پہلی خاتون اول بیٹی آصفہ بھٹو کو کیا کیا مراعات ملیں گی؟



پاکستان پیپلزپارٹی کے صدر آصف علی زرداری نے بطور صدرِ مملکت اپنی سب سے چھوٹی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری کو خاتونِ اوّل بنانےکا فیصلہ لے لیا۔صدرِ مملکت آصف علی زرداری جلد ہی باضابطہ طور پر آصفہ بھٹو زرداری کو خاتون اول بنانے کا اعلان کریں گے جو ایک تاریخی فیصلہ ہوگا۔
خیال رہے کہ عمومی طور پر وزیراعظم اور صدر مملکت کی اہلیہ کو خاتون اول کا درجہ دیا جاتا ہے تاہم یہ پہلا موقع ہوگا کہ کسی وزیراعظم یا سویلین صدر کی بیٹی کو خاتون اول کا درجہ دیا جائے۔ تاہم قانونی ماہرین کے مطابق صدرمملکت خاتون اول کا درجہ اپنے گھر کی کسی بھی خاتون کو دینے میں بااختیار ہیں اور اس میں کوئی قانونی قدغن بھی نہیں ہے کیونکہ اپنی بیٹی کو خاتون اوّل قرار دینے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہو گا۔اس پہلے فیلڈ مارشل ایوب خان نے صدر بننے کے بعد اپنی بیٹی نسیم اورنگزیب کو خاتون اوّل قرار دیا تھا۔ وہ والی سوات میاں گل جہانزیب کی بہو اور انکے صاحبزادے میاں گل اورنگزیب کی اہلیہ تھیں۔
تاہم یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کسی بھی سویلین صدر کی جانب سے نامزد کردہ پہلی خاتون اول بیٹی کو کون کون سی مراعات حاصل ہونگی؟ اس حوالے سے مبصرین کا کہنا ہے کہ خاتون اول کا عہدہ ایک سفارتی روایت کے طور پر رکھا جاتا ہے اس کے علاوہ قانون میں اس عہدے کی کوئی ذمہ داری یا کوئی مراعات موجود نہیں ہیں۔انہوں نے بتایا کہ جب بھی کوئی بین الاقوامی کانفرنس یا کوئی غیر ملکی مہمانوں کی آمد ہوتی ہے تو اس صورت میں خاتون اول ایک روایت کے طور پر مہمانوں کا استقبال کرتی ہیں۔’خاتون اول ایسی کئی اور ملکی و بین الاقوامی کانفرنس میں بھی شرکت کرتی ہیں جو خواتین سے متعلق ہو یا جہاں صدر مملکت کے ساتھ خاتون اول کی بھی شرکت روایتی طور پر لازم ہو‘۔ ’خاتون اول کے لیے بلیو بک میں کوئی خاص پروٹوکول تو موجود نہیں تاہم ایوان صدر میں خاتون اول کے معاونت کے لیے عملہ متعین کیا جاتا ہے جو ضرورت پڑںے پر ان کی معاونت کرتا ہے‘
آئین اور قانون کے مطابق صدر کو ملنے والی تمام مراعات سے فیملی کے تمام ممبران مکمل مستفید ہو سکتے ہیں، بچے، اہلیہ اور دیگر ممبران کو سرکاری رہائش گاہ اور ہوائی جہاز استعمال کرنے کی اجازت ہوتی ہے جبکہ صدر کو ملنے والی مراعات بھی خاندان پر لاگو ہوتی ہیں۔
خیال رہے کہ آصفہ بھٹو اپنے والد کے بے حد قریب ہیں حلف برداری کی تقریب میں بھی آصفہ نے اپنے والد کے ہمراہ شرکت کی اور ان کے بازو میں اپنا بازو ڈال کر چلتی ہوئی نظر آئیں والد سے خصوصی قربت کی وجہ سے ہی صدر آصف علی زرداری نے خاتونِ اول جیسے خاص منصب کیلئے بھی آصفہ کا ہی انتخاب کیا۔
حلف برداری کی تقریب میں والد آصف علی زرداری کے پہلو میں چلتے دیکھ کر پی پی کے جیالوں سمیت، سوشل میڈیا صارفین کے منہ سے آصفہ بھٹو کیلئے مزید کئی خطاب جاری ہوگئے۔کسی صارف نے آصفہ بھٹو کو نائب صدر قرار دیا ہے تو کسی نے بینظیر کا عکس کہہ دیا۔اور لکھا کہ آصفہ بھٹو اپنی والدہ کی ڈبل کاپی نظر آ رہی ہیں۔ کسی کا کہنا تھا کہ آصف زرداری اور آصفہ بھٹو والد اور بیٹی میں دوستی کی ایک بہترین مثال پیش کر رہے ہیں۔آصفہ بھٹو کی سیاسی منظر پر موجودگی کو ناصرف پی پی جیالے بلکہ بینظیر بھٹو کے چاہنے والے بھی بے حد سراہتے ہیں۔

دوسری جانب صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی بڑی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ آصفہ بھٹو عدالتوں سے جیلوں تک آصف علی زرداری کے ساتھ کھڑی رہی ہیں۔

بختاور بھٹو زرداری نے چھوٹی بہن آصفہ بھٹو زرداری کے خاتون اول بننے پر اپنے بیان میں کہا کہ آصفہ بھٹو زرداری، آصف علی زرداری کے ساتھ عدالتوں میں گئیں ان کی جیل سے رہائی کی جنگ لڑی اور آج آصفہ بھٹو ملک کی بطور خاتون اول آصف علی زرداری کے ساتھ ہیں۔
واضح رہے کہ آصفہ بھٹو زرداری 3 فروری 1993 کو پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے سیاسی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔وہ پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو شہید اور پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری کی سب سے چھوٹی بیٹی ہیں۔
بے نظیر سے محبت کرنے والے ان کے جیالے آصفہ میں والدہ کی جھلک دیکھتے ہیں اور اسی سبب ان کو لوگوں کی محبت پہلے سے ہی حاصل ہے۔اگرچہ آصفہ گزشتہ چندسالوں سے سیاسی مہموں کا حصہ بنتی رہی ہیں لیکن وہ خود بطور لیڈر سامنے آنے کے بجائے بڑے بھائی بلاول بھٹو کو سپورٹ کرتی نظر آرہی ہیں۔

Back to top button