معاون خصوصی ظفر مرزااورعامر کیانی بھی نیب کے نشانے پر

قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیر صحت عامر محمود کیانی کے خلاف انکوائری اور معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کے خلاف شکایت کی جانچ پڑتال کی منظوری دے دی۔
نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی سربراہی میں نیب ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں ہوا، جہاں ڈپٹی چیئرمین نیب سمیت دیگر اعلیٰ عہدیداران نے شرکت کی۔اس حوالے سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو اجلاس میں 3 انکوائریوں کی منظوری دی گئی۔ان 3 انکوائریز کے حوالے سے نیب اعلامیے میں بتایا گیا کہ سابق وزیر برائے قومی ہیلتھ سروسز اینڈ کوآرڈینیشن اور دیگر، سول ایوی ایشن کے افسران/ اہلکاروں اور سی ڈی اے کے افسران و اہلکاروں کے خلاف انکوائریز شامل ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقتدار میں آنے کے بعد عامر محمود کیانی کو وزیر قومی صحت بنایا گیا تھا تاہم انہیں کچھ ہی عرصے بعد اپریل 2019 میں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اور ظفر اللہ مرزا کو وزیر اعظم کا معاون خصوصی برائے صحت مقرر کیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ نیب اعلامیے میں یہ بھی بتایا گیا کہ بورڈ نے ڈاکٹر ظفر مرزا کے خلاف شکایت کی جانچ پڑتال کی بھی منظوری دی۔مزید یہ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں وفاقی وزارت پیٹرولیم اور قومی وسائل کے افسران و اہلکاروں اور دیگر کے خلاف انکوائری آڈٹ پیراز کے جائزے کے بعد وزارت پیٹرولیم کو مزید قانونی کارروائی کے لیے بھجوانے کی منظوری دی گئی۔بیان میں بتایا گیا کہ چیئرمین نیب کی قیادت میں احتساب سب کے لیے کی پالیسی کے تحت 2 برس میں 178 ارب روپے بلواسطہ یا بلاواسطہ طور پر بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے گئے۔ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ نیب کے اس وقت ایک ہزار 229 بدعنوانی کے ریفرنسز احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، جن کی مالیت تقریباً 900 ارب روپے سے زائد ہے۔
خیال رہے کہ مارچ کے مہینے میں معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) کے ڈپٹی ڈائریکٹر پر پاکستان سے 2 کروڑ ماسک کی اسمگلنگ کا الزام عائد کیا گیا تھا۔یہ معاملہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے دائرہ کار میں آیا تھا جہاں ڈاکٹر ظفر مرزا اور ڈپٹی ڈائریکٹر ڈریپ غضنفر علی کے خلاف اسمگلنگ کی شکایت ملنے پر تحقیقات شروع کردی گئی تھیں۔ایف آئی اے نے پاکستان ینگ فارمسسٹ ایسوسی ایشن کی شکایت پر تحقیقات کا آغاز کیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ڈاکٹر ظفر مرزا نے غضنفر علی کی ملی بھگت سے ماسک اسمگل کرائے۔
