مطیع اللہ جان اغوا کیس میں پولیس نے کھوتا کھوہ میں گرا دیا


اسلام آباد کی پولیس نے تین ماہ تک سینیئر صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کی تحقیقات کے بعد حسب توقع کھوتا کھوہ میں گراتے ہوئے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ’جن افراد نے مطیع اللہ جان کو اغوا کیا تھا اُن کی شناخت ممکن نہیں ہو سکی‘۔ اسلام آباد پولیس کے انسپکٹر جنرل کی طرف سے اس مقدمے کی تفتیش کے سلسلے میں بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے تفتیش کی پیش رفت سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ صحافی کے مبینہ اغوا کی ویڈیو میں نظر آنے والے اغوا کاروں کی شناخت ممکن نہیں ہو سکی ہے کیوںکہ اغوا کی ویڈیو اس قابل نہیں ہے کہ نادرا اہلکاروں کی شناخت کر سکے۔ تاہم مطیع اللہ جان نے اسلام آباد پولیس کا یہ دعویٰ مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ میرے اغواکاروں کے بارے میں پورا ملک جانتا ہے اور کیمروں کی فوٹیج سے اغوا کاروں کی شناخت بالکل ممکن ہے اگر کوئی ایسا کرنا چاہے۔ یاد رہے کہ مطیع اللہ جان نے پہلے بھی اس حوالے سے ان خدشات کا اظہار کیا تھا کہ اسلام آباد پولیس ان کے طاقتور اغوا کاروں کا نام نہیں لے سکتی اور تحقیقات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔
یاد ریے کہ 21 جولائی 2020 کو اسلام آباد کے ایک سیکٹر سے اغوا کیے جانے والے سینئر صحافی مطیع اللہ جان اپنے اغوا کے 12 گھنٹے بعد اپنے گھر واپس پہنچ گئے تھے۔ اس حوالے سے اعلی عدلیہ نے تحقیقات کا حکم جاری کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس سے ایک مفصل رپورٹ تیار کرنے کا حکم دیا تھا تا کہ اغوا کاروں کے بارے میں پتہ چل سکے۔ اب تین ماہ کی تحقیقات کے بعد اسلام آباد پولیس نے سپریم کورٹ میں اپنی رپورٹ جمع کرواتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا نے سی سی ٹی وی ویڈیو میں نظر آنے والے مبینہ اغواکاروں کی شناخت سے معذوری ظاہر کی ہے۔ پولیس کو فراہم کردہ سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تین گاڑیوں میں سوار افراد مطیع اللہ کو زبردستی ایک گاڑی میں بٹھا رہے ہیں۔ پولیس کی رپورٹ میں کہا گیا یے کہ ویڈیو فوٹیج ’غیر معیاری کیمرے سے بنی ہے ’جس کی وجہ سے مبینہ اغوا کاروں کی گاڑیوں کے نمبر بھی معلوم نہیں ہو سکے ہیں۔‘ رپورٹ کے مطابق واقعے کی جگہ پر سیف سٹی کا کوئی کیمرہ نصب نہیں تھا اور واقعے کا کوئی چشم دید گواہ موجود نہیں، نہ ہی کسی رہائشی نے اس واقعے سے متعلق اپنا بیان جے آئی ٹی کو ریکارڈ کروایا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جن افراد نے اس مقدمے کی تفتیش کے سلسلے میں بیان ریکارڈ کروایا ہے اُن میں مذکورہ صحافی کی اہلیہ اور سکول میں پھینکا گیا موبائل واپس کرنے والی ٹیچر شامل ہیں۔
اسلام آباد پولیس کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مطیع اللہ جان کے بیان کے بعد نادرا سے زرق خان نامی شخص کا ڈیٹا لیا گیا ہے اور اس ادارے کے ریکارڈ کے مطابق ملک بھر میں 1200 سے زائد افراد زرق خان کے نام سے رجسٹرڈ ہیں۔ تاہم اس بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملزمان جس گاڑی میں صحافی کو اغوا کرکے لے گے اس کے بارے میں نیشنل ہائی ویز اتھارٹی یعنی این ایچ اے نے تفتیشی ٹیم کی طرف سے اگست میں لکھے گئے خط پر ابھی تک جواب نہیں دیا ہے۔ این ایچ اے سے تین ٹول پلازوں کی فوٹیج مانگی گئی تھی جو ابھی تک فراہم نہیں کی گئی ہے۔ پولیس رپورٹ میں نادرا پر بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ ادارے کی طرف سے ان پانچ افراد کی تصاویر دے کر ان کا پتہ پوچھا گیا، جو اس واقعہ کے بارے میں کچھ معلومات رکھتے ہیں، لیکن نادرا نے یہ ریکارڈ بھی فراہم نہیں کیا۔ پولیس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹیلیجنس بیورو یعنی آئی بی کے جیو فینسنگ ماہرین نے واقعے کے وقت علاقے میں ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ موبائل نمبرز ٹریس کیے ہیں اس کے علاوہ اس واقعے کے چند منٹوں کے دوران اغوا کاروں کے راستے پر سیف سٹی کیمروں میں 684 گاڑیوں اور 52 ڈبل کیبن گاڑیوں کی آمد و رفت ریکارڑ ہوئی ہے۔
