محسن نقوی کو وزیر داخلہ کا قلمدان سونپنے کی وجہ کیا ہے؟

8 فروری کے انتخابات کے نتیجے میں وزیر اعظم بننے والے شہباز شریف کی 19 رُکنی وفاقی کابینہ نے حلف اُٹھا لیا ہے جس میں چند نئے چہروں نے بطور ٹیکنوکریٹس اہم ترین وزارتیں سنبھالی ہیں۔ پہلا چہرہ محمد اورنگزیب کا ہے جنہوں نے وزیر خزانہ کا اہم ترین عہدہ سنبھالا ہے جو ماضی میں ہمیشہ اسحاق ڈار کے حصے میں آیا کرتا تھا۔ محمد اورنگزیب نون لیگ کے قائد نواز شریف کے قریب تصور کیے جانے والے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس خلیل رمدے کے بھتیجے ہونے کے علاوہ ان کے داماد بھی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کے قریبی سابق بیوروکریٹ احد چیمہ کو بھی بطور ٹیکنو کریٹ کابینہ میں اقتصادی امور اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا چارج دیا گیا ہے۔ تاہم وزارت عظمی کے بعد اہم ترین سمجھی جانے والی وزارت داخلہ محسن نقوی کے حصے میں آئی یے جو اس وقت عوامی اور سیاسی حلقوں میں موضوعِ بحث بنے ہوئے ہیں۔
بی بی سی سے وابستہ خاتون صحافی ترہب اصغر کی ایک رپورٹ کے مطابق، 6 ٹی وی چینلز کے مالک، نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کا 13 ماہ شاندار کارکردگی دکھانے کے بعد پہلے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ بننا اور اب بطور وفاقی وزیر کابینہ میں شامل ہونا ایک بہترین کیریئر کو ظاہر کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق محسن نقوی نے اپنے سیاسی کیریئر کا سفر کافی کم عرصے میں بہت تیزی سے طے کیا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ڈلیور کیا ہے اور بطور پرفارمر خود کو منوایا ہے۔ محسن نقوی کو نگراں وزیر اعلیٰ کا منصب چھوڑنے سے چند ہفتے قبل ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بنا دیا گیا تھا۔ بعد ازاں 11 مارچ 2024 کو انھوں نے شہباز شریف کی وفاقی کابینہ میں بطور وفاقی وزیر داخلہ حلف اٹھا لیا۔ انہیں کابینہ میں انسداد منشیات کی وزارت بھی سونپی گئی ہے۔
بی بی سی کے مطابق محسن نقوی کے نگران وزير اعلیٰ پنجاب بننے سے پہلے ہی اُن کی مبینہ سیاسی وابستگیوں کی باتیں کی جا رہی تھیں۔ ان کی اس عہدے پر تعیناتی کے خلاف تحریک انصاف نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا تھا حالانکہ اس کی کوئی ٹھوس وجہ بیان نہیں کی گئی تھی۔ نگران وزیر اعلیٰ کا منصب چھوڑنے کے فوراً بعد محسن کی وفاقی کابینہ میں شمولیت اور پھر بطور وزیر داخلہ تعیناتی پر تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سابق سپیکر اسد قیصر کا کہنا تھا کہ پنجاب کی نگران حکومت نیوٹرل نہیں تھی اور محسن نقوی کے وزیر داخلہ بننے سے اپوزیشن اور حکومت کے مابین مفاہمت کا عمل پروان نہیں چڑھ سکے گا۔
تاہم محسن نقوی کے ساتھ بطور نگران وزیر اطلاعات کام کرنے والے سینئیر صحافی عامر میر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محسن نقوی کو اگر وفاقی وزیر داخلہ بنایا گیا ہے تو انہیں یہ عہدہ ان کی قابلیت کی بنا پر ہی ملا یے۔
عامر میر کے مطابق محسن نقوی نے بطور وزیر اعلی پنجاب ایک ناقابل فراموش اننگز کھیلی اور اپنی پرفارمنس سے خود کو منوایا۔ ان کا کہنا تھا کہ محسن نقوی نے اپنے 13 ماہ کی وزارت اعلی کے دوران پہلے "گڈ گورننس اور ڈویلپمینٹ” کا وژن دیا اور پھر کوئیک ڈلیوری سے اس پر عمل درامد کر کے بھی دکھایا۔ عامر میر کے محسن نقوی کے دور اقتدار میں جس تیز رفتاری سے ترقیاتی کام ہوئے اور انڈر پاسز، سڑکیں اور اوورہیڈ برج بنے، ان کی بدولت انہیں محسن سپیڈ کا ٹائٹل بھی حاصل ہوا۔ انکا کہنا تھا کہ جہاں تک رہی بات محسن نقوی کی سیاسی مخالفت کی تو، میں نے خود دیکھا ہے کہ پی ٹی آئی کے علاوہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی والے بھی ان سے ناراض رہتے تھے۔ تحریک انصاف کے علاوہ ان پر پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی مرکزی قیادت بھی تنقید کیا کرتی تھی جو ریکارڈ پر موجود ہے۔ ظاہر ہے کوئی شخص جب کسی اہم ترین عہدے پر کام کرتا ہے تو اسے اپنے فرائض منصبی کی تکمیل کے لیے ہر طرح کے نرم اور گرم فیصلے کرنے پڑتے ہیں اور ہر کسی کو خوش نہیں رکھا جا سکتا لہذا تنقید تو ہوتی ہے۔
