معروف صحافی محمد ضیاالدین انتقال کر گئے
تجربہ کار صحافی اور ڈان کے سابق اسٹاف محمد ضیاالدین طویل علالت کے بعد 83 سال کی عمر میں پیر کو اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔
ضیاالدین نے 1964 میں کراچی یونیورسٹی سے صحافت میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، بعد ازاں اسی سال انہوں نے پاکستان پریس انٹرنیشنل میں کب رپورٹ کے طور پر اس پیشے میں قدم رکھا۔
بعدازاں انہوں نے ڈان میں شمولیت اختیار کی جہاں وہ طویل عرصے تک اسلام آباد اور لاہور کے لیے بطور ریزیڈنٹ ایڈیٹر کام کرتے رہے، وہ 2006 سے 2009 تک لندن میں اخبار کے نمائندے بھی رہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اور بعد ازاں 2002 سے 2006 تک ساؤتھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشن کے صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
’صحافت کے علمبرداروں میں سے ایک‘
ان کے انتقال پر ملک کی صحافت اور میڈیا برادری کی جانب سے تعزیت کا اظہار کیا گیا جس میں مختلف شخصیات نے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔
ایک اور صحافی ناصر جمال نے کہا کہ ’وہ بہترین اور قد آور صحافیوں میں سے ایک اور پاکستان میں صحافت کے علمبرداروں میں سے ایک تھے، ہم جیسے جونیئرز کے لیے وہ ہمیشہ بہت رہے ہیں‘۔
وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے انہیں انتہائی قابل اور آزاد صحافیوں میں سے ایک قرار دیا۔
سینئر صحافی حامد میر نے کہا کہ ضیاالدین ان چند صحافیوں میں سے ایک تھے جن کا عملی تجربہ نصف صدی پر محیط ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے‘۔
دی نیوز کی اوپ-ایڈ ایڈیٹر زیب النسا برکی نے ٹوئٹ کیا کہ وہ باوقار اور نرم مزاج شخص تھے جو اپنے پیشے میں نہایت مہارت رکھتے تھے۔
دریں اثنا، سیاسی تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا کہ ضیاالدین نہ صرف ایک ’بہترین صحافی‘ تھے بلکہ ’ایک مشہور شخصیت اور تمام نوجوان صحافیوں کے لیے رہنما‘ تھے۔
ڈیجیٹل رائٹس کی رضاکار اور انسانی حقوق کی وکیل نگہت داد نے بھی ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ صحافی برادری میں نہایت دانشور شخصیت تھے اور پیشے اور اس سے آگے بہت سے لوگوں کے لیے ایک رول ماڈل تھے۔
