ملک ریاض فیملی اور نیب کے مابین پلی بارگین کا معاملہ تعطل کا شکار

بحریہ آئیکون ٹاور، گالف سٹی مری، پنک ریزیڈینسی اور بحریہ ٹاﺅن راولپنڈی کے حوالے سے فریقین میں شرائط طے نہ ہونے کی وجہ سے نیب اور ملک ریاض فیملی کے مابین پلی بارگین کا معاملہ تعطل کا شکار ہو گیاہے. جس کے بعد نیب نے ملک ریاض فیملی پر پلی بارگین کیلئے دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے مذکورہ کیسزمیں تحقیقاتی عمل تیز کر دیا ہے.
پاکستان اور قومی احتساب بیورو (نیب) کی تاریخ میں سب سے بڑی پلی بارگین کا معاملہ لٹک گیاہے. پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے داماد نے نیب میں پلی بارگین کی چار درخواستیں دی ہیں جن میں میں بحریہ آئیکون ٹاور، گالف سٹی مری، پنک ریزیڈینسی اور بحریہ ٹاﺅن راولپنڈی کے حوالے سے پلی بارگین کرنے کی استدعا کی گئی ہے. ذرائع کے مطابق نیب ان کیسوں اور ان سے جڑی املاک کی مالیت 50 ارب روپے قرار دے چکا ہے تاہم فریقین کی طرف سے اپنی شرائط پر قائم رہنے کی وجہ سے معاملات میں تعطل آگیا ہے. طرفین میں پلی بارگین میں تعطل ہی ان کیسز میں سے اہم ترین بحریہ آیئکون ٹاور میں ملک ریاض سمیت 15 ملزمان کی طلبی کا سبب بناہے. 13 فروری کو احتساب عدالت اسلام آباد نے ملک ریاض انکے داماد زین ملک، سابق سینیٹر ڈاکٹر ڈنشا، لیاقت قائم خانی جیسے بڑے ملزمان کو طلب کر رکھا ہے. ذرائع کے مطابق معاملات میں اس وقت رقم کے تعین کے طریقہ کار اور ملزمان کے خلاف کیسز کے کاتمے کی شرائط کی وجہ سے تعطل کا شکار ہیں جس پر دونوں اطراف سے جو شرائط پیش کی جا رہی ہیں ان پر اتفاق نہیں ہو پا رہا. اس صورت حال میں نیب اپنی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے.یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ زین ملک نیب سے اسی طرح کی ڈیل کرنا چاہ رہے ہیں جیسی ملک ریاض نے مارچ 2019 کو سپریم کورٹ کے ساتھ ایک سیٹلمنٹ کی جس میں انھوں نے بحریہ ٹاﺅن کراچی کی متنازع زمین کے بدلے حکومت پاکستان کو 460 ارب روپے دینے کی پیشکش کی.
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اپریل2019میں بحریہ ٹاﺅن راولپنڈی اور مری سے متعلق عمل درآمد کیس میں50 ارب روپے کی پیشکش پر پنجاب حکومت، قومی احتساب بیورو (نیب) اور محکمہ جنگلات سمیت دیگر کو نوٹس جاری کیئے تھے‘جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بحریہ ٹاﺅن عملدرآمد کیس کی سماعت میں دونوں منصوبوں کے لئے بحریہ ٹاﺅن انتظامیہ نے مری اور راولپنڈی کی ہزاروں ایکٹرسرکاری اراضی پرقبضے کوقانونی شکل دینے کے لیے پچاس ارب روپے کی پیشکش کی تھی مری اور روالپنڈی کی بحریہ ٹاﺅن کے زیرقبضہ اراضی کا بڑا حصہ محکمہ جنگلات پنجاب کی ملکیت ہے.
یاد رہے کہ پاکستان دنیا کے کم تر جنگلات رکھنے والوں ممالک کی فہرست میں ہے جس کے کل رقبے کے دوفیصد سے بھی کم رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے جنگلات بیدری سے کاٹے جانے سے ماحولیاتی تبدیلیوں کے ملک پر تباہ کن اثرات ہوئے ہیں جن کی وجہ سے عالمی اداروں نے پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک میں ٹاپ فائیو ممالک کی فہرست میں رکھا ہوا ہے. ماحولیاتی تبدیلیوں سے ملک میں زراعت ‘لائیوسٹاک‘فشری اور جنگلی حیات کو پہنچنے والے نقصان‘گلیشیئرزکے تیزی سے پگھلنے‘بارشوں کا نظام درہم برہم ہونے سے ملک کو ہرسال کئی سو ارب کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button