ملک ریاض سے ٹکر لینے والے پولیس افسران پاش پاش ہو گئے

اداکارہ عظمی خان پر تشدد کے واقعے میں ملوث ملک ریاض کی بیٹیوں کے خلاف درج ایف آئی آر کا اخراج اور کیس درج کروانے میں اہم کردار ادا کرنے والے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور اور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور کی اپنے عہدوں سے فوری فراغت اس بات کی غماز ہے کہ اس ملک میں قانون طاقتور کے گھر کی لونڈی ہے اورکمزورغریب کی جورو ہے۔
پاکستان کے فنکاروں، قلم کاروں اور سماجی رہنماوں نے اداکارہ و ماڈل عظمی خان کی طرف سے ملک ریاض کے ساتھ ڈیل کرنے اور ملک ریاض کی بیٹیوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے والے دو سینیئر ترین پولیس افسران کے تبادلوں پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’طاقتوراور اشرافیہ کی فتح‘ قرار دیا ہے۔ فنکاروں کا کہنا ہےکہ ملک کی طاقتور اشرافیہ نے پوری قوم کو ‘مرغا بنا رکھا ہے۔ واضح رہے کچھ روز قبل معروف اداکارہ عظمی خان اور ان کی بہن ہما خان کو آمنہ عثمان نامی خاتون نے مبینہ طور پر مسلح گارڈز کے ساتھ ہراساں کیا تھا اوران کی رہائش گاہ پر توڑ پھوڑ کی تھی۔ آمنہ کے ساتھ مبینہ طور پر معروف پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کی دو بیٹیاں پشمینہ ملک اور امبر ملک بھی تھیں۔ جنہوں نے نہ صرف عظمیٰ خان کو گھر میں زدوکوب کیا بلکہ گالیاں بھی بکیں اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ذریعہ اٹھوانے کی دھمکیاں بھی دیں۔ اس واقعہ کے بعد عظمی خان نے لاہور میں اپنے وکلاء کے ہمراہ ایک دھواں دھار پریس کانفرنس کی، جس میں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ وہ مقدمے کی پیروی کریں گی اور اس سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گی۔ 29 مئی 2020 کے روز انہوں نے ایسی افواہوں کی بھی تردید کی تھی کہ وہ ایف آئی آر واپس لے رہی ہیں۔ 30 مئی کے روز لاہور کی ایک مقامی عدالت نے ایف آئی آر میں نامزد تینوں خواتین کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کئے تھے۔ تاہم 2 جون کے روز عظمی کی طرف سے مقدمہ واپس لینے کی درخواست لاہور کے متعلقہ تھانے میں جمع کروائی گئی۔ اس کےعلاوہ متعلقہ عدالت میں بھی اس حوالے سے حلف نامے جمع کرائے گئے جن میں اداکارہ کی طرف سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان کی طرف سے درج کرائی گئی ایف آئی آر ایک غلط فہمی کا نتیجہ ہے ان پر تشدد نہیں کیا گیا بلکہ ان کی بہن کے پاؤں پر زخم کانچ کا ٹکرا لگنے سے آیا۔ وہ اس کیس کے حوالے سے مزید کارروائی کرنے کی خواہاں نہیں لہذا ایف آئی آر فوری طور پر منسوخ کر دی گئی۔
تاہم ایف آئی آر خارج ہونے کے کے چوبیس گھنٹوں کے اندر ڈی آئی جی آپریشنز لاہور اور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور دونوں کو فوری طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے کیونکہ ان دونوں افسران نے مقدمہ درج کروانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
