منشیات کے خاتمے کے ذمہ دار ادارے ”اے این ایف‘‘ کا کالا قانون

مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ کی انسداد منشیات کے ادارے کے ہاتھوں گرفتاری اور وزیر انسداد منشیات شہریار آفریدی کی جانب سے ثبوت پیش نہ کیے جانے پر اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) مسلسل خبروں اور تنقید کی زد میں ہے۔ جس ادارے کے طریقہ کار اور مقدمے کے میرٹ پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
وفاقی حکومت بالخصوص وزیر انسداد منشیات شہریار آفریدی کے بے سروپا بیانات نے ملک کے اہم ترین ادارے کو متنازع بنادیا ہے، حزبِ اختلاف کی جانب سے یہ تنقید بھی سامنے آرہی ہے کہ یہ ادارہ ’مذموم سیاسی مقاصد‘ کےلیے استعمال ہو رہا ہے۔
ادارہ برائے انسداد منشیات ایک ایسا اہم ادارہ ہے جس کا کام ملک سے منشیات کے ناسور کو ختم کرنا ہے مگر رانا ثناء اللہ کے معاملے نے اس ادارے کی کارکردگی اور کام کے طریقہ کار پر سوالات اٹھادئیے ہیں،اپنے قیام سے ہی اے این ایف تنازعات کی زد میں رہا ہے اور مختلف ادوار میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اسے ’کالا قانون‘ قرار دیا جاتا رہا ہے۔
رانا ثنا اللہ، جنہیں گزشتہ برس منشیات برآمدگی کیس میں اے این ایف نے گرفتار کیا تھا، کا دعویٰ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے خود کئی بار ان کی گرفتاری کےلیے احکامات دیے اور پھر ان پر ایک ’جھوٹا، جعلی اور من گھڑت‘ مقدمہ قائم کیا گیا۔ رانا ثنا اللہ کیس میں لاہور ہائی کورٹ نے ان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ملک میں سیاسی انتقامی کارروائی کا پہلو ایک کھلا راز ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
رانا ثنااللہ کے خلاف اے این ایف کی تاریخ کا یہ اس لحاظ سے بھی ایک انوکھا مقدمہ ہے کہ اس میں مدعی ایک حاضر سروس فوجی افسر میجر عزیزاللہ ہیں۔ پراسکیوٹر جنرل اے این ایف راجہ انعام امین منہاس کا کہنا ہے کہ اے این ایف کا قانون ’بلیک لا‘ (کالا قانون) ہے جس میں کیس کے روایتی مراحل پورے کرنا ضروری نہیں ہوتے۔ ان کے خیال میں رانا ثنااللہ کی ضمانت کا فیصلہ انتہائی غیر معمولی ہے۔ راجہ انعام کا مزید کہنا ہے کہ عدالت نے ساتھ یہ بھی لکھ دیا ہے کہ یہ معاملہ مزید تفتیش کا متقاضی ہے جس سے مقدمے کے میرٹ پر اثر پڑے گا۔ ان کے مطابق ضمانت میں عام طور پر عدالتیں میرٹ کو نہیں دیکھتیں۔ انسداد منشیات کے محکمے کو غیر جانبدار گواہان دستیاب نہیں ہوتے اور اے این ایف کے مقدمات میں 99 فیصد گواہان سرکاری ملازمین یعنی اے این ایف کے اہلکار ہی ہوتے ہیں۔اس طریقہ کار اور ضابطے کا فائدہ یہ ہے کہ اے این ایف کی مقدمات میں کامیابی کی شرح 98 فیصد تک ہے اور ان مقدمات میں دیگر مقدمات کی طرح کے شواہد پیش کرنے کے مراحل شامل نہیں ہوتے ہیں۔راجہ منہاس کا کہنا ہے کہ اے این ایف کے قانون کو ’بلیک لا‘ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ بہت سخت قانون ہے اور اس میں قتل کے مقدمات کی طرح قانونی طریقہ کار کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔
اے این ایف کے مقدمات کا جائزہ لینے سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ منشیات کے مقدمات میں ایک خاص طرح سے ایف آئی آر درج ہوتی ہے جس میں یہ لکھا جاتا ہے کہ اے این ایف کی ٹیم نے مخبر کی خبر پر چھاپہ مار کر ملزم سے منشیات برآمد کی ہیں اور یہ کہ ملزم نے فرار کی کوشش کی تو پھر اسے ناکام بنا دیا گیا۔ اے این ایف کی عدالت میں ایک اہلکار نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان مقدمات میں عام طور پر چھ سرکاری گواہ ہوتے ہیں جس میں چھاپہ مارنے والی ٹیم کا ڈرائیور بھی شامل ہوتا ہے۔
عدالت کے سامنے وہ ریکوری میمو پیش کرتے ہیں جس پر یہ درج ہوتا ہے کہ ملزم سے کتنی مقدار میں منشیات برآمد ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مقدمات میں بااثر ملزمان اپنی ویڈیوز خود شیئر کرتے ہیں کہ انھیں کہاں سے حراست میں لیا گیا ہے۔ اے این ایف کی چھاپہ مار ٹیمیں ثبوت پیش کرنے سے قاصر رہتی ہیں۔ ٹرائل میں وکلا صفائی کا موقف ہوتا ہے کہ اے این ایف کی طرف سے یہ کہانی دفتروں میں بیٹھ کر گھڑی گئی ہے۔
اے این ایف ترجمان ریاض سومرو کا کہنا ہے کہ اے این ایف ایک منظم فورس ہے اور میرٹ پر سب کام کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق ان مقدمات میں ویڈیو یا فوٹیج بطور ثبوت عدالت کے سامنے پیش نہیں کی جاتی ہیں۔
چوہدری احتشام الحق جو اے این ایف کی طرف سے پراسکیوٹر کی حیثیت سے عدالتوں میں مقدمات کی پیروی کرتے ہیں کا کہنا ہے کہ اے این ایف کے مقدمات میں عدالتیں صرف سیف کسٹڈی، سیف ٹرانسمیشن، کیمیکل ایگزیمینر رپورٹ اور گواہان کے بیانات پر فیصلے دیتی ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس بار اے این ایف نے ایف آئی آر کو بہتر بنانے کی کوشش کی اور کہا کہ وہ تین ماہ سے رانا ثنا اللہ کی نگرانی کررہے تھے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ سوال اب بھی جواب طلب ہے کہ رانا ثناء اللہ کو منشیات کہاں سے سپلائی ہوتی تھیں اور پھر وہ کس نیٹ ورک کو یہ اسمگل کر دیتے تھے۔
ان کے مطابق اے این ایف کا بنیادی مقصد محض کسی ایک شخص کو ہی پکڑنا نہیں ہوتا بلکہ منشیات کے نیٹ ورک کا خاتمہ ہوتا ہے۔ تاہم اے این ایف پراسکیوشن ٹیم کے مطابق اے این ایف اپنا کام مستعدی سے کررہا ہے اور ان سوالات کا جواب عدالتوں میں دیے جائیں گے جس کے بعد رانا ثنا اللہ سزا سے بچ نہیں سکیں گے۔
