مریم کے گڑیا باجی سے قومی لیڈر بننے تک کے سفر کی کہانی


کچھ برس پہلے تک ایک عام سی گھریلو لڑکی کا کردار ادا کرنے والی گڑیا باجی نے اگرچہ عملی سیاست میں اپنے والد کی عدالت سے نااہلی کے بعد قدم رکھا لیکن دو برس کے مختصر عرصے میں ہی وہ آج پاکستان میں مزاحمتی سیاست کا استعارہ بن چکی ہیں۔تیسری دنیا کے ملکوں میں جابر اور ظالم کے خلاف جدوجہد کرنے والا اگر بہادری دکھائے تو ہیرو بن جاتا ہے۔ مریم نواز نے جس بہادری سے اپنے والد نواز شریف اور اپنے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے ہمراہ جس بہادری سے جیل کاٹی اس نےانکے سیاسی امیج کو مزید کرشماتی بنا دیا ہے۔
ان خیالات کا اظہار معروف اینکر پرسن اور سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے اپنی ایک تازہ تحریر میں کیا ہے اور مریم نواز کے سیاسی سفر پر روشنی ڈالی ہے۔ سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ مریم ایک عام سی گھریلو لڑکی تھی جسے ماں باپ گڑیا بیٹی کہہ کر پکارتے تھے جبکہ بہن بھائی اور باقی گھر والے باجی گڑیا کہہ کر بلاتے تھے۔ وہ شرمیلی تھی اور اس کے آنسو اس کی ناک پر رکھے ہوتے تھے۔ ادھر کچھ غلط ہوتا، ادھر اس کے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگتے۔ لیکن آج وہی بات بات پر رو دینے والی لڑکی اب مریم نواز بن کر سٹیج پر سے سب طاقتوروں کو نام۔لیکر للکارتی ہے۔ اس نے جیل میں دال روٹی کھائی مگر مراعات نہیں مانگیں۔ اب اسکی آنکھوں سے آنسو نہیں بلکہ شعلے نکلتے ہیں جو کہ سیاسی مخالفین کو بھسم کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔
گڑیا سے مریم نواز اور عام سی لڑکی سے قومی لیڈر بننے تک کے سفر میں بنیادی بات انکی اپنے والد میاں نواز شریف سے قربت ہے۔ انکے والد لندن میں ہیں اور بیٹی جاتی امراء میں مگر دونوں کے درمیان دن میں تین چار بار گفتگو ضرور ہوتی ہے۔ وہ اپنے والد کی سب سے قریبی مشورہ دان بھی ہیں۔
تین بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف ذاتی طور پر بہت کم گو ہیں اپنے جذبات اور تاثرات کا اظہار آسانی سے نہیں کرتے، مریم نواز کو طویل رفاقت کی وجہ سے البتہ اب یہ ملکہ حاصل ہوچکا ہے کہ وہ اپنے والد کی خاموشی کے باوجود ان کے چہرے کے تاثرات پڑھ کر جان لیتی ہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ بقول مریم نواز وہ اپنے والد کے چہرے پرجو پڑھتی ہیں وہ اکثر اوقات درست نکلتا ہے۔
مریم نواز نے اپنی گرفتاری سے پہلے مزاحمتی بیانیے کے تحت منڈی بہائوالدین ، پاک پتن اور حافظ آباد جیسے شہروں کے جو دورے کیے تھے اس نے ان کی کرشمہ ساز شخصیت ہونے پر مہر لگا دی تھی۔ بعد ازاں جیل کی سختیوں کو جھیل کر وہ کندن ہو کر باہر نکلیں تو اندازہ یہ تھا کہ وہ جدھر جائیں گی ادھر انسانوں کے۔ ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگ جائیں گے مگر افسوس ان کی اپنی پارٹی ان کی حیثیت اور قدروقیمت کا درست اندازہ نہ کر سکی ۔