مریم کا خاموشی توڑ کر دوبارہ میدان میں آنے کا فیصلہ


پاکستان کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کی متحرک ترین نائب صدر مریم نواز نے کچھ عرصہ خاموش رہنے کے بعد ایک مرتبہ پھر سیاسی طور پر متحرک ہونے کا فیصلہ کیا یے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ مریم نواز24 اپریل کو تین روزہ دورے پر کراچی پہنچ رہی ہیں جہاں وہ حلقہ 249 سے نواز لیگی امیدوار مفتاح اسماعیل کی الیکشن مہم کے سلسلے میں درجن بھر جلسے جلوسوں اور ریلیوں کی قیادت کریں گی۔
یاد رہے کہ حمزہ شہباز کے ضمانت پر باہر آنے کے بعد مریم نواز نے سیاسی سرگرمیاں معطل کر دی تھیں جس کے بعد ڈسکہ کے ضمنی الیکشن کی ذمہ داری بھی حمزہ شہباز شریف کو سونپ دی گئی تھی۔ اسی دوران میڈیا میں حمزہ شہباز اور مریم نواز کے مابین بیانیے پر اختلاف کی خبریں بھی میڈیا کی زینت بنی تھیں جن کی مریم نواز نے تو تردید کی لیکن حمزہ نے خاموشی اختیار کیے رکھی۔ خیال رہے کہ مریم نواز کی جانب سے سیاسی طور پر متحرک ہونے کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب لاہور ہائیکورٹ شہباز شریف کی ضمانت کا فیصلہ دے چکی ہے۔
اس سے پہلے مریم نواز کی پراسرار خاموشی پر سوال اٹھائے جا رہے تھے اور مریم کے مخالفین انکی چپ کو نواز لیگ کے اندر مزاحمتی اور مفاہمتی بیانیے کے اختلاف کا شاخسانہ قرار دے رہے تھے۔ یاد رہے کہ وزیر اعظم کے بڑبولے مشیر شہباز گل نے تو شہباز شریف کی ضمانت کے عدالتی فیصلے سے دو روز پہلے ہی ایک معنی خیز ٹویٹ کر دیا تھا جس میں انہوں نے شہباز اور مریم کا نام لیے بغیر لکھا تھا کہ ایک خاتون بڑی بے تابی سے بار بار اپنا موبائل چیک کر رہی ہیں کہ کہیں کوئی باہر نہ آجائے۔ شہباز نے لکھا تھا کہ اگر ایسا ہو گیا تو کچھ لوگوں کے ٹویٹ خاموش ہونے والے ہیں۔ شہباز گل کہ ٹویٹ نے نواز لیگ میں مفاہمتی بیانیے کے ناقدین کو یہ کہنے کا موقع بھی فراہم کر دیا تھا کہ شہباز شریف کی ضمانت کسی ڈیل کے تحت ہوئی یے ورنہ شہباز گل کو کیسے معلوم تھا کہ ایسا ہونے والا ہے۔
اسی دوران سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی کیا جا رہا تھا کہ کیا پچھلے کچھ مہینوں سے جارحانہ ترین سیاست کرنے والی مریم نواز کسی دباو میں آ کر چپ ہوئیں یا مصلحت کے تقاضوں کے باعث خاموش ہوئیں۔ جب مریم نے نواز شریف کی طرح سخت ترین فوجی مخالف بیانیہ اپنایا تھا تب شہباز شریف اور حمزہ شہباز دونوں جیل میں تھے۔ اب دونوں باپ بیٹا ایک ہی مہینے میں اوپر تلے ضمانت حاصل کر چکے ہیں اور پیپلز پارٹی کی جانب سے یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا شہباز شریف اور ان کے بیٹے کی رہائی کسی ڈیل کے بغیر ہوئی ہے؟ یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ اب نواز لیگ لانگ مارچ کا اعلان کیوں نہیں کرتی اور اسمبلیوں سے استعفے کیوں نہیں دے رہی؟ پیپلزپارٹی والے ہیں یہ سوال بھی کر رہے تھے کہ مریم نواز نے حمزہ شہباز کی ضمانت کے بعد سے خاموشی کیوں اختیار کر رکھی ہے۔
تاہم اب مریم نواز کی خاموشی ٹوٹنے جارہی ہے اور وہ چوبیس اپریل سے کراچی میں انتخابی جلسے جلوسوں اور ریلیوں سے خطاب کرنے والی ہیں۔ اس سے پہلے لیگی ذرائع کا کہنا تھا کہ مریم نواز اپنی طبیعت کی خرابی کے باعث گھر پر آرام کر رہی ہیں اور ویسے بھی رمضان کے مقدس مہینے اور روزوں کی وجہ سے انہوں نے اپنی سیاسی سرگرمیاں محدود کی ہوئی ہیں۔ تاہم سازشی نظریہ رکھنے والے کہتے تھے کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔
