خالد حقانی تحریک طالبان پاکستان کا ’فکری استاد‘ تھا

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک ساتھی سمیت ہلاک ہونے والا تحریک طالبان کا سابق نائب امیر شیخ خالد منصور حقانی طالبان کے ’فکری استاد‘ کے طور پر شہرت رکھتا تھا۔ سنہ 2007 میں جب لال مسجد آپریشن ہوا تو خالد حقانی صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے صوابی میں مدرسہ کا طالب علم تھا اور عمر صرف بیس سال تھی۔ خالد حقانی کے قریبی ساتھیوں کا بتانا ہے کہ لال مسجد کے واقعات کے ردعمل کے طور پر نوعمر خالد حقانی قبائلی علاقے میں آگیا اور بیت اللہ محسود کی قیادت میں اس قبائلی اتحاد کا رکن بن گیا جس نے بعد میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی شکل اختیار کی۔
نوعمر شیخ خالد منصور حقانی نے کالعدم تحریک طالبان کے بانی سربراہ بیت اللہ محسود اور ان کے ساتھی حکیم اللہ محسود کی توجہ حاصل کی۔ خالد حقانی نے طالبان میں شمولیت کے بعد ’ابو محمد‘ کی کنیت اختیار کی۔ اپنے نظریات کی بنا پر وہ القاعدہ کی فکر کے قریب سمجھا جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ القاعدہ کے تنظیمی اور فکری رہنما ابو یحییٰ اللبیی سے متاثر تھا۔ اسی لئے وہ عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ تنظیمی اتحاد اور اختلافات کے خاتمے کےلیے بھی سرگرم رہتا تھا۔ ’شوریٰ اتحاد المجاہدین‘ ہو یا ’شوریٰ مراقبہ‘ کے نام سے بننے والے طالبان دھڑوں کے اتحاد، پاکستانی طالبان اور افغان طالبان کے مسائل کے حل سمیت کئی اہم معاملات میں خالد حقانی کا نام موجود رہا۔ وہ ان چند کمانڈروں میں شامل تھا جو متفرق طالبان دھڑوں میں قابل قبول تصور ہوتا تھا۔
چونکہ خالد حقانی کا شمار کالعدم تحریک طالبان کے اہم رہنماؤں میں ہوتا تھا اس لئے عام خیال یہ ہے کہ خالد حقانی کے تحریک طالبان کے سابق امراء بیت اللہ محسود اور حکیم اللہ محسود سے بہترین تعلقات تھے لیکن حقائق اس سے کچھ مختلف ہیں۔ 2009ء میں بیت اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد حکیم اللہ محسود کو نیا امیر بنایا گیا۔ اس نئے تنظیمی ڈھانچے میں خالد حقانی کو کالعدم تحریک طالبان کی ’’عالی شوریٰ‘‘ کا سربراہ مقرر کیا گیا اور اس با اثر عالی شوریٰ میں مختلف علاقوں کے امیر ہی شامل کئے گئے تھے۔ اسے طالبان کی سپریم کونسل بھی کہا جاتا تھا۔
مزید یہ کہ خالد حقانی نے عالی شوریٰ سے پہلے جس شوریٰ میں کام کیا اس کا نام ’اجرائی شوریٰ‘ تھا۔ یہ شوریٰ دراصل کالعدم جماعت کی مرکزی شوریٰ کی طرف سے کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کی نگران تھی۔ یہ مرکزی شوریٰ کو جماعت کی طرف سے کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد میں نقائص، کمزوریوں اور خامیوں کی رپورٹ فراہم کیا کرتی تھی۔
’عالی شوریٰ‘ کی ورکنگ کے دوران حکیم اللہ محسود کو محسوس ہوا کہ خالد حقانی اور جنوبی وزیرستان کے امیر مولوی ولی الرحمن کے درمیان مشاورت اور تعلقات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ مولوی ولی الرحمن آغاز سے ہی حکیم اللہ محسود کے پسندیدہ نہیں تھے کیوںکہ بیت اللہ محسود کے بعد ولی الرحمن کا نام بھی طالبان امیر کے طور پر لیا جانے لگا تھا۔ اس لئے حکیم اللہ محسود نے اپنے خلاف ممکنہ گروپنگ کا خاتمہ کرنے کےلیے خالد حقانی کو عالی شوریٰ کی سربراہی سے بر طرف کر دیا اور قاری شکیل کو نیا سربراہ مقرر کیا۔
حکیم اللہ محسود کی جانب سے اختیارات میں کمی کے باوجود نئے امیر ملا فضل اللہ نے خالد حقانی کو نائب امیر تحریک طالبان مقرر کیا اور ملا فضل اللہ کی پاکستان میں عدم موجودگی کے دوران خالد حقانی ہی تمام گروپس سے باہمی تعلق و مشاورت انجام دیتے۔ شیخ خالد منصور حقانی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنے امیر ملا فضل اللہ کی طرح ریاست پاکستان سے لڑائی کے تو حامی تھے مگر ملا فضل اللہ کے برعکس اسکولوں، اسپتالوں اور عوامی مقامات پر حملوں کے ناقد بھی تھے۔
2014ء میں جب شہر یار محسود گروپ اور خالد عرف خان سجنا گروپ میں اختلاف ہوا اور قتل و غارت شروع ہوئی۔ اس وقت بھی مسئلے کے حل تک خالد حقانی کو طاقتور محسود طالبان کا عارضی امیر مقرر کیا گیا حالانکہ ان کا تعلق محسود قبیلے سے نہیں تھا۔ اسی طرح جب طالبان کے ایک مضبوط گروپ نے داعش میں شمولیت اختیار کی جن میں حافظ دولت، مفتی حسن اور سعید خان جیسے بڑے کمانڈر شامل تھے، اس وقت بھی خالد حقانی کی کوشش رہی کہ قتل و غارت تک معاملات نہ جائیں۔
2017ء میں خالد حقانی نے ایک اور تنظیمی کامیابی حاصل کی اور محسود طالبان جو تحریک طالبان سے اختلافات کے بعد علیحدہ ہو چکے تھے۔ انہیں دوبارہ ٹی ٹی پی میں شامل ہونے پر قائل کیا۔ خالد عرف خان سجنا کے محسود گروپ کو تحریک طالبان پاکستان کا حصہ بنایا اور ایک نائب امارت محسود گروپ کو ملی۔ اس کا دُور رس نتیجہ یہ نکلا کہ ملا فضل اللہ کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد کالعدم تحریک طالبان کی امارت محسود قبیلے میں ایک بار پھر واپس آگئی۔
عسکریت اور دہشت گردی سے منسلک افراد اور تنظیمیں خفیہ اور زیر زمین سرگرمیوں کے ذریعے کام کرتی ہیں اس لئے ان کے گرد پُر اسراریت کا ہالہ موجود رہتا ہے شاید اسی لئے کابل میں جعلی دستاویزات کے ساتھ ملنے والی لاشیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ خفیہ ’مشن کابل‘ کے دوران طالبان کی بجائے کوئی اور خفیہ ادارہ یا تنظیم اپنا ٹاسک پہلے مکمل کرگئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button