مصر میں جانوروں کی حنوط شدہ لاشیں دریافت

مصری حکام نے لکڑی اور کانسی کے بنے 75 تابوت اور متعدد جانوروں کی حنوط شدہ لاشیں دریافت کرنے کا دعویٰ کر دیا۔
برطانوی اخبار ’دی گارجین‘ نے مصری محکمہ آثار قدیمہ کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ دریافت کیے گئے مذکورہ تابوت اور جانوروں کی حنوط شدہ لاشیں 28 ویں قبل مسیح صدی سے 30 ویں قبل مسیح صدی کے درمیان کی ہیں۔رپورٹ کے مطابق مذکورہ تابوتوں اور جانوروں کی حنوط شدہ لاشوں کو 2004 میں دریافت کیے جانے والے ’سقارہ قبرستان‘ کے قریب دریافت کی گئیں جو تاریخی مقام ’ہاستت ہیکل‘ کے قریب ہے۔
مصری حکام نے دریافت ہونے والے تابوتوں اور جانوروں کی حنوط شدہ لاشوں کو ایک ’عجائب گھر‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ امید ہے کہ مذکورہ جگہ سے مزید نایاب چیزیں ملیں گی۔ مصری حکام کے مطابق جانوروں کی حنوط شدہ لاشیں جس جگہ ملی ہیں وہاں قدیم مصری ہذیب میں ’بلیوں کا مندر‘ ہوا کرتا تھا جہاں ان سمیت دیگر جانوروں کی عبادت کی جاتی تھی۔
دریافت ہونے والی جانوروں کی حنوط شدہ لاشوں میں سے کچھ جانوروں کی شناخت نہیں ہوسکی۔ دریافت ہونے والے جانوروں کی حنوط شدہ لاشوں میں شیر کے بچوں، مگر مچھ، بلیوں، نیولے، سانپ، بھنوروں، باز اور بندروں کی لاشیں شامل ہیں۔
حکام نے دریافت ہونے والے تابوتوں اور جانوروں کی حنوط شدہ لاشوں کو عوام کی نمائش کے لیے بھی رکھا اور لوگ انہیں دیکھ کر حیران رہ گئے۔ 
