مریم نواز اوربختاوربھٹو میں بالواسطہ لفظی جنگ

حکومت مخالف اتحاد پی ڈی ایم کی جانب سے 26 مارچ کے لانگ مارچ کو موخر تو کر دیا گیا ہے لیکن اس کے نتیجے میں اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے مابین اعتماد کی کمی کا اظہار مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر دونوں جماعتوں کی خواتین کی جانب سے لفظی جنگ کی صورت میں ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے تازہ ترین معاملہ مریم نواز کی جانب سے کیے جانے والے ایک ٹویٹ سے شروع جس میں انہوں نے نام لیے بغیر بلاول بھٹو کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ اب اسٹیبلشمنٹ سلیکٹڈ کی جگہ ایک سافٹ متبادل لانا چاہتی یے۔ اس ٹویٹ کے جواب میں بختاور بھٹو نے بھی کوئی نام لیے بغیر ایک جوابی ٹویٹ کی اور لکھا کے کچھ جاہل لوگ آصف زرداری پر ڈیل کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اپوزیشن اتحاد کی دونوں بڑی جماعتیں ایک دوسرے کا نام لیے بغیر بغیر ٹی وی سکرینوں پر اور سوشل میڈیا پر اپنا مدعا بیان کر رہی ہیں اور ایک دوسرے کو بلواسطہ طعنے دے رہی ہیں۔ دراصل لفظی جنگ کا آغاز بارہ مارچ کو اسلام آباد میں اپوزیشن اتحاد کے اجلاس میں ہوا جب آصف زرداری نے استعفے دینے کے معاملے پر یہ موقف اختیار کیا کہ نواز شریف اگر ملک واپس آجائیں تو پیپلزپارٹی والے اپنے استعفے ان کے حوالے کر دیں گے۔ اس کے جواب میں مریم نواز شریف نے اپنے والد کی جان کو لاحق خطرات کے حوالے سے آصف علی زرداری سے گارنٹی مانگی جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے خود 14 برس جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارے ہیں اور اگر ہم نے حکومت کو گرانا تو ہم سب کو جیل جانے کی تیاری کرنی چاہیے۔ پی ڈی ایم اپوزیشن اتحاد کی جانب سے 26 مارچ کا لانگ مارچ ملتوی کیے جانے کے بعد 18 مارچ کے روز مولانا فضل الرحمان نے بھی ایک تقریر میں یہ کہا کہ میں اس شخص کو سیاستدان نہیں مانتا جو جیل جانے سے گھبراتا ہے، تاہم انہوں نے یہ بات کرتے ہوئے کسی سیاستدان کا نام نہیں لیا۔
دوسری جانب اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے لانگ مارچ کے موخر ہونے کے ایک روز بعد 17 مارچ کو ایک ٹویٹ کیا جس کو سیاسی مبصر ایک ذومعنی ٹویٹ قرار دے رہے ہیں۔
انہوں نے کسی صارف کی اس بات کا جواب دیا جس میں اس صارف نے پی ڈی ایم کی میٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا ’امید ہے آپ ٹھیک ہوں گی مریم نواز کیونکہ کل دفتر میں ایک سخت دن تھا۔ کوئی بات نہیں ہم اب بھی آپ کی کوششوں کو سراہتے ہیں جو اب تک آپ نے کیں۔‘ مریم نواز نے اس ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے نہ صرف صارف کو جواب دیا بلکہ نام لیے بغیر بہت کچھ کہہ ڈالا ’بالکل بھی سخت دن نہیں تھا خاص طور پر جب آپ جانتے ہوں ہوں کہ کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ جس کو پریشان ہونا چاہیے وہ خود سیلیکٹڈ ہے کیونکہ اس سے جو کام لیا جانا تھا وہ لیا جاچکا اب اس کا سافٹ متبادل تیار کیا جارہا ہے۔‘ اس ٹویٹ میں متبادل کا اشارہ کس طرف کیا جا رہا ہے یہ واضح نہیں البتہ اس ٹویٹ کے تقریبا 12 گھنٹے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی صاحبزادی بختاور بھٹو نے بھی دو ٹویٹ کیے جن میں کسی کا نام لیے بغیر خاصی سخت زبان استعمال کی گئی۔