یاد رہے کہ مریم نواز ملکی سیاست میں اس وقت باضابطہ طور پر سامنے آئیں جب 2017 میں سپریم کورٹ نے نواز شریف کو نا اہل قرار دے کر انکی وزارت عظمی ختم کی۔ اسکے بعد نواز شریف کی قومی اسمبلی کی خالی نشست پر بیگم کلثوم نواز نے الیکشن لڑا۔ حلقہ این اے 120 کے اس ضمنی الیکشن کی کیمپین مریم نواز نے بھر پور طریقے سے کی اور ان کا موڈ خاصہ جارحانہ رہا۔ اپنی وکٹری سپیچ میں بھی انہوں نے اسٹیبلشمنٹ پر کڑی تنقید کی۔ لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ مریم نواز مسلسل جارحانہ سیاست لے کر ہی چل رہی ہیں۔ ایسے بہت سے مواقع بھی آئے ہیں جب وہ سرے سے خاموش ہوجاتی ہیں۔2018 کے انتخابات سے پہلے جب ان کو اور ان کے والد نواز شریف کو ایک ساتھ سزا سنا دی گئی تو وہ جیل چلی گئیں اور ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ خاموش ہو گیا۔ جب وہ جیل میں تھیں تو اس وقت شہباز شریف اپوزیشن لیڈر بن چکے تھے اور حمزہ شہباز پنجاب کے اپوزیشن لیڈر تھے۔ ستمبر 2018 میں جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی سزا معطل کی تو شہباز شریف اڈیالہ جیل سے نواز شریف، مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن صفدر کو لینے خود گئے۔ گھر واپسی کے بعد کئی مہینے تک ان کی جانب سے کوئی سیاسی سرگرمی سامنے نہیں آئی۔ پھر ایک دوسرے مقدمے میں دسمبر 2018 میں ہی احتساب عدالت نے نواز شریف کو سات سال قید کی سنا دی تو انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ مریم نواز کی رہائی کے ایک مہینے بعد یعنی اکتوبر 2018 میں نیب نے شہباز شریف کو گرفتار کرلیا۔ بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے فروری 2019 میں انہیں ضمانت پر رہا کیا۔
لیکن اس دوران مریم ایک مرتبہ پھر اپنی خاموشی توڑ چکی تھیں۔ انہوں نے یکے بعد دیگرے سیاسی جلسے شروع کردیے۔ تاہم اگست 2018 میں نیب نے انہیں چوہدری شوگر ملز کیس میں گرفتار کر لیا۔ نواز شریف کو بھی نیب اسی کیس میں کوٹ لکھپت جیل سے پہلے ہی گرفتار کر چکی تھی۔نومبر 2019 میں نواز شریف کی نیب کسٹڈی کے دوران طبیعت ناساز ہونے پر لاہور ہائی کورٹ نے ان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا اور ساتھ ہی مریم نواز کو بھی رہائی مل گئی۔ جیل سے رہائی کے بعد وہ کچھ عرصہ پھر خاموش رہیں۔ البتہ 2020 کے وسط میں انہوں نے ایک مرتبہ پھر اپنی خاموشی توڑی اور اپنی جارحانہ سیاست کو وہیں سے شروع کیا جہاں رکی تھی۔کیونکہ ستمبر 2020 میں اپوزیشن کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے جنم لیا تو اس وقت مریم خاصی متحرک تھیں اور اس اتحاد کے اجلاسوں میں انہوں نے نواز شریف کی نمائندگی کی۔
اسی دوران شہباز شریف ایک مرتبہ پھر جیل چلے گئے اور مسلم لیگ ن کی قیادت عملی طور پر مریم نواز کے ہاتھ میں رہی۔ مریم نواز نے پی ٹی ایم کی حکومت مخالف مہم کے دوران ملک بھر میں جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے سخت اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ اپنایا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button