منگلا ڈیم کے قریب رامائن کے رام چندر سے منسوب قلعہ

کشمیر کو جنت نظیر وادی کہا جاتا ہے اسی خوبصورت وادی میں نو سو سال قدیم ایک رام کوٹ کا قلعہ تاریخ اور فطری حسن سے دلچسپی رکھنے والوں کو آج بھی دعوت نظارہ دے رہا ہے۔تاریخی حوالوں کے مطابق اسی مقام پر1500 قبل مسیح میں یہاں رامائن کے ہیرو رام چندرنے جنم لیا تھا۔
رام کوٹ کا شمار پوٹھوہار کے قدیم قلعوں میں ہوتا ہے۔ قلعے کے داخلی راستے پر لگے معلوماتی بورڈ کے مطابق اس کی تعمیر 1186 میں غوری سلاطین کے عہد میں سلطان غیاث الدین نے کی تھی۔ قلعے کو دینہ، ڈڈیال اور میر پور سے تین راستے جاتے ہیں۔
منگلا ڈیم کے سبز پانی میں گھرا جزیرہ نما قلعے رام کوٹ تک پہنچنے کےلیے پہلے تو پانی کی موجوں پر سفر کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد دشوار گزار پہاڑی راستہ۔ اوپر سے دیکھو تو لگتا ہے جیسے پانی اس قلعے کی حفاظت پر مامور ہے۔ رام کوٹ قلعے کے تین اطراف میں پانی ہوتا ہے لیکن جب ڈیم بھر جائے تو خشکی کا راستہ بھی بند ہو جاتا ہے۔
روایات کے مطابق 1500 ق م میں یہاں رامائن کے ہیرو رام چندرنے جنم لیا اور تقریباً ساڑھے تین ہزار سال بعد یہاں ہی سیف الملوک کے میاں محمد بخش نے جنم لیا جن کے مزار پر امیدوں اور آدرشوں کے چراغ ابھی روشن ہیں۔
قلعے کے چبوترے سے 440 سیڑھیاں آپ کو رام کوٹ قلعے کے مرکزی دروازے تک لے جاتی ہیں اگر ڈیم بھرا ہوا ہو تو یہ سیڑھیاں کم بھی ہو سکتی ہیں۔ مرکزی دروازہ ڈھلوانی چٹان پر بنایا گیا ہے تاکہ کسی بیرونی حملے کی صورت میں یہاں تک رسائی خاصی مشکل ہو۔ مرکزی دروازے میں سرخ اینٹ جب کہ باقی تمام جگہوں پر پتھر استعمال کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید کسی حملے کے نتیجے میں مرکزی دروازہ تباہ ہوگیا تھا جس کی بعد میں تعمیر نو کی گئی۔
قلعے کے عقب میں ایک چھوٹا دروازہ بھی ہے جو شاید فرار کےلیے بنایا گیا تھا۔ مرکزی دروازہ چار کمروں پر مشتمل ہے جس میں سے تین کمرے نیچے اور ایک بالائی منزل پر ہے جس کےلیے مرکزی دروازے سے ایک سیڑھی اوپر جاتی ہے۔ قلعے کی ساخت بتاتی ہے کہ یہاں تہہ خانے بھی ہوں گے۔
کشتی سے اترتے ہی جب آپ پہاڑی پر چڑھائی چڑھتے ہیں تو قلعے کی عالیشان عمارت آپ کو حیران کرنا شروع کر دیتی ہے۔ نیچے دور تک نیلگوں پانی اور پہاڑی کی چوٹی پر ایک قلعہ۔
قلعے کے اندر داخل ہوتے ہی آپ کو سامنے میدان میں دو بڑے تالاب نظر آتے ہیں۔ جن کا مقصد بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنا تھا۔ جب یہاں ڈیم نہیں تھا تو سینکڑوں سال پہلے یہ قلعہ دریائے جہلم اور دریائے پونچھ کے سنگم پر بنایا گیا تھا۔ گویا تین اطراف سے قلعے کو دریاؤں نے گھر رکھا تھا۔ چونکہ قلعہ خاصی اونچائی پر تھا اس لیے پانی کی ضرورت کو بارش کا پانی اکٹھا کرکے پورا کیا جاتا تھا۔
دو تالابوں کے درمیان چند کمرے بنے ہوئے ہیں جن کی چھتیں گر چکی ہیں۔ دوسرے تالاب کے ساتھ خام لوہا بڑی تعداد میں موجود ہے جو شاید ہتھیار سازی کےلیے استعمال میں لایا جاتا ہو۔ تالاب کے سامنے شمال کی جانب داروغہ کی رہائش گاہ ہے جہاں پہنچنے کےلیے سیڑھیاں بنی ہوئی ہیں۔ یہاں پر دونوں طرف کمرے ہیں جن کے درمیان میں ایک وسیع برآمدہ ہے جس کی چھت اب موجود نہیں ہے۔ کمروں سے سیڑھیاں چھت کو اور تہہ خانوں کو جاتی ہیں۔ دونوں طرف کونوں پر باہر کی جانب ایسے کمرے ہیں جو گولائی میں ہیں اور کال کوٹھڑیاں معلوم ہوتی ہیں۔ داروغہ کی رہائش اگرچہ شکستہ ہے مگر معمولی تگ و دو سے اسے اپنی اصلی شکل میں بحال کیا جا سکتا ہے۔ رہائش گاہ کے ساتھ کچھ فاصلے پر مزید کمرے ہیں جو شاید داروغہ کے خاص خدمت گاروں کےلیے ہوں۔ قلعے کی فصیل کے ساتھ ایک ڈھلوان ہے جو یقیناً توپوں کو اوپر لے کر جانے کےلیے استعمال کی جاتی ہوگی۔ ایک توپ بھی فصیل پر موجود ہے۔