گوجرانوالہ جلسہ میں جانے کے لیے جو روٹ استعمال کیا گیا وہ غیر سیاسی سوچ کے زیر اثر تھا حالانکہ سیاسی نقطہ نظر سے مریم نواز کو فیروزپور روڈ اور مال روڈ سے گزر کر شاہدرہ جانا چاہیے تھا جگہ جگہ استقبالی کیمپ لگے ہوتے مسجد کے لائو ڈ سپیکرز میں اس کی آمد کا اعلان ہوتا انائونسمنٹ والی پک اپس ماحول کو گرماتیں۔ اگر ایسا ہوجاتا تو لاہور میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے 10 اپریل والے جلسے اور جلوس کی یاد تازہ ہو جاتی۔ مگر دہشت گردی خدشے کے تحت مریم نواز کے جلوس کو لاہور شہر سے باہر شاہدرہ کے راستے گزارا گیا۔
اس غیر سیاسی حکمت عملی سے مریم نواز کی طرف سے جتنے بڑے پاور شو کی امید تھی وہ پورا نہ ہوسکی۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ مریم نواز کا پوٹنشل اور سیاسی ٹیلنٹ کہیں زیادہ ہے لیکن ابھی تک اسکا صحیح استعمال نہیں ہو سکا۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ گو مریم نواز کا سیاسی قد اپنے والد کی وجہ سے برھا ہے مگر سچ یہ ہے کہ والد نے اسے اپنی ساتھ والی نشست اتنی آسانی سے نہیں دی۔ انکے والد مریم کو سیاست میں لانے اور اسے رول دینے کے بارے میں تا دیر ہچکچاتے رہے ۔نواز شریف اپنے ارد گرد کےلوگوں کو گہری پرکھ پر چول سے گزارتے ہیں۔ مریم کو ن لیگ کے باقی لوگوں کی نسبت بہر حال یہ استحقاق تو حاصل تھا کہ 2000ء سے لیکر 2020ء تک وہ اپنے والد کے ساتھ ہر روز چار سے پانچ گھنٹے گزارتیں اور اس روز کی سیاست کے دائو پیچ اور راز و نیاز پر گفتگو کرتیں۔ جب نواز شریف پاکستان میں تھے تو مسلم لیگ ن کی قیادت درجہ بندی میں مریم نواز کا تیسرا نمبر تھا جبکہ ان کے چچا بلحاظ عہدہ مسلم لیگ ن کے صدر بھی ہیں اور نواز شریف کے سالہا سال سے نمبر 2 بھی ہیں۔ مریم نواز کو نواز لیگ میں تیسری پوزیشن بھی بڑی مشکل سے ملی اس پوزیشن پر سالہا سال سے حمزہ شہباز شریف کی نامزدگی ہو چکی تھی۔ تاہم یہ پوزیشن حاصل کرنے میں مریم کا سب سے زیادہ ساتھ ان کے مزاحمتی بیانیے نے دیا ہے جو کہ لوگوں میں تیزی سے مقبول ہورہا ہے۔
ماضی میں پارٹی کے ہر ضمنی انتخاب کی ذمہ داری حمزہ شہباز شر یف کی ہوتی تھی۔ پنجاب کی گورننس میں بھی حمزہ شہباز کی اسٹیک شامل تھی۔ مگر لاہور کے حلقہ این اے 120 میں ہونے والے 2018 کے ضمنی الیکشن کے وقت یہ روایت بدل گئی جہاں سے کلثوم نواز شریف نے الیکشن میں حصہ لیا اور مریم نواز شریف نے پہلی مرتبہ اپنی والدہ کی الیکشن مہم چلائی۔ یوں مریم نواز نے آہستہ آہستہ آگے بڑھتے یوئے نواز شریف کے مزاحمتی بیانیے ووٹ کو عزت دو کو آگے بڑھا کر اور عوام میں مقبولیت حاصل کر کے غیر محسوس طریقے سے پارٹی کی نمبر 3 پوزیشن پر اپنا نام لکھوا لیا۔ جب نواز شریف علاج کی خاطر ملک سے باہر گئے تو یہ خیال کیا جارہا تھا کہ مریم نواز بھی ان کے ساتھ ہی باہر جائیں گی۔ لیکن پھر وزیراعظم عمران خان نے ان کو بطور گارنٹی پاکستان میں رکھنے کا فیصلہ کیا اور یہی ایک فیصلہ مریم کے فائدے میں چلا گیا ورنہ آج پاکستان کی سیاست کچھ اور ہوتی اور مزاحمتی بیانیے کا کہیں دور دور تک بھی نام و نشان نہ ہوتا۔
