منظور پشتین کی مزید تین مقدمات میں ضمانت منظور،رہائی موخر

پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کی مزید تین مقدمات میں ضمانت منظور ہوگئی ہے مگر ایک مقدمہ میں ریلیز آرڈر جاری نہ ہونے کے باعث جیل سے رہائی پیر تک موخر ہوگئی ہے۔
پی ٹی ایم کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان اور کرک کی مقامی عدالت نے منظور پشتین کی ضمانتیں منظور کی ہیں۔ ’15 فروری کے روزمقامی عدالت نے منظور پشتین کے خلاف تین مقدمات میں ضمانت کی منظوری دی ہے۔‘مقامی عدالت نے منظور پشتین کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں ایک ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ محسن داوڑ کے مطابق منظور پشتین کے خلاف چھ مقدمات بنائے گئے تھے، تین میں اس سے قبل ضمانت منظور کی جاچکی تھی جبکہ ہفتہ کے روزعدالت نے باقی تین مقدمات میں بھی ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کے احکامات جاری کیے ہیں۔ محسن داوڑ کے بقول ضمانتی مچلکے جمع کرانے کے بعد روبکار جاری کی جائے گی جس کے بعد منظور پشتین کی رہائی ممکن ہو سکے گی۔
دوسری طرف منظور پشتین کے وکیل اسد عزیز کا کہنا ہے کہ منظور پشتین کے خلاف درج کئے گئے 6 مقدمات میں ضمانت منظورہوچکی ہے۔ مگر ٹانک کے سٹی پولیس اسٹیشن میں درج ایک مقدمہ میں ضمانتی مچلکوں میں تکنیکی مسائل کے باعث ریلیز آرڈر جاری نہیں ہوسکا۔ وکیل کا کہنا ہے کہ ایک مقدمہ کے ریلیز آرڈر جاری نہ ہونے کے باعث منظور پشتین کی جیل سے رہائی پیر تک ممکن نہیں ہے۔
خیال رہے کہ پی ٹی ایم کے سربراہ کو ساتھیوں سمیت پشاور پولیس نے 26 اور 27 جنوری کی درمیانی شب کو پشاور کے علاقے تہکال سے گرفتار کیا تھا۔ پشاور پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کو منظور پشتین متعدد مقدمات میں مطلوب تھے۔منظور پشتین کو 27 جنوری کو عدالت نے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر سنٹرل جیل پشاور بھیج دیا گیا تھا۔ جس کے بعد پشاور کی عدالت نے ان کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے انہیں ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل میں منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔
رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر بھی منظور پشتین کی ’تمام مقدمات میں ضمانت منظور‘ ہونے کی اطلاع دیتے ہوئے تمام سیاستدانوں اور سرگرم سوشل میڈیا صارفین کا شکریہ ادا کیا ہے۔


منظور پشتین کے وکیل فضل خان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ پی ٹی ایم کے سربراہ کو جن مقدمات میں گرفتار کیا گیا تھا ان میں ضمانت تو منظور ہو چکی ہے لیکن ان کے خلاف ملک بھر میں مختلف مقدمات درج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’پی ٹی ایم کے سربراہ کے خلاف بلوچستان، کراچی اور وانا میں بھی مختلف مقدمات درج ہیں جوکہ ضمنی کے طور پر پیش کیے جا سکتے ہیں۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’منظور پشتین کی روبکار جاری ہونے تک یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ان کی رہائی ممکن ہو سکے گی یا نہیں کیونکہ پولیس دیگر مقدمات میں بھی ان کی گرفتاری ڈال سکتی ہے۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button