مشکل فیصلوں کے سبب ملک استحکام کے راستے پر چل پڑا

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ ہمیں مشکل فیصلے لینے پڑے، ملک دیوالیہ ہونے کی طرف جارہا تھا اب ہم اس راستے سے ہٹ گئے ہیں اب استحکام کے راستے پر گامزن ہیں اور جلد مستحکم نمو دیکھیں گے۔
اسلام آباد میں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور خرم دستگیر کے ہمراہ مالی سال 2021-22 کی اقتصادی جائزہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا پاکستان کا مسئلہ بدقسمتی یہ ہے کہ جب ہم ترقی کرتے ہیں، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں پھنس جاتے ہیں،رواں مالی سال میں مجموعی ملکی پیداوار میں شرح نمو 5.97 فیصد رہی اس نئے تخمینے کے ساتھ کرنٹ اکاؤنٹ خسارا آپے سے باہر ہوگیا اور ادائیگیوں کے توازن کا بحران آگیا ہے،رواں برس ہماری درآمدات 76 سے 77 ارب ڈالر کے درمیان ہو گی جو تاریخی اور جی ڈی پی کے تناسب سے بھی سب سے بڑا نمبر ہے،برآمدات میں بھی اضافہ ہوا ہے لیکن صرف 28 فیصد ہوا جس کی وجہ سے تجارتی خسارا 45 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
انکا کہنا تھاایک زمانہ تھا جب پاکستان کی برآمدات، درآمدات کے مقابلے نصف ہوتی تھی جو اب صرف 40 فیصد رہ گئی ہے، یہ ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے کہ ہم صرف 40 فیصد درآمدات کی ادائیگی برامدات سے کرسکتے ہیں 60 فیصد کے لیے ہمیں ترسیلات زر اور قرضوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے ہم بار بار ادائیگیوں کے توازن کا مسئلہ درپیش رہتا ہے، کووڈ 19 کے دوران جب دنیا بھر میں تجارت کم، پیٹرولیم مصنوعات، گیس سستی ہوگئی تھی اس دوران ادائیگیوں میں توازن آگیا تھا لیکن اس کے بعد جیسے ہی نمو کی اور وہی نسخہ اپنایا گیا تو ادائیگیوں کا توازن بگڑ گیا۔
انہوں نے کہا بڑے عرصے کے بعد پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر 10 ارب ڈالر سے کم ہو کر 9.6 ارب ڈالر کی سطح پر آگئے ہیں اور آئندہ پیر منگل تک چین سے 2 ارب 40 کروڑ ڈالر ملنے کے بعد یہ دوبارہ 12 ارب ڈالر کی سطح پر آجائے گا،پاکستان کی معاشی سمت سدھارنے کی ضرورت ہے تیل کی قیمت عالمی منڈی میں بہت بلند ہوچکی ہے جس کی وجہ سے ہمیں بھی قیمتوں میں 30، 30 روپے اضافہ کرنا پڑا،پاکستان کی معاشی سمت سدھارنے کی ضرورت ہے تیل کی قیمت عالمی منڈی میں بہت بلند ہوچکی ہے جس کی وجہ سے ہمیں بھی قیمتوں میں 30، 30 روپے اضافہ کرنا پڑا۔
وزیر خزانہ نے کہاہمیں مشکل فیصلے لینے پڑے، ملک دیوالیہ ہونے کی طرف جارہا تھا اب ہم اس راستے سے ہٹ گئے ہیں اب استحکام کے راستے پر گامزن ہیں اور جلد مستحکم نمو دیکھیں گے،ہماری نمو کے 2 پہلو ہیں ایک وہ کہ جو مستحکم ہو جس میں بار بار کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ، ادائیگیوں کا توازن خراب نہ ہو، رواں مالی سال جی ڈی پی کی شرح نمو 5.97 فیصد رہی لیکن ہمیشہ کی طرح ایک مرتبہ پھر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی وجہ سے ادائیگیوں کے توازن کا مسئلہ آگیا،ہمیں جامع نمو چاہیے، ہم غلطی یہ کرتے ہیں کہ سرمایہ کار طبقے کو تجارت آگے بڑھانے کے لیے مراعات دیتے ہیں لیکن اس کے نتیجے میں یہ ہوتا ہے کہ امرا جب صنعتیں لگاتے ہیں، مراعات پاتے ہیں تو درآمدات بہت بڑھ جاتی ہیں،اگر جامع نمو ہوگی، غریب اور متوسط طبقے کی قوت خرید بڑھا کر نمو کی جائے تو اس سے مقامی اور زرعی پیداوار بڑھے لیکن درآمدی بل نہیں بڑھے گا کیوں کہ امرا جب خرچ کرتے ہیں تو اس میں درآمدی اشیا زیادہ ہوتی ہیں جبکہ غریب شخص آٹے دال وغیرہ جیسی چیزوں پر خرچ کرتا ہے۔
