مشرف کیس کا فیصلہ توسیع کا معاملہ خراب کر رہا ہے

سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت سنائے جانے کے بعد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ بھی سردخانے کی نذر ہوگیا ہے اور تاحال حکومت نے سپریم کورٹ میں اس حوالے سے نظرثانی کی اپیل ہی دائر کی ہے۔ عمران خان کے قریبی ذرائع کے مطابق مشرف کی پھانسی کے فیصلے پر فوجی ترجمان کے ضرورت سے زیادہ سخت ردعمل نے وزیراعظم کو اپنے مستقبل کے حوالے سے سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ وزیراعظم کے قریبی ذرائع کے مطابق مشرف کی پھانسی کے فیصلے کے فوراً بعد فوجی ترجمان نے جو ردعمل دیا اس سے عوام میں یہ تاثر گیا کہ حکومت عمران خان نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ چلا رہی ہے اور کپتان وہی کرتے ہیں، جو انہیں کرنے کو کہا جاتا ہے۔
کپتان کا یہ خیال ہے کہ ایسا تاثر ان کے سیاسی مستقبل کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا اسی لئے کپتان نے مشرف کے معاملے پر خاموشی اختیار کرلی ہے اور توسیع کے حوالے سے بھی گو سلو پالیسی اپنا رکھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ کئی ہفتے گزرنے کے بعد صرف توسیع کیس فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم نے مشرف کی سزائے موت کے فیصلے کے بعد سے اب تک کسی عوامی سطح کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ مشرف کو عدالت کی جانب سے آئین شکنی پر سزائے موت سنائے جانے کے بعد فوجی ترجمان کے سخت ردِعمل کی روشنی میں اسٹیبلشمنٹ کو امید تھی کہ اب جنرل باجوہ کی مدت ملازمت کا مسئلہ حل کرنے کے لئے حکومت فوری اقدامات کرے گی اور اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر اتفاق رائے پیدا کرے گی۔ تاہم الٹی پڑ گئیں سب تدبیریں کے مصداق، مشرف غداری کیس کے فیصلے پر فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر کے سخت ردعمل کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ایسا طرزِ عمل اپنایا کہ جنرل باجوہ کی توسیع کا معاملہ بھی سردخانے میں پڑ گیا ہے جس کے بعد کپتان اور اسٹیبلشمنٹ دونوں ایک دوسرے سے دور دور دکھائی دیتے ہیں۔ کئی ہفتے گزرنے کے بعد 26 دسمبر کو وزارت قانون نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق عدالتی فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل دائر کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حکومت کی جانب سے نظر ثانی کی اپیل دائر کرنا دراصل معاملے کو لٹکانے کی کوشش ہے۔
عمران خان کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ مشرف کیس کے فیصلے کے وقت کپتان ملک سے باہر تھے اور اسٹیبلشمنٹ نے دباؤ ڈال کر کپتان کے وزراء سے مشرف کے حق میں پریس کانفرنس کروائی۔ اس کے علاوہ آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے جس انداز میں خصوصی عدالت کے فیصلے پر سخت ترین ردعمل دیا، وہ بھی وزیراعظم عمران خان کو سخت ناگوار گزرا کیونکہ دنیا کی کسی مہذب معاشرے میں میں فوجی ترجمان کی جانب سے ملکی عدالتوں کے خلاف اس قسم کے مؤقف کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ کہا جاتا ہے کہ کپتان کو اچھی طرح احساس ہو چکا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ مشرف کے معاملے میں انہیں گندا کروانے کی کوشش کررہی ہے۔ کپتان کو معلوم ہے کہ وہ ماضی میں جنرل مشرف کو آئین شکنی کے الزام میں پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ کرتے رہے اور پھر جب عدالت نے مشرف کو پھانسی کا مستحق قرار دیا تو یہ دراصل حکومت کی جیت ہے جو کہ مشرف غداری کیس میں پٹیشنر بھی تھی لیکن اسٹیبلشمنٹ نے حکومت کے مؤقف سے پہلے اپنا ردعمل دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اصل حکومت اسٹیبلشمنٹ ہی کی ہے اور تحریک انصاف کی حکومت بلاشبہ سلیکٹڈ اور فوج کا بغل بچہ ہے۔ کپتان کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ عمران خان سمجھتے ہیں کہ وہ ایک عوامی راہنما ہیں اور ماضی میں انہوں نے مشرف کے خلاف جو نقطہ نظر اپنایا، وہ آج بھی ریکارڈ پر ہے۔ آج اگر وہ کھلے عام مشرف کا دفاع کرتے ہیں تو یہ نہ صرف عوام میں ان کو غیرمقبول بنائے گا بلکہ عدلیہ کے ساتھ بھی محاذرائی کی صورتحال پیدا کر دے گا جس کے لیے وہ تیار نہیں۔
دوسری جانب عمران خان اس حقیقت سے بھی واقف ہوچکے ہیں کہ اگر یقین دھانی کروانے کے باوجود توسیع دلوانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ ان پر اس قدر دباؤ ڈال رہی ہے تو اگلے تین سال تو یقیناً ان کی حکومت کے لئے انتہائی مشکل ہوں گے۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ بلاشبہ اس وقت تحریک انصاف حکومت پر اسٹیبلشمنٹ کا شدید دباؤ ہے لیکن عمران خان نے حیران کن انداز میں میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ حتیٰ کہ حکومتی وزرا کی جانب سے مشرف کو پھانسی کی سزا سنانے والی خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کے حوالے سے بھی تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جاسکا۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر قانون سازی کا معاملہ بھی بری طرح متاثر ہوچکا ہے اور ابھی حکومت نے صرف اتنا قدم اٹھایا ہے کہ سپریم کورٹ میں نظرثانی کی اپیل دائر کی گئی ہے۔ دوسری جانب عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کی منشا کے برعکس ان تمام اپوزیشن رہنماؤں کو رگڑا لگانا شروع کردیا ہے جنہیں اسٹیبلشمنٹ ریلیف دینا چاہتی ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان رسہ کشی واضح نظر آئی ہے اور وہ پیج بھی تار تار ہو چکا ہے جس پر کبھی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے یک جان دو قالب ہونے کا دعویٰ کیا جاتا تھا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جس طرح عمران خان نے مشرف کی پھانسی پر اپنے لبوں کو سی رکھا ہے اور دوسری جانب جنرل باجوہ کو توسیع دلوانے کے لیے مہینہ گزرنے کے باوجود پارلیمنٹ میں کوئی کوشش نہیں ہوئی اور نہ ہی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ رابطہ کیا گیا ہے اور صرف نظرثانی اپیل دائر کر کے معاملے کو لٹکانے کی کوشش کی ہے۔ ان اقدامات سے اب یہی ظاہر ہوتا ہے کہ تحریک انصاف حکومت اسی طرح چھ مہینے گزارے گی اور پھر سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق صدر مملکت نئے آرمی چیف کا اعلان کردیں گے۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ عمران خان جنرل باجوہ کو توسیع دینے کے حق میں اس لیے بھی نہیں کیونکہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی المعروف پنکی پیرنی نے حساب کتاب لگا کر انہیں بتایا ہے کہ جنرل باجوہ کی بجائے کسی باریش جنرل کو آرمی چیف لگانا ان کے حق میں زیادہ بہتر رہے گا۔
