مشرف کے گھر کو نہ تو پناہ گاہ بنایا گیا اور نہ ہی گوشہ عافیت

سنہ 2000 میں ڈکٹیٹر پرویزمشرف نے نواز شریف کو ملک بدر کرنے کے بعد انکی جایئداد ضبط کرتے ہوئے لاہور والی رہائش گاہ کوگوشہ عافیت میں تبدیل کر دیا تھا جبکہ عمران خان نے اسحاق ڈار کی رہائش گاہ کو پناہ گاہ میں تبدیل کردیا ہے۔ تاہم عوامی حلقے یہ سوال کر رہے ہیں کہ پاکستان کا آئین توڑنے کی پاداش میں سزائے موت سنائے جانے اور تمام جائیداد ضبط کیے جانے کے فیصلے کے باوجود جنرل مشرف کی چک شہزاد والی رہائش گاہ کو کیوں کسی گوشہ عافیت یا پناہ گاہ میں تبدیل نہیں کیا گیا؟
پنجاب حکومت کی جانب سے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی گلبرگ لاہور کی رہائش گاہ کو پناہ گاہ میں بدلنے سے شریفوں کے ماڈل ٹاؤن لاہور کے گھر ’گوشہ عافیت‘ کی یاد تازہ ہوگئی ہے جو تقریباً بیس سال پہلے بزرگ بے سہارا افراد کیلئے ایک ادارہ بنایا گیا تھا۔ پچھلا سیٹ اپ فوجی آمریت کا تھا جس نے شریفوں کے خلاف انتقاماً یہ کارروائی کی تھی جو سات سال کیلئے جلاوطنی کی زندگی گزارنے کیلئے سعودی عرب روانہ ہوگئے۔ تاہم عمران خان کی سویلین حکومت نے بھی جنرل مشرف کی حکومت سے کوئی مختلف فیصلہ نہیں کیا حالانکہ عدالت نے ڈار کی جائیداد کے حوالے سے حکم امتناعی جاری کر رکھا تھا۔ دوسری طرف برسہا برس پہلے مشرف کی جائیداد ضبط کئے جانے کے باوجود عمران حکومت نے سابق ڈکٹیٹر کے چک شہزاد فارم ہاؤس کو غریبوں کیلئے پناہ گاہ یا گوشہ عافیت میں بدلنے کیلئے چھوا تک نہیں، حالانہ اسے موت کی سزا سنائی گئی ہے اور مفرور قرار دیا گیا ہے۔
ایک ٹوئٹ میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ جب وہ میرا گھر نیلام کرنے میں ناکام ہوگئے تو عمران نیازی اور پنجاب حکومت نے میرے گھر کو پناہ گاہ بنا دیا ہے جو اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد توہین عدالت ہے۔ مسلم لیگ نون نے اس اقدام کی مذمت کی لیکن ایک وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ ڈار کی رہائش گاہ کو پناہ گاہ میں بدلنا اس سال کی بہترین خبر ہے لیکن وہ شاید بھول گئے کہ اس سے بھی اچھی خبر نومبر 2016 میں آئی تھی جب عدالت نے مشرف کے چک شہزاد والے فارم ہاؤس کو ضبط کرکے انہیں مفرور قرار دیا تھا اور ساتھ ہی سابق ملٹری ڈکٹیٹر کی تمام منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کو ضبط کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
یاد رہے کہ ڈار کے گھر کو پناہ گاہ میں بدلنے کی ہدایت وزیراعظم ہاوس کی جانب سے براہ راست ڈی سی لاہور کو جاری کی گئی تھی جس کے بعد صوبائی محکمہ سوشل ویلفیئر و بیت المال نے گھر کے مرکزی دروازے پر پناہ گاہ کا بورڈ آویزاں کردیا۔ تاہم کوئی بجٹ اور انتظامات نہ ہونے کے باعث محکمہ سوشل ویلفئیر نے ہنگامی بنیادوں پر داتا دربار پناہ گاہ سے 20 بستر منگوا کر لگائے جبکہ 8 مزید بستر ریلوے سٹیشن پناہ گاہ سے منگوا کر لگوائے گے۔ تاہم عدم ادائیگی پر میٹر کٹنے کے بعد اس پناہ گاہ میں بجلی کی سہولت حاصل نہیں ہے۔ محکمہ سوشل ویلفیئر نے بجلی بل کے بقایا جات ادا کرنے سے انکار کردیا ہے اور بجلی کے نئے کنکشن کیلئے درخواست دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ پنجاب حکومت نے نئی پناہ گاہ کیلئے بجٹ دینے سے انکار کردیا ہے اور فی الوقت محکمہ سوشل ویلفیئر کو اپنے بجٹ سے انتظامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ 14 نومبر 2019 کو نیب نے اسحاق ڈار کا گھر فروخت کرنے کے احکامات جاری کیے تھے، 8 جنوری کو اسحاق ڈار کے گھر کی نیلامی ہوئی تھی تاہم عدالتی حکم امتناع اور گاہک نہ آنے کی وجہ سے بولی روک دی گئی تھی، اسسٹنٹ کمشنر ماڈل ٹاوَن لاہورنے نیلامی اگلی تاریخ تک موخر کر دی تھی۔
