معروف لکھاری سیما غزل کی جان خطرے میں کیوں ہے؟


کراچی سے تعلق رکھنے والی معروف کہانی نویس اور شاعرہ سیما غزل پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہو گئی ہیں اور انہیں اپنے علاج اور جان بچانے کے لئے پچاس لاکھ روپے کی ضرورت ہے۔
اپنے جان لیوا مرض کی تشخیص ہونے کے بعد سیما غزل نے حکومت پاکستان سے مالی مدد مانگ لی ہے۔ سیما غزل کا شمار ملک کی نامور لکھاریوں میں ہوتا ہے، انہوں نے زمانہ طالب علمی میں ہی لکھنا شروع کیا تھا۔ انہوں نے نہ صرف افسانے اور شاعری لکھی بلکہ متعدد کامیاب ڈرامے بھی لکھے۔ زائد العمری سمیت دیگر مسائل کے بعد اب سیما غزل پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہو گئی ہیں اور ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ڈاکٹرز نے بتایا ہے کہ ان کے علاج پر پچاس لاکھ روپے کا خرچہ آئے گا۔ تاہم سیما غزل کا کہنا ہے کہ اس بڑھاپے میں ان کے پاس چند ہزار روپے بھی نہیں تو وہ پچاس لاکھ روپے کہاں سے لائیں گی لہذا انہوں نے صدر اور وزیر اعظم سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے علاج کے لیے رقم کا بندوبست کریں تاکہ ان کی جان بچ سکے۔
دوسری جانب اداکار شمعون عباسی نے انسٹاگرام پر سیما غزل کی علالت سے متعلق ایک نیوز چینل کی خبر کو شیئر کرتے ہوئے حکومت سے ان کی مدد کرنے کی اپیل کی۔
ڈاکٹرز کاکہنا ہے کہ سیما کے پھیپھڑوں کا ٹرانسپلانٹ ہوگا جو کہ بیرون ملک ہی ہوگا اور اس پر بھاری خرچ آتا ہے۔ سیما کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز نے انہیں پڑوسی ملک بھارت یا پھر امریکا جانے کی تجویز دی ہے مگر ان کے پاس اتنی رقم نہیں ہے، اس لیے انہوں نے صدر اور وزیراعظم سے تعاون کی اپیل کی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں سیما غزل کو آکسیجن کے ساتھ بستر پر علیل حالت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ انہیں تین نومبر کو کراچی کے الشفا ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ یاد رہے کہ سیما غزل نے 1970 میں کم عمری میں ہی بطور شاعرہ اپنی پہچان بنا لی تھی، جس کے بعد انہوں نے افسانے بھی لکھنا شروع کیے۔ سیما نے 1986 مین خواتین کے ایک معروف ڈائجسٹ دوشیزہ میں بطور ایڈیٹر اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور ایک دہائی سے زیادہ وہاں آپ خ ذمہ داریاں ادا کرتی رہیں۔
’دوشیزہ‘ کی ایڈیٹر شپ کے دوران انہوں نے 5 ہزار سے زائد کہانیاں لکھیں، جس کے بعد 1990 کی دہائی میں انہوں نے ڈرامے بھی لکھنا شروع کیے اور جنکو بہت پسند کیا گہا۔ سیما غزل کا تعلق ادبی کھرانے سے ہے اور ان کے والد سمیت ان کے کزن، چچا اور خاندان کی دیگر خواتین بھی ادب اور شوبز سے وابستہ رہی ہیں۔

Back to top button