9 مئی کے مجرم اب خصوصی قانون سازی کے ذریعے سزا پائیں گے؟


نو مئی کی باغیانہ سازش تیار کرنے والوں اور اس کا حصہ بننے والے مجرموں کو انجام تک پہنچانے کے لئے ضروری قانون سازی بہت جلد کرلی جائے گی اور اس قانون کو خواہ آرڈی ننس کی شکل میں نافذالعمل کرنا پڑے اس سے گریز نہیں کیا جاۓ گا . اس ضمن میں سینئر سیاسی تجزیہ کار اور مسلم لیگ نون کے سینیٹر عرفان صدیقی نے بھی اپنے ایک کالم میں بتایا ہے کہ 9 مئی کے فساد پر فوج کے چند اعلیٰ افسران کے سوا، آج تک کسی ایک بھی سول کردار کو سزا نہیں ہوسکی۔ سزا تو کیا کسی ایک عمرانڈو پر بھی قانونی کارروائی ہوتی دکھائی نہیں دی۔کیا 8 فروری 9 مئی کو نگل گیا ہے یا یہ محض واہمہ ہے؟ بظاہر کچھ بھی لگے، دیوار پر کندہ حقیقت یہ ہے کہ 9 مئی کے کرداروں کو لمبی چھوٹ ملنے کا عرصہ تمام ہوا۔ دس ماہ کی آسودگی سے حوصلہ پانے والوں کو خبر ہو کہ 9 مئی قانون کی تمام تر قوت سے لیس ہوکر حرکت میں آنے کو ہے. ۔ 8 فروری نے ایک دریچہ ضرور کھولا تھا لیکن عمران خان نے اس کا رُخ بھی آتش فشانی پہاڑوں کی طرف موڑ کر دور جاتے 9 مئی کو واپس بلالیا ہے۔ہر ایک کو بظاہر یہی لگتا ہے کہ دُور جاتے مسافر کی طرح 9 مئی کے قدموں کی چاپ ہولے ہولے معدوم ہوتی جارہی ہے۔ دس ماہ کی گَرد نے 9 مئی کو بڑی حد تک ڈھانپ لیا ہے۔ لیکن 263ویں کور کمانڈر کانفرنس نے اعلامیہ جاری کیا ہی کہ ۔ ’’وزیراعظم پاکستان کے عزم کے مطابق 9مئی کے منصوبہ سازوں، اشتعال دلانے والوں، حوصلہ افزائی کرنے والوں اور فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کو یقینی طور پر قانون اور آئین کی متعلقہ دفعات کے تحت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ یہ لوگ 9 مئی کی گھنائونی سرگرمیوں پر پردہ نہیں ڈال سکیں گے۔‘‘ عرفان صدیقی لکھتے ہیں کہ دس ماہ کے دوران، آرمی چیف سید عاصم منیر کا تختہ الٹ کر ایک بے چہرہ انقلابی نظام نافذ کرنے کے لئے، فوجی تنصیبات پر حملوں کے ذریعے فوج کے اندر تلاطم پیدا کرنے کی باغیانہ سازش تیار کرنے والے کردار، بے خوف ہوکر کونوں کھدروں سے نکل آئے ہیں۔ منصوبہ سازوں، زہرپاشی کرنے والوں، فوج کے خلاف منظم پروپیگنڈا مہم چلانے والوں، لوگوں کو بغاوت پر اُکسانے والوں اور 9 مئی کی غارت گر سپاہ کا حصہ بننے والوں کی بڑی تعداد 8 فروری کے ’’بہشتی دروازے‘‘ کے ذریعے منتخب جمہوری ایوانوں میں آبیٹھی ہے۔ ایوانوں میں کسی کو ٹافی چوسنے، پان کھانے، چیونگ گم چبانے حتٰی کہ پانی پینے تک کی اجازت نہیں۔ یہ سگریٹ پھونکتے، 9 مئی کے مرکزی کردار کی تصویریں ڈیسکوں پر سجاتے، ناشائستہ آوازے کستے، لغونعرے لگاتے اور 9 مئی کی آگ کو اپنے لہجوں میں سموئے آتش بیانی کرتے رہے ہیں۔ سرشام ٹی۔وی ٹاک شوز میں جلوہ گر ہوتے اور بنیادی انسانی حقوق کا درس دیتے ہیں،اس لئے کہ اب وہ استحقاق یافتہ منتخب عوامی نمائندے ہیں۔ بظاہر یہی لگتا ہے کہ 8 فروری نے 9 مئی کو کہنی مار کر بہت پیچھے دھکیل دیا ہے۔ عرفان صدیقی کے مطابق منتقم مزاج عمران خان نے جنرل سید عاصم منیر کو کبھی معاف نہ کیا۔بطورآرمی چیف اُن کی تقرری کو کوچہ وبازار کا موضوع بنایا۔ اعلان سے دو دِن پہلے لانگ مارچ کرتے ہوئے راولپنڈی پہنچے۔ سعودی عرب کو بھڑکانے کی سازش کا حصہ بنے۔ اپنے پشتی بانوں سے مل کر 9 مئی کی سازش تیار کی۔ نشانہ کوئی بھی ہو ،د رحقیقت یہ ریاست، جمہوریت اور فوج کے نظم وضبط کے خلاف بغاوت تھی جو ناکام ہوگئی۔ اس نوع کی بغاوتیں کامیاب ہوجائیں تو اپنا سکہ جمانے کیلئے سفاکانہ حربے اختیار کرتی ہیں۔ ناکام ہوجائیں تو سنگین تر سفاکی کانشانہ بن جاتی ہیں۔ یہ ہماری تاریخ کی واحد بغاوت ہے جو جزوی طورپر کامیاب اور حتمی طورپر ناکام ہوگئی . اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ عمران خان بھی 9 مئی سے کلی طورپر بری الذمہ ہونے کا دعویٰ کرتے اور کورکمانڈر کانفرنس کے اعلامیے کی تائیدکررہے ہیں۔ عدالتی کمیشن قائم کرنے کے مطالبے کررہے ہیں۔ سی، سی کیمروں کی فوٹیج سامنے لانے کا چیلنج دے رہے ہیں اور یاد دلارہے ہیں کہ امریکہ نے تو کیپیٹل ہل میں گھُس جانے والوں کو سخت سزائیں سنادی تھیں، سوال یہ ہے کہ ہماری حکومت کیوں چپ ہے؟ بظاہر کچھ بھی لگے، دیوار پر کندہ حقیقت یہ ہے کہ 9 مئی کے کرداروں کو لمبی چھوٹ ملنے کا عرصہ تمام ہوا۔ قانون تمام تر قوت سے لیس ہوکر حرکت میں آنے کو ہے

Back to top button