مقتول گلوکار سدھو موسے والا کا آخری گانا ریلیز ہو گیا

سرحدوں میں تقسیم پنجاب کی مشترکہ آواز شبھ دیپ سنگھ سدھو عرف سدھو موسے والا کے قتل کے تین ہفتوں بعد ان کے آخری گانے کو یوٹیوب پر ریلیز کر دیا گیا ہے، جسے اب تک 30 لاکھ سے زائد لوگ دیکھ اور سُن چکے ہیں۔ ایس وائے ایل‘ نامی اس گانے میں انڈین ریپر کی کچھ پرانی تصاویر اور ویڈیوز کو استعمال کیا گیا ہے اور اس کے آخر میں یہ پیغام لکھا گیا ہے کہ پنجاب کو صحرا بننے سے روکنے کے لیے آپ میں سے ہر ایک شخص پنجاب کے دریاؤں کے پانی کو بچانے کی آخری اُمید ہے۔
گانے پر موجود دو لاکھ سے زیادہ کمنٹس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ سدھو موسے والا کو کس حد تک یاد کر رہے ہیں، ایک فین نے لکھا ہے کہ آپ نے پنجاب کی بات کی، اس بات کا دُکھ ہے کہ آپ ہمارے درمیان نہیں مگر آپ دل میں ضرور ہو بھائی، ایک دوسرے فین کا کہنا تھا کہ آپ ہمیشہ لیجنڈ رہیں گے اور لیجنڈ کبھی نہیں مرتے۔سدھو موسے والا کے نئے گانے کا نام ’ایس وائے ایل‘ ہے جس سے مراد ’ستلج یمنا لنک کینال‘ ہے، یہ زیر تعمیر 214 کلومیٹر طویل نہر ستلج اور یمنا دریاؤں کو آپس میں ملاتی ہے۔ تاہم یہ منصوبہ پنجاب اور ہریانہ کی ریاستوں کے درمیان تنازع کا باعث بنا ہوا ہے، اس کے ذریعے پنجاب کے دریاؤں کا پانی دوسری ریاستیں بھی استعمال کر سکیں گی جس پر پنجاب کے کئی رہنماؤں کو اعتراض ہے۔
اس گانے کے بول اور دھن بھی سدھو موسے والا نے خود ہی بنائی تھی۔ گانے کے آغاز میں سدھو کو یہ کہتے ہوئے سُنا جا سکتا ہے کہ پنجاب میں ہماری سرکار آ گئی ہے، اب 2025 تک ہریانہ کے ہر کھیت تک پانی پہنچے گا، یہ ہماری گارنٹی ہے، گانے میں بھی اسی مسئلے کا ذکر کیا گیا ہے اور ایک جگہ کہا گیا ہے کہ ’شمالی انڈیا میں پانی کی سطح خطرناک حد تک گِر رہی ہے۔ سدھو موسے والا کے گانے کے ایک حصے کا ترجمہ کچھ ایسا بنتا ہے کہ پانی کا کیا ہے، پانی تو پلوں کے نیچے سے بہتا ہے، ہمیں لاکھ بار ساتھ ملاؤ، ہم جھکیں گے نہیں، دھمکی دے کر مانگتے ہو، ہم پھر نہیں دیتے، پانی چھوڑو، ہم قطرہ بھی نہیں دیں گے۔
موسے والا کے گانے ایس وائے ایل میں بلوندر سنگھ کا بھی ذکر ہے جنھیں سکھ برداری آزادی کی تحریک میں ہیرو کا درجہ دیتی ہے اور انھیں ستلج یمنا لنک کینال کی مخالفت پر سراہا جاتا ہے، یہ گانا سکھوں کے استحصال اور آزادی کے بارے میں سنجیدہ سوالات پوچھنے پر اُکساتا ہے۔ سدھو موسے والا کے گانے کو ان کے فینز کی جانب سے مسلسل سراہا جا رہا ہے۔ جپنیت سنگھ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ سدھو بھائی کے گانوں نے ہمیشہ یہ ثابت کیا ہے کہ وہ سچ بولنے سے کبھی نہیں ڈرے، کچھ لوگ زندہ ہوتے ہوئے بھی اپنے لوگوں کے لیے سٹینڈ نہیں لیتے، کچھ لوگ اس دنیا میں نہ ہوتے ہوئے بھی سٹینڈ لینا نہیں چھوڑتے۔
کور نامی صارف کہتی ہیں کہ وہ ان فنکاروں میں سے ایک ہیں جنھوں نے ’پنجاب کے پانی کو دوسری ریاستوں کی طرف موڑنے کے حوالے سے بات کی تھی، رنویر سنگھ نے لکھا کہ اگر آپ کو سدھو موسے والا کا نیا گانا پسند آیا ہے تو خالصتان کے لیے مسلح جدوجہد کے بارے میں جانیں جسکے بارے میں انکا میوزک ہے۔ ایک اور صارف ویبھو جین نے پوچھا کہ کیا سدھو موسے والا فساد برپا کرنے کی کوشش کر رہے تھے؟ بار بار خالصتان کا مسئلہ کیوں اُجاگر کیا گیا؟ کیلیفورنیا سکھ یوتھ آلائنس نامی اکاؤنٹ نے لکھا کہ سدھو موسے والا کا نیا گانا ہمیں پنجاب کے استحصال اور ہماری آزادی کے راستے کے بارے میں سنجیدہ سوالات کرنے پر اُکساتا ہے، ہرمان سندھو نے لکھا کہ اگر ہم واقعی سدھو موسے والا کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں پنجاب کے مسائل کے لیے کھڑا ہونا چاہئے۔
