نیب نے لیگی رہنما رانا ثناء اللہ اور میاں جاوید لطیف کو پھرطلب کرلیا

قومی احتساب بیورو نے رانا ثناء اللہ کو 6 مارچ جبکہ میاں جاوید لطیف کو 13 مارچ کو طلب کرلیا ہے۔ لیگی رہنماؤں کو نیب کی طلبی کے نوٹس موصول ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق نیب تفتیشی ٹیم نے رانا ثناء اللہ کو عدم تعاون اور سوالوں کے نامکمل جوا ب دینے پر دوبارہ طلب کیا ہے، لیگی رہنما رانا ثناء اللہ نیب ترمیمی آرڈیننس کی آڑ میں تفتیشی ٹیم سے مکمل تعاون نہیں کر رہے، لیگی رہنما نیب ٹیم کے سامنے با ضد ہیں کہ ان کے پراپرٹی کا تخمینہ خریداری کے وقت کے ڈی سی ریٹ کے مطابق لگایا جائے۔ذرائع کے مطابق نیب لاہور نے رانا ثناء اللہ کے دیگر بیانات کی روشنی میں ان کے داماد اور دیگر اہل خانہ کو بھی شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ریکارڈ فراہم نہ کرنے پر نیب کی ٹیم کو کیس کی کارروائی آگے بڑھانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ راناثناء اللہ کو جب بھی نیب میں طلب کیا گیا ہے وہ مختلف جواز پیش کر کے سوالوں کے جوابات نہیں دیتے۔
ذرائع کے مطابق میاں جاوید لطیف بھی مسلسل نیب ترمیمی آرڈیننس کا سہارا لے کر تفتیشی ٹیم سے تعاون نہیں کر رہے، لیگی ایم این اے سے جتنی بار بھی سوالوں کے جوابات اور تفصیلات مانگی گئی ہیں وہ ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے نیب نے 19 فروری کو اثاثہ جات کیس میں مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما رانا ثناءاللہ کو طلب کیا تھا. نیب نے رانا ثناءاللہ کو 19 فروری کو پیش ہونے اور فیملی اراکین کی جائیدادوں سے متعلق تفصیلات ہمراہ لانے کی ہدایت کی تھی۔
مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثناءاللہ کو نیب کی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے روبروپیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔ رانا ثناءاللہ کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنے ہمراہ اہل خانہ کی جائیدادوں سے متعلق تفصیلات بھی لائیں۔ اس کے علاوہ ان کی جانب سے 2 جنوری کو جمع کروائے گئے اثاثہ جات پرفاما سے متعلق بھی وضاحت مانگی گئی تھی۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ نیب نے رانا ثنا اللہ نے پوچھا ہے کہ انہوں نے اپنا کاروبار کیسے شروع کیا؟ اس کے لیے سرمایہ کہاں سے آیا؟، جو جائیدادیں بنائی گئی ہیں ان کا ذریعہ کیا تھا؟، کاروبار کیسے شروع کیا اس کے لیے سرمایہ کہاں سے آیا؟ تحریری وضاحت ہمراہ لائیں نیب حکام کی طرف سے مزید پوچھا گیا ہے کہ آپ کے خاندان کے دیگر اراکین کے اثاثے کتنے ہیں اور ان میں کتنا اضافہ ہوا؟، انہوں نے اہل خانہ کو تحائف کی صورت میں کیا کیا دیا؟ جو تحائف دئیے گئے اس رقم کا ذریعہ کیا تھا؟۔ نیب حکام نے مزید پوچھاتھا کہ جائیدادوں کو بنانے کے لیے سورس آف انکم کیا تھا اس کی بھی تحریری وضاحت دیں جبکہ جن کاروبار میں شراکت داری ہے اس سے متعلق بھی تفصیلاً تحریری وضاحت طلب کی گئی تھی۔
