتین سیاسی جماعت بنانے کی مخالفت کرتے تھے اور پی ٹی ایم کو ایک مزاحمتی تحریک ہی رکھنے پر خوش تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جب محسن داوڑ کی کوششوں کے باوجود بھی منظور پشتین نہیں مانے تو انہوں نے خود ہی سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کیا جس میں عوامی نیشنل پارٹی سے نکالے جانے والے رہنما افراسیاب خٹک اور بشری گوہر محسن داوڑ کو سپورٹ کر رہے ہیں۔
ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کی مخالفت کرنے والے پی ٹی ایم کے ایک اور رہنما نے بتایا کہ چونکہ ’محسن داوڑ شروع دن سے پی ٹی ایم میں ایک معروف رہنما رہے ہیں اور انہوں نے دیگر جماعتوں کے ساتھ بھی اچھے تعلقات بنا دیے تھے، چنانچہ منظور پشتین کو خوف تھا کہ وہ پی ٹی ایم کو کہیں ہائی جیک نہ کر لیں کیونکہ منظور پشتین پی ٹی ایم کی سربراہی کسی اور کے ہاتھ میں نہیں دینا چاہتے۔ انکا۔کہنا تھا کہ پی ٹی ایم میں سیاست کے شوقین لوگ اس سیاسی پارٹی کا حصہ ہوں گے جبکہ مںظور سمیت پی ٹی ایم کے بہت سے مرکزی رہنما منظور پشتین کے ساتھ ہی رہیں گے اور تحریک کو جاری رکھیں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی ایم کے گرفتار رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی وزیر بھی اس سیاسی پارٹی کا حصہ نہیں ہوں گے، اس کے علاوہ پی ٹی ایم کے دیگر سرکردہ رہنما جن میں ثنا اعجاز، سید عالم محسود بھی شامل ہیں، بھی نئی جماعت کا حصہ نہیں ہوں گے اور پی ٹی ایم ہی میں رہیں گے۔
سیاسی پارٹی بنانے کے فیصلے کے حوالے سے جب محسن داوڑ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ سیاسی مسائل اور اس کے حل کے لیے سیاسی لوگ اکھٹے بیٹھتے ہیں اور مستقبل کے فیصلے کرتے ہیں اور وہ ایسی بیٹھکیں لمبے عرصے سے کرتے آ رہے ہیں۔ محسن نے بتایا کہ ’ہم سیاست کرتے ہیں اور اس خطے کے مسائل کے حل کے لیے سیاسی اور جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔‘
یاد رہے کہ ماضی میں منظور پشتین بارہا مختلف مواقع پر یہ کہہ چکے ہیں کہ پی ٹی ایم ایک غیر پارلیمانی تحریک رہے گی اور قامی سیاست میں حصہ نہیں لے گی۔ 2018 کے انتخابات میں پی ٹی ایم سے تعلق رکھنے والے محسن داوڑ، علی وزیر، اور عبداللہ ننگیال جب عام انتخابات میں حصہ لے رہے تھے تو منظور پشتین نے واضح الفاظ میں کہا تھا اگر پی ٹی ایم سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی شخص انتخابات میں حصہ لیتا ہے تو یہ اس کا ذاتی فیصلہ ہوگا اور پی ٹی ایم سیاست میں حصہ لینے والوں کی نہ تو حمایت کرے گی اور نہ ہی مخالفت۔ اس کے بعد چند ماہ قبل پی ٹی ایم کے لیے آئین کا ایک ڈرافٹ بنایا گیا تھا اور اس ڈرافٹ پر ابھی تک پی ٹی ایم کے رہنما متفق نہیں ہوں سکے ہیں کیونکہ اس ڈرافٹ میں بھی ایک نکتہ موجود تھا کہ کیا کسی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والا پی ٹی ایم کی تنظیم سازی اور فیصلہ سازی میں حصہ لے سکے گا۔ ڈرافٹ میں ایک دوسرا نکتہ جس پر پارٹی رہنما متفق نہیں تھے وہ یہ تھا کہ پی ٹی ایم کیا پارلیمانی تحریک بن سکتی یے یا غیر پارلیمانی تحریک ہیرہے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button