مریم نواز ن لیگ میں مزاحمتی سیاست کا استعارہ کیسے بنیں؟

کس شیرنی کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے ۔۔۔ ملک میں امید سحر کی واپسی ۔یہ وہ باتیں ہیں جو مسلم لیگی مریم نواز کی وطن واپسی کے موقع پر کر رہے ہیں ۔ سوشل میڈیا پر کسی کو مریم نواز میں ملکی ترقی کی روشن کرن نظر آ رہی ہے تو کسی کو لگتا ہے کو مریم میں والد کا عکس نظر آ رہا ہے ۔مریم نواز نے سیاست میں بہت کھویا کم پایا۔۔ اتار چڑھائوسے بھرپور اس عرصے میں مریم نواز نے کن کن حالات کا مقابلہ کیا اور کس بات نے ان کو دوسروں سے ممتاز بنایا انکے سیاسی کیریئر پر نظر ڈالیں تو پتا چلتا ہے کہ خود کو اپنے والد نواز شریف کی طاقت اور سیاسی وارث ثابت کرنے والی مریم نوازکو انکے جارحانہ طرز سیاست نے سب سے الگ مقام دے دیا اپنے والد کی تین حکومتوں کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں بر طرف ہوتے اور پھر انکے ہمراہ ناکردہ جیل بھگتنے والی مریم نے ہمیشہ بنا کوئی لگی لپٹی رکھے دو ٹوک اور بے لاگ بات کرنے کی سیاست کو پروان چڑھایا، مفاہمت کی سیاست کرنے والوں کا انجام دیکھ کرانہوں نے اپنے چچا شہباز شریف کے برعکس مزاحمت کی سیاست کو ترجیح دی۔ لہذا سیاست پنڈت متفق ہیں کہ اگر مریم نوازاس بار پارٹی کو متحد کرنے میں کامیاب ہو گئیں تو ملک کی دوسری خاتون وزیر اعظم بن سکتی ہیں۔
پاکستان میں پچھلے اٹھارہ سال میں ایک نسل جوان ہوئی ہے جو لولی لنگڑی ہی سہی مگر جمہوری دور میں پروان چڑھی ۔عمران خان، نواز شریف، آصف زرداری، شہباز شریف اور کئی دوسرے 70 سال کی عمر کو پہنچنے والے ہیں مگر اب بھی اپنی اپنی جماعتوں کے کرتا دھرتا ہیں۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ پاکستان کو نہ صرف ایک نئی جمہوری حکومت کی ضرورت ہے بلکہ اب اس ملک کی باگ ڈور نوجوان رہنماؤں کو لینی چاہیے۔ شاید آصف زرداری اور نواز شریف نے نئے دور کے ان تقاضوں کو سمجھتے ہوئے بلاول اور ن لیگ نے مریم نواز کی صورت میں اپنی نئی نسل کو میدان سیاست کے میں اتارا۔ اور اب یہی دو رہنما ملک و قوم کی امیدوں کا محور و مرکز ہیں۔
مریم نواز 28 اکتوبر 1971 کو لاہور کے بڑے سیاسی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ مریم نواز کے دو بھائی، حسین اور حسن نواز اور ایک بہن، عاصمہ ہے۔ ان کے دادا، میاں محمد شریف، ایک صنعت کار اور اتفاق گروپ کے بانی تھے جبکہ پرنانا، گاما پہلوان برصغیر کے ایک نامی گرامی پہلوان تھے۔مریم نواز نے ابتدای تعلیم لاہور سے حاصل کی اور انگریزی ادب میں جامعہ پنجاب سے ڈگری لی۔ مریم نے ابتدائی طور پر 2012ء میں خاندان کے رفاہی ونگ شریف میڈیکل سٹی میں کام کا آغاز کیا۔ مریم نواز کو مسلم لیگ نے عام انتخابات 2013ء کے دوران میں ضلع لاہور کی انتخابی مہم کا منتظم مقرر کیا۔ اپنے والد نواز شریف کی وزرات عظمیٰ کے تیسرے دور میں مریم کو 22 نومبر 2013ء کو وزیراعظم یوتھ پروگرام کی سربراہ مقرر کیاگيا، تاہم عدالت عالیہ لاہور میں اس فیصلے پر درخواست کے بعد مریم نواز نے 13 نومبر 2014ء کو استعفیٰ دے دیا تھا۔