اسی اثناء میں پہلے حمزہ اور پھرشہباز شریف بھی گرفتار ہوگئے اور اب مریم نواز کے لئے کھلامیدان ہے بشرطیکہ کہ وہ اپنے مہرے احتیاط سے کھیلیں۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ مریم نواز کی بطور قومی لیڈر سیاست کا باقاعدہ آغاز گوجرانوالہ کے جلسے سے ہوا جس کے استقبالی جلوس کو طوفان تو کہا جا سکتا یے لیکن بھونچال نہیں کیونکہ یہ مریم نواز کی حیثیت اور اسٹیٹس سے کم تھا اور اس کمزوری کی وجہ ناقص منصوبہ بندی تھی۔ اگر یہی استقبالی جلوس مال روڈ سے گزرتا تو شاید آج پاکستان کی سیاست کے بیانیے میں کئی نئے فیکٹر زیر بحث آ رہے ہوتے۔ مریم نواز گوجرانوالہ کے جلسے میں گئی تو سبز لباس پہن کر پاکستانی قومیت کا علامتی پیغام دیا ۔کوئٹہ کے جلسے میں وہ بلوچی کڑھائی والا لباس پہن کر شریک ہوئیں یوں انہوں نے بلوچستان سے اپنی یکجہتی کا اظہار کیا ۔وہ لباس کا انتخاب ہو، لفظوں کا چنائو ہویا پھر نشست و برخواست کے آداب ہر معاملے میں پہلے سے طے شدہ اور سوچے سمجھے راستے پر چلتی ہیں۔
اپنے والد کی طرح وہ اپنے ملاقاتیوں کی نشستوں اور ان کے کھانے کا مینیو تک خود ترتیب دیتی ہیں وہ شرمیلی لڑکی جو بچپن میں ٹپ ٹپ آنسو گراتی تھی اب کبھی بلاول بھٹو سے مذاکرات کرتی ہیں تو کبھی سردار اختر مینگل سے سنجیدہ بات چیت ۔ سچ تو یہ ہے کہ مریم نواز نے اپنی شخصیت کی تشکیل اور تعمیر پر بڑی محنت کی ہے وہ دنیا بھر کی خبروں سے آگاہ رہتی ہیں ٹویٹر اور فیس بک کے ٹرینڈز کیا ہیں انہیں بخوبی علم ہوتا ہے قومی سیاست میں داخل ہوتے ہوئے وہ بہت محتاط ہے بڑے لیڈرز کے ساتھ ملاقاتوں اور جلسوں میں کی جانے والی تقریروں میں ابھی بے ساختگی نظر نہیں آئی، ہو سکتا ہے کہ اگلے جلسوں میں اور زیادہ پر اعتماد ہو کر بات کریں۔
دلچسپ ترین معاملہ یہ ہے کہ قومی سیاست میں انٹری کے باوجود مریم ن لیگی سیاست میں پوری طر ح انٹر نہیں ہوئیں بلکہ کئی دفعہ تو لگتا ہے کہ وہ پارلیمانی گروپ اور پارٹی کے اندرونی گروپوں کی سیاست میں فی الحال داخلہ نہیں چاہتیں۔ شاید انہیں خدشہ ہے کہ ان کے داخلے پر کوئی نئی گروپ بندی نہ ہو جائے۔ مریم نواز کو تو شاید علم ہو نہ ہو لیکن وہ مزاحمتی سیاست کا استعارہ بن چکی ہیں اب انہیں اپنے اس امیج کی نہ صرف حفاظت کرنی ہو گی بلکہ اسے مضبوط بنانے کے للیے اپنے موقف پر قائم رہنا ہو گا۔ تیسری دنیا کے ملکوں میں جابر اور ظالم کے خلاف جدوجہد کرنے والا اگر بہادری دکھائے تو ہیرو بن جاتا ہے مریم نے جیل جس بہادری سے کاٹی اس نےاس کے امیج کو مزید کرشماتی بنا دیا ہے مگر سوال تو یہ ہے کہ ن لیگ کی پارلیمانی قیادت مصالحت کی خواہاں ہے ایسے میں مزاحمت کا استعارہ”مریم” کے لئے پالیسیاں تبدیل کرنے کی کتنی گنجائش ہو گی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button