انہوں نے پہلا ٹویٹ لکھا ’صرف یاد دہانی کے لیے، میرے والد اور سابقہ سویلین صدر جنہوں نے 12 سال جیل میں بغیر کسی جرم کے گزارے ایک فوجی آمر مشرف کو اقتدار سے باہر نکالا اور جمہوریت کو واپس لائے، اوراس بات کا یقین کروایا کہ جمہوریت چلتی رہے، تمام تر ہتھکنڈوں کے نہ صرف ان کے پانچ سال پورے ہوئے بلکہ دھاندلی کے باوجود جمہوریت آگے منتقل بھی ہوئی۔‘
اسی ٹویٹ کے ذیلی ٹویٹ میں بختاور نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’ان کے والد ایک سال غیر قانونی طور پر جیل میں رکھنے کے بعد 2019 میں ان پر فرد جرم عائد کی گئی۔ لیکن جاہل ان سے ڈیل کی باتیں منسوب کر رہا ہے۔ میں سوال کرتی ہوں کہ کون سی ڈیل ہے جس میں میرے والد کا نام ابھی تک ای سی ایل پر موجود ہے اور وبا کے دنوں میں تسلسل کے ساتھ ان کو عدالت بلایا جا رہا ہے، اور وہ بھی ایسی عدالت جو کراچی میں نہیں بلکہ پنڈی میں ہے اور جس کی پہلے پاکستان میں کوئی قانونی نظیر نہیں ملتی۔‘‘
یاد رہے کہ بختاور نے اہنی ٹویٹ میں نام لیے بغیر ایک شخص کو مخاطب کرتے ہوئے جاہل قرار دیا ہے۔ اگرچہ ان ٹویٹس میں براہ راست کسی کا نام نہیں لیا گیا لیکن پاکستان کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر تجزیہ کار عارف نظامی ٹویٹر پر ان بیانات کو بھٹو اور شریف خاندان کے مابین سرد جنگ سے تعبیر کرر ہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیدھی سیدھی سرد جنگ ہے۔ مریم کے ٹویٹ میں اگرچہ کسی کا نام نہیں لیا گیا لیکن ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ آصف زرداری نے تو جو کچھ کہا ہے وہ کھل کر کہا اور سب کے سامنے کہا ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک جذباتی ٹویٹ ہے اگر نواز شریف نے اپنی بیٹی کو سیاست کا دارالعوام سونپ دیا ہے تو اس کا ہرگز مطلب نہیں کہ انہیں سیاست کے تمام رموز ازبر ہوگئے ہیں۔ میرے خیال میں مریم نواز کو حوصلہ اور تدبر کے ساتھ اپنی سیاست کو آگے بڑھانا چاہیے نہ کہ جذبات اور جوش کے ساتھ‘۔
عارف نظامی نے مزید کہا کہ ’میرے خیال میں یہ مریم کی ایک غیر ضروری ٹویٹ تھی جس کے بعد بختاور بھٹو نے بھی نام لیے بغیر ایک ٹویٹ کی ہے جو مجھے لگ رہا ہے کہ ایک طرح کا مریم کو جواب ہو سکتا ہے، لیکن حتمی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کون کس کو سنا رہا ہے۔ بحر حال اس سے یہ ضرور ثابت ہورہا ہے کہ ایک غیر ضروری اور غیر سیاسی سرد جنگ شروع کردی گئی ہے جو دونوں جماعتوں کے مابین پائے جانے والے عدم اعتماد کو ظاہر کرتی ہے اور دونوں کے لیے درست نہیں۔‘
دوسری جانب 26 مارچ کا لانگ مارچ ملتوی کیے جانے کے باوجود مسلم لیگ کے کئی رہنماؤں کی جانب سے یہ بیانات آ چکے ہیں کہ اگر پیپلزپارٹی نے لانگ مارچ میں شمولیت کا فیصلہ نہ کیا تو ہم پھر بھی مولانا کے ساتھ مل کر لانگ مارچ ضرور کریں گے۔ اس دوران یہ اطلاعات بھی آئی ہیں کہ آصف زرداری نے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ رابطہ کر کے انہیں یقین دلوایا ہے کہ پیپلزپارٹی لانگ مارچ کے لیے تیار ہے لیکن استعفوں کے معاملے پر ابھی فیصلہ کرنے کے لئے کچھ وقت چاہیے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اپوزیشن اتحاد اپریل کے مہینے میں لانگ مارچ نہیں کرتا تو پھر مئی میں رمضان آرہا ہے لہٰذا لانگ مارچ جون تک ملتوی ہو سکتا ہے۔ لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا اپوزیشن اتحاد کی دو بڑی جماعتیں اب ایک دوسرے کے ساتھ مزید چل پائیں گی یا نہیں؟
