ملک میں مڈٹرم الیکشن کیلئے اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت جاری ہے

پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ نے وفاقی وزیر فواد چوہدری کی جانب سے نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس پر شکوک کا اظہار کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوازشریف کی رپورٹس کی تحقیقات بالکل کریں جن لوگوں نے بقول ان کے غلط رپورٹس دی ہیں ان کے خلاف کاروائی کریں۔
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ تمام ڈاکٹر سرکاری اسپتال کے ڈاکٹر تھے اس کے علاوہ وزیر اعظم نے شوکت خانم اسپتال کے جن ڈاکٹر کو بھیجا کہ چیک کریں اور انہوں نے آکر رپورٹ دی تھی اور وزیراعظم نے کابینہ میں کہا تھا کہ میں نے چیک کروا لیا ہے کہ میاں نواز شریف واقعی بیمار ہیں۔ ان سب کو نوکریوں سے برطرف کریں اور کاروائی کریں۔
رانا ثنا اللہ نے ملک میں ان ہاؤس تبدیلی اور قومی حکومت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مڈٹرم الیکشن ہی اس ملک کے موجودہ مسائل کا حل ہے۔ اس حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اعلیٰ سطح پر رابطے اور مشاورت جاری ہے۔ اس مشاورت کے نتیجے میں ٹھوس لائحہ عمل آنے والے دنوں اور ہفتوں میں سامنے آئے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں مڈٹرم انتخابات کےلیے مشترکہ جدوجہد کےلیے رابطے کر رہی ہیں جس کا ٹھوس نتیجہ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں سامنے آ جائے گا۔ اپوزیشن کا متحد ہونا بڑا ضروری ہے اور اپوزیشن کو متحد ہونا ہوگا۔ اس حوالے سے عوامی پریشر کو بھی محسوس کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ اور ہے نہیں۔
حکمران اتحاد میں شامل اتحادیوں کی جانب سے تحفظات کے اظہار کے بعد معاملات بہتر ہونے سے متعلق سوال پر رانا ثنااللہ نے کہا کہ معمولی اکثریت اور بری کارکردگی کے ساتھ کوئی حکومت اپنے اتحادیوں پر کمانڈ نہیں کرسکتی۔ یہ اسی طرح سے ہوتا رہے گا۔ ایک دفعہ ہوگا، دوسری دفعہ ہوگا اور تیسری دفعہ پھر دھماکہ ہو جائے گا۔
شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال کو ضمانت ملنے اور پنجاب حکومت کی جانب سے نواز شریف کی ضمانت میں توسیع نہ دینے کے معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ میرٹ پر ہے اور دونوں سیاسی رہنماؤں کو بہت بڑا ریلیف ملا ہے۔ اس فیصلے سے سیاسی انتقام اور یک طرفہ پولیٹکل انجینئرنگ کے حربے کو آج بڑا دھچکا پہنچا ہے۔ پنجاب کابینہ کے فیصلے سے کوئی توقع نہیں تھی۔ اس فیصلے کی اہمیت نہیں ہے جب اس کی کاپی ملے گی تو ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔
عوامی مسائل میں اپوزیشن کے غیر فعال کردار اور رویے کے حوالے سے رانا ثنااللہ نے کہا کہ بحران جو پچھلے دنوں یا مہینوں میں نظر آئے وہ اس وقت بھی موجود ہیں۔ اپوزیشن کسی نہ کسی شکل میں موجود رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کا احتجاج بنیادی طور پر عوام کے حقوق کےلیے اور موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف تھا۔ اس ایونٹ میں کئی ایک مواقع پر ساری اپوزیشن شامل تھی اور دھرنے کے حوالے سے اپوزیشن کا اتفاق نہیں تھا۔ اس احتجاج کو آپ (اپوزیشن کی کاوشوں) سے خارج نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ اب بھی اپوزیشن موجودہ حالات میں عام آدمی کو کس طرح سے ریلیف دینا ہے، کس طرح سے اس حکومت کو ان پالیسیوں سے باز رکھنا ہے اور اس حکومت سے ملک کی جان چھڑانی ہے جس نے ملکی معیشت کا برا حال کر دیا۔ ان ساری چیزوں کےلیے مشاورت کر رہی ہے۔ عنقریب اپوزیشن کا متفقہ لائحہ عمل سامنے آئے گا۔
مریم نواز کی طویل خاموشی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز سے قائدانہ کردار واپس نہیں لیا گیا۔ پارٹی جب ان کی ضرورت محسوس کرے گی تو وہ پارٹی کی ڈیمانڈ پر لبیک کہیں گی اور بھر پور کردار ادا کریں گی۔ یہ پارٹی نے فیصلہ کرنا ہے کہ عوامی رابطہ مہم میں کس مرحلے پر مریم نواز کو آگے لانا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button