مرکزی دروازے کے بائیں جانب تھوڑی اونچائی پر ایک مندر بنا ہوا ہے جس میں مورتیوں کو رکھنے کےلیے طاق بھی ہیں، مندر کی دیواریں گر چکی ہیں مگر اس میں سرخ رنگ کا ایک بڑا شیولنگ ابھی تک موجود ہے، روایت کے مطابق یہ شیولنگ دریائے گنگا سے لایا گیا تھا۔ رام کوٹ میں مندر کی موجودگی سے یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ کبھی یہاں ہندوؤں کی ایک بڑی آبادی موجود تھی جس میں بعد ازاں دفاعی نقطہ نظر سے قلعہ بنا دیا گیا۔ رام کوٹ، دان گلی اور پھروالا کے قلعے اگرچہ گکھڑوں سے ہی منسوب کیے جاتے ہیں۔ ’دی ہائی لینڈز آف انڈیا‘ از میجر جنرل (ر)ڈیوڈ جے ایف نیوال کے صفحہ 181 پر درج ہے کہ گکھڑوں کے آنے کے کم و بیش ڈیڑھ ہزار سال پہلے پھروالا میں ہندؤں کی مذہبی کتاب رامائن کا ہیرو رام چندر پیدا ہوا تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ یہاں رام چندر کی نسبت سے رام کوٹ بسایا گیا تھا۔ اس کی تصدیق حبیب شاہ بخاری اپنی کتاب ’بھٹوار، ماہ و سال کے آئینے میں‘ کے صفحہ 57 پر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ "منگلا ڈیم کے شمال مشرقی کنارے پر قلعہ رام پور آباد ہے جسے شری رام چندر کے نام پر تعمیر کیا گیا تھا "۔
کیا یہ قلعہ واقعی غوری سلطان غیاث الدین نے بنایا تھا؟ معروف انگریز ماہر ارضیات و تاریخ دان فریڈرک ڈیو اس دعوے کی نفی کرتے ہیں۔ اپنی کتاب ’دی جموں اینڈ کشمیر ٹیریٹریز‘ میں لکھا ہے ’دریائے جہلم کے زیریں حصہ، کوٹلی اور میر پور کے مغرب میں ایک قبیلہ ہے جسے گکھڑ کہتے ہیں۔ ان کی سب سے اہم شاخ ’شاہو‘ کہلاتی ہے۔
گکھڑ پہاڑی علاقوں میں رہتے ہیں اور طاقتور دشمنوں کے ہوتے ہوئے بھی اپنی آزادی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ برطانوی راج میں دریا کے دائیں کنارے کے ساتھ ان کی عمارتوں کے آثار پائے جاتے ہیں جو ان کے شاندار ماضی کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہی میں سے ایک دریا کے بائیں جانب رام کوٹ کا قلعہ ہے۔
پوٹھوہار کی تاریخ کے ماہر حبیب گوہر جو کہوٹہ کالج میں استاد ہیں انہوں نے بتایا کہ اس قلعے کی تزئین و آرائش گکھڑ رانی منگو کے دور میں ہوئی جس نے اپنے شوہر کی وفات کے بعد عنان اقتدار سنبھالا تھا۔ اس نے کئی تعمیراتی کام کروائے۔ اسی رانی منگو کی بیٹی کی شادی اورنگ زیب عالمگیر کے بیٹے شہزادہ محمد اکبر کے ساتھ ہوئی تھی۔ سکھوں کے عہد میں جب سردار گجر سنگھ بھنگی نے گکھڑوں کی اینٹ سے اینٹ بجائی تو الفنسٹن نے کنگڈم آف کابل میں واپسی کا ایک منظر بیان کرتے ہوئے لکھا کہ "منکیالہ سے 40 مربع میل کے درمیان گکھڑوں کی تباہ حال بستیوں کے علاوہ کچھ نہیں ملا۔‘ سکھوں کے عہد میں یہ قلعہ ڈوگروں کے قبضے میں دے دیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ سری نگر جانے کےلیے قدیم دور میں جو چار راستے استعمال کیے جاتے تھے ان میں سے ایک راستہ رام کوٹ سے ہو کر گزرتا تھا جس کی وجہ سے اس کی تزویراتی اہمیت مسلمہ ہے۔ رام کوٹ قلعہ کے قریب ہی تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر منگلا کا قلعہ واقع ہے۔ دونوں قلعوں کے قریب ہونے کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دونوں الگ الگ راجدھانیوں کی نمائندگی کرتے ہوں۔ منگلا کا قلعہ رانی منگلا سے منسوب ہے جو کہ راجہ پورس کی بیٹی تھی۔ پورس اور سکندر اعظم کے درمیان 326 ق م میں مشہور معرکہ اسی قلعے کے نواح میں ہوا تھا۔
یہ قلعہ نجانے کتنی صدیوں اور کتنی داستانوں کا امین ہے۔ پوٹھوہار کے قلعوں میں یہ قلعہ سب سے اچھی حالت میں موجود ہے جہاں تھوڑی سے کوشش کے ذریعے نہ صرف اسے بحال کیا جا سکتا ہے بلکہ اسے ایک سیاحتی مقام میں بھی بدلا جا سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button