ایف آئی آر منسوخی کی درخواست دائر کرنے سے پہلے ایک ویڈیو پیغام میں عظمی خان کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ وہ اس وقت شدید دباؤ میں ہیں اور ان کو کہا جا رہا ہے کہ اگر انہوں نے کیس واپس نہ لیا تو ان کی جان کو بھی خطرہ ہے۔ آج نہیں تو کل، کل نہیں تو پرسوں، ورنہ کچھ مہینوں یا سالوں بعد بھی ان سے بدلہ لیا جا سکتا ہے۔
عظمی خان کی طرف سے اپنے اوپر ہونے والے بیہمانہ تشدد کیخلاف پریس کانفرنس نے پاکستان میں ہلچل مچادی تھی اور کئی حلقوں میں یہ خیال پیدا ہوگیا تھا کہ کوئی تو کمزور ہے جو ملک ریاض جیسے طاقتور کو بھی چیلنج کر رہا ہے۔ لیکن 2 جون 2020 کے روزاس واقعے کے ڈراپ سین نے تمام کمزور پاکستانیوں کو مایوس کیا اور ایک مرتبہ پھر ثابت ہوا کہ اس ملک میں قانون طاقتور کے گھر کی لونڈی ہے اور کمزور غریب کی جورو۔
اس واقعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے معروف اداکار جمال شاہ کا کہنا ہے، ”ملک میں ایک طاقتور اشرافیہ ہے، جس کا یک حصہ ملک ریاض بھی ہیں اور اشرافیہ نے قوم کو اسی طرح مرغا بنایا ہوا ہے جیسے کہ پرانے زمانے میں اسکول میں ماسٹر صاحب بچوں کو مرغا بناتے تھے۔ میڈیا، سیاست دان اور اداروں سمیت کسی میں بھی جرات نہیں ہے کہ اس اشرافیہ کو کوئی ذیدتی ختنے پر چیلنج کرے۔ انہوں نے کہا کہ ملک ریاض کی عظمی کے ساتھ بہ زور بازو ڈیل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر آپ طاقتور ہیں، تو آپ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ کوئی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ انکا کہنا تھا کہ ایسی اشرافیہ سے لڑنے کے لئے نظام کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، جس کے لئے انقلاب درکار ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر فنکاروں کی بڑی تعداد کی خاموشی کو بھی ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے پر ایک طاقتور آدمی کی بیٹیوں نے اپنی طاقت کا غلط استعمال کیا لیکن ہمارے ہاں فنکار اس لئے نہیں بولتے کیوںکہ وہ فنکار نہیں بلکہ انٹرٹینرز ہیں۔ فنکار بہت باشعور اور حساس ہوتا ہے، جو معاشرتی مسائل کا ادراک رکھتا ہے اور طاقت ور حلقوں کو چیلنج بھی کرتا ہے۔‘‘
معروف گلوکار اور برابری پارٹی پاکستان کے چیِئرمین جواد احمد، جمال شاہ کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ طاقتور اشرافیہ نے پوری قوم کو یرغمال بنا رکھا ہے، ”لیکن ان کا کہنا ہے کہ عظمی خان کا کیس سماجی نہیں سیاسی ہے۔ یہ سیاسی نظام ایسا ہے جس میں اشخاص اور ادارے سب طاقتور کے لئے معاون ثابت ہوتے ہیں اور یہ ایسے ہی چلتا رہے گا جب تک عام آدمی سیاست میں حصہ لے کر غریب عوام کو پارلیمنٹ میں نہیں پہنچائے گا۔” انہون نے کہا کہ پاکستان میں پہلے بھی طاقت ور حلقوں کے خلاف کچھ مقدمات دائرے ہوئے لیکن بعد میں متاثرہ فریق نے صلح کر لی۔
معروف سماجی رہنما فرزانہ باری کا خیال ہے کہ عدالتوں کو ایسے موقع پر از خود نوٹس لینا چاہیے، ”ہمارے ہاں خواتین میں صنفی شعور نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ دباو میں آجاتی ہیں۔ لیکن عظمی خان کے کیس میں سیاست دانوں اور میڈیا نے ان کی مدد نہیں کی۔ صرف سول سوسائٹی ان کے ساتھ کھڑی ہوئی۔ عدالتوں کو چاہیے کہ ایسے معاملات میں ڈیل کو منظور نہ کریں ورنہ طاقت ور ایسے ہی فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔‘‘