مفتاح اسماعیل نے کہا ملک میں 80 فیصد صنعتیں درآمدات اور مقامی فروخت کے لیے لگی ہوئی ہے برآمدات کے لیے نہیں لگی اسلیے کوشش ہوگی کہ اب زیادہ تر صنعتیں برآمدات کے لیے لگیں،چونکہ توانائی بہت مہنگی ہوگئی ہے اس لیے ہماری صنعتیں مقابلے کی دوڑ سے نکل گئی ہیں اور توانائی کی عدم فراہمی کی وجہ سے بند بھی ہوجاتی ہیں، گزشتہ دسمبر میں حکومت نے صنعتوں کو نصف گیس دینے کا اعلان کیا تھا جسے فروری میں مزید کم کردیا گیا تھا،اب ہم ہر صنعت کو گیس دے رہے ہیں لیکن اگر مسلم لیگ(ن) کے سابقہ دور میں جس طرح توانائی کے سودے کیے تھے اگر پچھلی حکومت کووڈ کے دنوں میں اس جیسے سودے کرلیتی تو آج بجلی، پیٹرول کی مہنگائی میں شاید کمی ہوتی۔
وزیر خزانہ نے کہا یہ جو کہتے ہیں کہ بارودی سرنگیں بچھائی گئی تو یہ صرف مسلم لیگ (ن) یا اتحادی حکومت کے لیے نہیں تھی بلکہ ریاست پاکستان کے لیے تھیں، آج معیشت مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی کی نہیں بلکہ پاکستان کی خراب ہورہی ہے،رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری سوا ارب ڈالر ہے جو سال 18-2017 میں 2 ارب ڈالر تھی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی آج زیادہ ہے پاکستان ہر اعداد و شمار میں پیچھے گیا ہے،کورونا وائرس کی وبا ایک بہترین موقع تھا کیوں کہ اس کے بعد تیل، گیس، گھی کی قیمتیں کم ہوئیں جسے گزشتہ حکومت نے چھوڑ دیا،کووڈ سے دنیا بھر میں جانوں کا نقصان ہوا لیکن ریاست پاکستان کو معاشی نقصان نہیں ہوا تھا، جی 20 ممالک نے 4 ارب ڈالر سے زائد کی ادائیگیاں مؤخر کردیں، آئی ایم ایف سے ڈیڑھ ارب ڈالر اضافی ملے، پروگرام معطل کردیا یعنی دنیا بھر سے بہت سی مراعات ملیں لیکن آپ نے ان مراعات سے اپنی مالی حالرت بہتر نہیں کی۔
انہوں نے کہاگندم بھی آج ہمیں درآمد کرنی پڑ رہی ہے اور رواں برس 3 ملین ٹن گندم درآمد کی جائے گی جس کے لیے روس سے بات چیت کرنے کی پہلی منظوری دی گئی ہے، یہ وہ گندم تھی جو 18-2017 میں برآمد کررہے تھے،اسی طرح گزشتہ برس ہم نے چینی بھی درآمد کی جو اس سے قبل ہم برآمد کررہے تھے، بہت جگہوں پر پاکستان پیچھے چلا گیا یہ کوئی اتفاق نہیں ہوسکتا بلکہ ان کی غلطیاں ہیں،2017- 18میں جب ہم جی ڈی پی میں ٹیکس کی شرح 11.1 فیصد تھا لیکن پی ٹی آئی کی حکومت اپنے تینوں برسوں میں اس شرح کو نہیں چھو سکی۔
وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا اس سال بھی 11.1 پر نہیں پہنچے گی لیکن 8.5 فیصد پہنچنے کا امکان نہیں جبکہ اتنے بڑھے نیوکلیئر پاور ملک کے لیے ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح اور برآمدات کی شرح 15 فیصد سے کم نہیں ہونی چاہی،رواں برس ہماری درآمدات میں 50 فیصد اضافہ ہوا لیکن پاکستان میں مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ہماری درآمدات زیادہ ہے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری برآمدات زیادہ نہیں ہے۔