مریم نواز اس لحاظ سے پاکستان کی منفرد سیاستدان ہیں کہ ان کی سیاسی تربیت نہ صرف ان کے والد بلکہ ان کی والدہ کلثوم نواز شریف نے بھی کی۔ یہ بھی ایک عجب اتفاق ہے کہ سیاست میں انکی انٹری ہمیشہ دھماکہ خیز ثابت ہوتی ہے۔ پہلی مرتبہ مریم نے اپنے والد کی نااہلی کے بعد لندن میں زیر علاج اپنی والدہ بیگم کلثوم نواز کی انتخابی مہم چلائی اور بھونچال پیدا کردیا۔ پھر والدہ کے ہمراہ لندن سے واپس پاکستان گرفتاری دینے کے لئے آئیں تو ان کی جرات و ہمت دیکھ کر بڑے بڑے سیاسی پنڈت حیران رہ گئے۔ اس سے قبل اور بعد احتساب عدالت میں مریم کی ہر پیشی ہنگامہ خیز رہی۔ پھر مریم نے خود کو اور اپنے والد کو سزائیں سنانے والے جج ارشد ملک کی خفیہ ویڈیوز منظر عام پر لا کر ایک نیا دھماکہ کیا جس کے اثرات سے پاکستان کی سیاست آج دن تک نہیں نکل سکے۔
تاہم ناقدین کو گلہ ہے کہ مریم نواز جب دل کرتا ہے چپ ہو بیٹھتی ہیں اور جب مخالفین کی نیندیں اڑانا مقصود ہو تو بول پڑتی ہیں۔ وہ مصلحتاً مہینوں خاموش رہنا بھی جانتی ہیں اور نتائج سے بے پرواہ ہو کر منصوبہ سازوں کو براہ راست للکارتی بھی خوب ہیں۔پچھلے کچھ عرصےسے وہ لندن میں والد کےساتھ خاموش ہیں جس کی وجہ کچھ لوگ ان کی بیماری بھی بتا رہیں جس کا علاج کروا کر وہ واپس لوٹ رہی ہیں ۔ ان کے شوہر کیپٹن صفدر پرنواز شریف اور مریم کی طرح کئی کریمنل اور کرپشن کیسز بنائے گئے ہیں لیکن وہ نیب عدالت میں پیش ہوکر بھی نیب چیئرمین کو للکارنے سے باز نہیں آتے۔ ن لیگ کی اندرون خانہ سیاست کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ نواز شریف کے بیٹوں حسن، حسین اور بیٹی اسما نے خود کو سیاست سے مکمل لا تعلق رکھا ہوا ہے۔ شہباز شریف کے بیٹوں میں بھی صرف حمزہ نے مرکزی دھارے کی سیاست کی یہ بھی سچ ہے کہ کئی سال عملی سیاست میں رہنے کے باوجود حمزہ کی ایسی واہ واہ نہ ہوسکی جو عوامی مقبولیت مریم کے حصے میں آئی۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ حمزہ نے ہمیشہ سے اپنے والد کی طرح مصلحت کی سیاست کی ہے جبکہ مریم نے مذاحمتی بیانیہ اپنایا ہے۔
سیاست کھیل مقبولیت کا ہی ہے ۔ ایک بار پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے مریم نواز کو لانچ کیا گیا اس کے بعد اب یہ دوسرا موقع ہے کہ ملکی حالات اور پارٹی کے اندرونی معاملات میں بگاڑ پر مریم کو ایک بار پھر لانچ کیا جا رہا ہے ان کا والہانہ استقبال اور کارکنوں کا جم غفیر اس بات کا ثبوت ہےکہ اب کی بار مریم پہلے سے زیادہ جارحانہ سیاست کریں گی،سنیئر صحافی اور اینکر پرسن سہیل وڑائچ کے بقول مریم نواز کی سیاست ان کے والد کے گرد گھومتی ہے۔ لیگی متوالوں کو مریم میں نواز شریف کی جھلک نظر آتی ہے کیونکہ مریم کی سیاست بھی ووٹ کو عزت دلوانے اور جمہور کو ان کا حق دلوانے کے لئے ہے۔ مریم کی آمد سے قبل ہی تحریک انصاف کی صفوں میں ہلچل مچ گئی ہے ۔وزیر اعظم اور دیگر سیاسی پردہ سے غائب اور مریم کو کیسے زیر کرنا ہے اپوزیشن کا اہم ایجنڈا بن چکا ہے ۔ دیگر قوتوں کی بھی پوری نظر اس بات پر ہے کہ مریم اب یہ بقا کی جنگ کیسے لڑیں گی۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں محترمہ بینظیر بھٹو کے بعد مریم کو پہلی سیاست دان ہیں جنہیں ایک سیاسی قائد کی حیثیت ملنا شروع ہو گئی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک اس کی پہلی اور آخری وجہ مریم نواز کا جارحانہ مزاج ہے۔مریم نواز کے قریبی رفقاء بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ منافق نہیں۔ وہ نپے تُلے جواب دینے کی عادی نہیں۔ وہ مبہم پیغام دینے پر بھی یقین نہیں رکھتیں۔ وہ مقتدر حلقوں کو دو ٹوک مخاطب کرنے اور سیاست میں کھلم کھلا دشمن بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں تاکہ دوستوں کا بھی پتہ ہو۔ سیاسی شطرنج کھیلنے والے پرانے کھلاڑیوں کو خوب اندازہ ہوگیا ہے کہ مریم صرف نواز شریف کی بیٹی ہی نہیں، بلکہ ایک سیریس چیلنج بن جانے والی سیاست دان بن چکی ہیں ۔ سیاسی پنڈت تو یہ بھی کہتے ہیں کہ مریم نواز عنقریب کسی سیاسی انقلاب کا سبب بنیں گی۔
مریم کے جارحانہ انداز سیاست کے حوالے سے شیخ رشید جیسے نام نہاد سیاست دان یہ الزام لگاتے تھے کہ ان ہی کی مشوروں کی وجہ سے نواز شریف کی حکومت گئی اور پھر انہیں جیل جانا پڑا۔ مگر اب کی بار تو لگتا ہے کہ اس جارح مزاح سیاست دان کے پھر سے متحرک ہونے کے بعد نہ جانے کتنوں کے دل ڈوبے جا رہے ہیں اور وہ اپنے والد کے لئے ایک بوجھ بننے کی بجائے ان کی طاقت اور سیاسی وارث بن کر دوبارہ ابھریں گی تاہم دیکھنا یہ ہے کہ مریم نواز اب کی بار مشکل ترین حالات سے کیسے نبردآزما ہوتی ہیں۔
عمران خان کے جن سابقہ سہولت کاروں کے خلاف ثبوت اکٹھے کیے جا رہے ہیں ان میں سابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ، سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور دیگر شامل ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے نواز شریف کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی سازش تیار کی۔ بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں انتخابی مہم کے دوران ان تین کرداروں کو مکروہ قرار دے کر انہیں مانجا لگایا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق پارٹی میں پختہ احساس موجود ہے کہ عمران خان کا ’غیر ملکی آقاؤں کے سامنے گھٹنے نہ ٹیکنے‘ کے بیانیے کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلم لیگ (ن) کے مقبول بیانیے ’ووٹ کو عزت دو‘ کو نئے سرے سے تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔
