ملک میں کرونا کیسز اوراموات میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا

وزیراعظم عمران خان معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ وینٹی لیٹرز پر بھی مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور اِس وقت ملک بھر میں 157 لوگ وینٹی لیٹر پر ہیں ۔
پریس کانفرنس میں ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کورونا کیسز اور اموات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وینٹی لیٹرز پر بھی مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور ملک بھر میں 157 لوگ وینٹی لیٹر پر ہیں، وینٹی لیٹر پر وہی مریض جاتے ہیں جن کے پھیپھڑے کام کرنا چھوڑ جاتے ہیں۔ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں سب سےزیادہ 57 مریض جاں بحق ہوئے، یہ پاکستان میں اب تک کورونا سے ایک دن میں مرنے والوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اب تک کورونا کے 5 لاکھ 20 ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں جبکہ ملک میں 35 فیصد مریض مکمل صحت یاب ہوچکے ہیں۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹے میں سب سے زیادہ 157 افراد کو وینٹی لیٹرز پر منتقل کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ وینٹی لیٹرز پر موجود ہونا بیماری کی شدید نوعیت کو ظاہر کرتا ہے لیکن وینٹی لیٹرز پر موجود 85 سے 90 فیصد جانبر نہیں ہوسکتے۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت نے کہا کہ عالمی وبا کورونا وائرس ملک بھر میں پھیل رہی ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت کو اموات اور کیسز کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے لیکن صورتحال قابو میں ہے۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ اس وقت مختلف ہسپتالوں میں کوورنا وائرس کے لیے مختص 18 سے 20 فیصد وینٹی لیٹرز استعمال ہورہے ہیں جبکہ شہروں کے بڑے ہسپتالوں میں صورتحال تھوڑی تشویشناک ہوجاتی ہے کہ کبھی بستر نہیں ملتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر ملک بھر کے ہسپتالوں میں بستروں اور وینٹی لیٹرز کی تعداد کی نگرانی کررہا ہے اور اب تک ملک میں ان کی وافر مقدار موجود ہے۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے کورونا وائرس سے انتقال کرنے والے مریضوں کی تدفین سے متعلق نیا ہدایت نامہ جاری کیا ہے جو حکومت کی کووڈ-19 ویب سائٹ پر بھی موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ اب تک اس بات کے شواہد نہیں ملے کہ لاش سے زندہ انسانوں میں وائرس منتقل ہوسکتا ہے اس لیے کورونا مرنے والوں کی تدفین کے ہدایت نامے میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے نئی ایڈوائزری کے مندرجہ ذیل نکات بتاتے ہوئے کہا کہ میت کو ہینڈل کرنے والے افراد، ورکرز اور خاندان والے ذاتی تحفظ کا خیال رکھیں اور ماسک، گاؤن اور دستانے پہنیں۔معاون خصوصی نے کہا کہ میت کو براہ راست نہ چھوئیں اور غسل دینے کی ممانعت نہیں لیکن ذاتی تحفظ کا خیال رکھا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ غسل کے دوران پانی کے چھینٹوں سے بچنے کے لیے چشمے استعمال کریں جبکہ میت کو کفن بھی پہنایا جاسکتا ہے۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ میت کو قبرستان پہنچانے میں احتیاط کی جائے اور قبر میں میت اتارنے والے افراد ماسک اور حفاظتی کٹس لازمی پہنیں۔معاون خصوصی نے کہا کہ اسی طرح جنازہ پڑھتے وقت سماجی دور کا خیال رکھا جائے اور مختصر جنازے رکھیں جس میں صرف گھر والے اور خاندان کے قریبی افراد شرکت کریں۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ بعض مقامات پر انتظامیہ نے میت تحویل میں لے لی اور خاندان والوں کو بھی ہاتھ نہیں لگانے دیا تھا اگرچہ حکومت کی جانب سے ایسا پہلے بھی نہیں کہا گیا تھا اگر کہیں ہوا ہے تو غلط تھا اور اب نئے ہدایت نامے میں ہم نے اسے واضح کردیا ہے۔
