مصنوعی ذہانت دور حاضر کی اہم پیشرفت کیوں ہے؟

اے آئی یا مصنوعی ذہانت ایسی ٹیکنالوجی ہے جو انسانوں کی طرح سوچتی ہے۔ گو اس تیکنک میں شاندار کامیابی دور حاضر کی ہی پیشرفت ہے لیکن انسان کو یہ خیال آج نہیں بلکہ بہت پہلے آچکا تھا، 1956 امریکی ریاست نیو ہیمپشائر کے شہر ہینوور کے ڈاٹ متھ کالج میں ایک کانفرنس کے دوران مصنوعی ذہانت کی اصطلاح باقائدہ طور پر وضع کی گئی تھی۔مصنوعی ذہانت نے 20ویں صدی کے وسط میں اپنے آغاز کے بعد سے ایک طویل سفر طے کیا، یہ سب اس خیال سے شروع ہوا کہ مشینوں کو ایسے کام انجام دینے کے لیے پروگرام کیا جا سکتا ہے جن کے لیے عام طور پر انسانی ذہانت کی ضرورت ہوتی ہے۔60 کی دہائی میں ماہر نظاموں کی تشکیل عمل میں لائی گئی جو انسانی ماہرین کی فیصلہ سازی کی صلاحیتوں کی نقل کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے تھے۔ یہ نظام ادویات اور مالیات جیسے شعبوں میں استعمال ہوتے تھے۔70 کی دہائی میں اے آئی کی ذیلی فیلڈ کے طور پر مشین لرننگ کو عروج ملا، 80 کی دہائی میں یہ ایک مشکل دور تھا کیوں کہ تحقیق کے لیے فنڈنگ ختم اور میدان میں پیشرفت سست ہو گئی تھی۔90 کی دہائی میں یہ انٹرنیٹ کے عروج کا دور تھا جس نے اے آئی کے لیے نئے مواقع فراہم کیے، ڈیپ لرننگ کا ظہور ڈیپ لرننگ مشین لرننگ کی ذیلی فیلڈ کے طور پر ابھرا۔ آج آرٹییفیشل انٹیلی جینس ہر جگہ ہے، یہ سری اور الیکسا جیسے ورچوئل اسسٹنٹس کو فعال بناتی ہے۔الغرض اے آئی نے 20 ویں صدی کے وسط میں اپنے آغاز کے بعد سے ایک طویل سفر طے کیا اگرچہ بسااوقات اس کی پیشرفت سست بھی رہی لیکن مشین لرننگ اور ڈیپ لرننگ میں حالیہ پیشرفت نے اے آئی کے لیے نئی کامیابیاں اور مواقع پیدا کیے ہیں۔ماضی میں اے آئی کے حوالے سے اتنی آگاہی نہیں تھی لیکن لیکن آج اس کی تکنیک اور استعمال کی وجہ سے یہ پوری دنیا میں مشہور ہو چکی ہے۔ایک زمانے میں اے آئی صرف فلموں اور ٹی وی شوز میں استعمال ہوتا تھا لیکن آج اس کے استعمال کے شعبوں کی ایک وسیع رینج ہے اور اب یہ تکنیک اتنی مہنگی بھی نہیں رہی۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال انسانیت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے لیکن کم ازکم ٹیکنالوجی کپمنیوں سمیت بہت سے ماہرین اس سے اتفاق نہیں کرتے اور انہیں یقین ہے کہ یہ ٹیکنالوجی انسانیت کے لیے بہت سودمند ہے۔بہرحال اے آئی کا ارتقاء ابھی جاری ہے لیکن معاشرے پر اس کے اثرات کے بارے میں خدشات بھی ظاہر کیے جاتے ہیں جیسا کہ لوگوں کی ملازمتوں پر ضرب لگنے کا خدشہ اور پرائیویسی کے حوالے سے خدشات تاہم مناسب ضابطے اور اخلاقی تحفظات کے ساتھ اس تکنیک میں ہماری زندگیوں کو متعدد طریقوں سے بہتر بنانے کی صلاحیت ضرور موجود ہے۔

Back to top button