تاہم اسلام آباد پولیس کی اس کھسی رپورٹ پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے مطیع اللہ جان کا کہنا ہے کہ جو گاڑیاں اُنھیں اغوا کرنے آئی تھیں وہ اس طرف سے آئی تھیں جس طرف لال مسجد واقع ہے اور وہاں پر سیکیورٹی کیمرے اور سیف سٹی کمیرے دونوں لگے ہوئے ہیں۔ اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ ’پولیس جان بوجھ کر ان کیمروں کی فوٹیج کو تحقیقاتی رپورٹ کا حصہ نہیں بنا رہی۔‘ انہوں نے کہا کہ میرے اغوا کاروں کے بارے میں پورا ملک جانتا ہے صرف اسلام آباد پولیس ہی نہیں جانتی کیونکہ وہ جاننا ہی نہیں چاہتی اور کبوتر کی طرح آنکھیں بند کئے ہوئے ہے۔ مطیع اللہ جان نے کہا کہ نادرا اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی طرف سے اسلام آباد پولیس کے ساتھ عدم تعاون بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے اغوا میں کتنے طاقتور لوگ ملوث تھے۔
اسلام آباد میں بھی مطیع اللہ جان کے اغوا کے حوالے سے عمومی تاثر یہی ہے کہ ان کو محکمہ زراعت کے لوگوں نے شمالی علاقہ جات کی سیر کروانے کے لیے اغوا کیا تھا لیکن چند ہی گھنٹوں میں صحافی برادری کی جانب سے سخت ترین ردعمل آنے کے بعد انہیں اپنا یہ منصوبہ ترک کرنا پڑا اور مطیع اللہ کو رہا کرنا پڑا۔تاہم مطیع اللہ جان کے اغوا کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی اور چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ 28 اکتوبر کو اغوا کے اس کیس کی سماعت کرے گا۔
واضح رہے کہ گذشتہ سماعت کے دوران عدالت نے اسلام آباد پولیس کی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ دن دیہاڑے ایک شخص کو اغوا کر لیا گیا لیکن ابھی تک ملزمان کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔ کیس کی آخری سماعت کے دوران اسلام آباد پولیس نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا تھا کہ مطیع اللہ جان کے اغوا کاروں کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی معلومات حاصل نہیں ہو سکیں جس کی بنیادی وجہ حکومتی ایجنسیوں اور اداروں کا تحقیقات کے حوالے سے عدم تعاون ہے۔ سپریم کورٹ میں 5 اگست 2020 کو جمع کروائی گئی اپنی ابتدائی رپورٹ میں پولیس حکام نے بتایا تھا کہ انہوں نے وفاقی وزارت دفاع، انٹیلی جنس بیورو، انٹر سروسز انٹیلی جنس، ملٹری انٹیلی جنس، نادرا اور اسلام آباد سیف سٹی والوں سے اس واقعے کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن تاحال کسی بھی ادارے کی طرف سے تحقیقاتی ٹیم کو کسی قسم کی کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ لہذا پولیس ابھی تک اغوا کاروں کے حوالے سے کوئی حتمی نتیجہ نکالنے میں ناکام ہے۔ یہ کھوکھلی رپورٹ سپریم کورٹ میں اسلام آباد کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس، آپریشنز نے جمع کروائی جو کہ مطیع اللہ جان کے اغوا کی تحقیقات کرنے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم یا سپیشل انویسٹیگیشن یونٹ کے سربراہ ہیں۔ اب تین ماہ بعد ان کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی حتمی رپورٹ بھی ابتدائی رپورٹ سے کوئی زیادہ مختلف نہیں ہے کیونکہ اس میں بھی اغوا کاروں کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی انفارمیشن نہیں دی گئی۔ شاید ان کی اتنی ہی ذمہ داری تھی کہ وہ سپریم کورٹ کو آگاہ کریں کہ پولیس اغوا کاروں کے حوالے سے کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پائی اور انہوں نے اپنی یہ ذمہ بخوبی سرانجام دی۔
یاد رہے کہ مطیع اللہ جان کو 21 جولائی 2020 کے روز اسلام آباد کے سیکٹر جی تھری سے پولیس وردیوں میں ملبوس آٹھ نامعلوم افراد اغوا کر کے لے گئے تھے۔ تاہم شدید ردعمل کے بعد اسی رات ایک  بجے کے قریب انہیں وفاقی دارالحکومت سے 70 کلومیٹر دور فتح جنگ کے قریب چھوڑ دیا گیا تھا۔  سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو مطیع اللہ جان کے اغوا کاروں کے بارے میں رپورٹ جمع کروانے کے لئے وقت دیا تھا جو پورا ہونے پر ایک کھوکھلی رپورٹ جمع کروادی گئی ہے اور گونگلووں سے مٹی جھاڑ دی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button