بی بی سی کو ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے عامر میر کا کہنا تھا کہ آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ ایک شخص جو نگران سیٹ اپ میں رہا ہو، اسے دوبارہ کسی حکومت کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔ ویسے بھی اگر کوئی شخص پاکستان کی خدمت کرتا ہے اور اپنی محنت سے ڈلیور کر کے خود کو منواتا ہے تو اسے مزید موقع ضرور ملنا چاہئیے۔ انکا کہنا تھا کہ محسن نقوی کی بطور وفاقی وزیر داخلہ تقرری قانونی اعتبار سے مکمل آئینی ہے اور سینٹ الیکشن میں کامیابی کے بعد وہ منتخب وزیر بن جائیں گے۔ عامر میر کا کہنا تھا کہ محسن نقوی بھی محمد اور اورنگزیب اور احد چیمہ بطور ٹیکنوکریٹ کابینہ میں شامل کیے گئے ہیں اور یہ روایت دنیا بھر میں موجود ہے۔
دوسری جانب سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ بھی سمجھتے ہیں کہ غیر سیاسی اور غیر منتخب لوگوں کو مختلف وجوہات کی بنا پر وفاقی کابینہ کا حصہ بنایا جاتا ہے جس میں پسند نا پسند کے ساتھ ساتھ اُس شخص کی قابلیت اور کسی خاص شعبہ میں مہارت کو دیکھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں چوں کہ ‘ہائبرڈ نظامِ حکومت ہے جہاں اسٹیبلشمنٹ کا بھی کردار ہے۔ لہذٰا اسٹیبلشمنٹ بھی کابینہ کے لیے ناموں پر غور و فکر کا حصہ ہوتی ہے۔ سہیل وڑائچ کھ مطابق محمد اورنگزیب بینکنگ کے شعبے سے آئے ہیں جو ملک کے خزانے اور معاشی صورتِ حال کو دیکھیں گے۔ سابق بیوروکریٹ احد چیمہ بطور ٹیکنو کریٹ وفاقی میں اقتصادی امور اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے معاملات دیکھیں گے۔ اسی طرح محسن نقوی نے چونکہ بطور نگراں وزیرِ اعلٰی پنجاب بھر پور انتظامی صلاحیتیں دکھائیں اس لیے اب وفاقی حکومت بھی بطور وزیر داخلہ انکے ٹیلینٹ سے فائدہ اُٹھانے جا رہی یے۔
دوسری جانب پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ بعض اوقات ایسے ہوتا ہے کہ ایک شخص وزیرِ اعظم کو پسند ہوتا ہے لیکن وہی شخص اتحادیوں کو اسٹیبلشمنٹ کو پسند نہیں ہوتا۔ لہذٰا سب کا کسی ایک شخص پر متفق ہونا اس شخص کی بہت بڑی قابلیت سمجھی جاتی ہے۔ اُن کے بقول محسن نقوی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ صدر آصف زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے سربراہ کو بھی قابلِ قبول ہیں اور یہ لوگ ان کی انتظامی صلاحیتوں کے معترف ہیں۔ احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ محسن نقوی نے بطور نگراں وزیراعلٰی پنجاب مشکل حالات میں ایک مضبوط اعصاب کے شخص کے طور پر اپنے آپ کو منوایا۔ اُن پر اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ اُنہوں نے چند حلقوں پر بہت زیادہ سختی کی لیکن اِس کی بنیادی وجہ سانحہ 9 مئی تھا۔ انکا کہنا تھا کہ محسن نقوی کو کسی مخصوص حلقے کو ٹارگٹ کرنے کے لیے نہیں لایا گیا۔ انہوں نے بطور نگران وزیر اعلی نتائج دیے اور ڈلیور کیا لہذا اگر انہیں ایک اور موقع دیا گیا ہے تو ان کے تجربے سے پاکستان کا ہی فائدہ ہونے والا ہے۔ احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ نجم سیٹھی اور ڈاکٹر حسن عسکری بھی نگراں وزیرِ اعلٰی رہ چکے ہیں لیکن ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ نگراں سیٹ اپ میں رہنے والا شخص الیکشن کے بعد بننے والی وفاقی کابینہ میں بھی شامل ہو جائے۔ لہذٰا طے ہے کہ بطور نگران وزیر اعلی محسن نقوی کی 13 ماہ کی کارکردگی اُن کے کام آئی ہے۔
