معاشی بحالی کا منصوبہ تیار،دولت مند افراد پرٹیکس لگانےکی تجویز

نگران حکومت نے ملکی معیشت کی بہتری کیلئے منصوبہ تیار کرلیا۔ نگران وزیرخزانہ ڈاکٹر  شمشاد اخترکے تیار منصوبے کے مطابق دولت مند افراد پر ٹیکس لگانے کی تجویز بھی سامنے آ گئی۔حکومتی منصوبے کے تحت بڑے اور مقتدر حلقوں پر ٹیکسوں میں اضافہ، اخراجات میں کمی اور توانائی کے شعبے میں بے انتظامی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ نج کاری پر بھی توجہ دی جائے گی۔مجموعی قومی پیداوار کے تین فیصد مساوی اخراجات میں کٹوتی کی جائے گی جو 3 ہزار 200ارب روپے کے حجم کے برابرہوگی۔معیشت بحالی منصوبے میں یہ بھی شامل ہے 13سو ارب روپے کے مساوی دی گئی ٹیکس مراعات کو ختم کیا جائے گا اور اخراجات میں بچت کے زمرے میں 1900 ارب روپے مرکزی بینک کے اکائونٹ میں جمع کرائی جائے گی۔ اس کے علاوہ نگراں حکومت کی جانب سے قابل انتقال اثاثہ جات پر دولت ٹیکش عائد کیے جانے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔

حکومت کی تجویز کے مطابق آئندہ دو برسوں کے دوران 5ہزار 600 ارب روپے بالواسطہ ٹیکسوں کی مد میں حاصل ہوں گے اور تخمینہ ہے کہ سیلز ٹیکس کی مد میں 3 ہزار ارب روپے، انکم ٹیکس کی مد میں 1800ارب روپے اور کسٹم اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں مزید 800 ارب روپے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

نگراں وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر کی جانب سے معاشی بحالی کا یہ منصوبہ کابینہ کمیٹی برائے معاش بحالی کے اجلاس میں پیش کیا گیا تھا جسے کمیٹی نے منظور کرلیا اور اب سے سینت کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں پیش کرنے کے علاوہ نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کو بھی پیش کیا جائے گا۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ کابینہ کمیٹی نے زرعی شعبے پر مزید ٹیکس اور ایف بی آر کے جانب سے قابل انتقال اثاثہ جات پر ویلتھ ٹیکس کے نفاذ کی بھی تجویز پیش کی گئی۔

Back to top button