اُردوشاعری کا ولیم شیکسپئرجوش ہمیشہ متنازع کیوں رہا؟


بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں جو معروف شاعر منظر عام پر آئے، اُن میں ایک نام جوش ملیح آبادی کا ہے جنہیں اردو شاعری کا ولیم شکسپیر بھی کہا جاتا ہے۔ جوش اپنے خالص اسلوب کے باعث اپنے ہم عصروں میں ممتاز رہے۔ ان کی جوانی کا زمانہ برصغیر پاک وہند کی سیاسی ابتری کا زمانہ تھا اس زمانے میں مسلمانوں پر ظلم وستم کا بازار گرم تھا۔ ایک طرف تو وعدے وعید کیے جارہے تھے تو دوسری طرف انہیں کچلنے کی سازشیں بھی جاری تھیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے جذبات واحساسات کے اظہار کے لیے غزل کے مقابلے میں نظم کے دامن کو وسیع پاتے ہوئے اس میں طبع آزمائی کی۔ بے باکی سے اپنے جذبات کے اظہار کی وجہ سے جوش ہر دور میں متنازعہ شخصیت قرار دیے جاتے رہے۔
جوش ملیح آبادی کا شمار بھی ان شعراء میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی شاعری کا آغاز غزل سے کیا اور بعد میں نظم کی طرف مائل ہو ئے۔ نظم کی طرف مائل ہوناان کی طبعی مناسبت کا تقاضا تھا۔ ان کی شاعری جدید میلانات و رجحانات سے معمور ہے اور عصری تقاضوں کی عکاس بھی۔ بغاوت اور انقلاب ان کے مضامین ہیں۔ ان کی نظمیں دورشباب کی لغزشوں کی حکایات سناتی ہیں۔ شاعر شباب، شاعر انقلاب، شاعر رومان اور مصور فطرت شبیر حسین خان جوش ملیح آبادی 5 دسمبر 1898ء میں قصبہ کنول ہار ضلع ملیح آباد میں پید اہوئے۔ جوش ؔ کو شاعری ورثے میں ملی تھی ان کے پردادانواب فقیر محمد استاد ناسخ کے شاگرد تھے۔ جوش کے اساتذہ میں مرزا محمد ہادی رسوابھی شامل ہیں۔ سینئر کیمبرج تک تعلیم حاصل کی، باقی علمی استعداد مطالعے سے حاصل کی۔ جوش کے والد بشیر احمد خاں بشیر بھی شاعر تھے اور داد انواب احمد خاں کا بھی شاعری سے تعلق تھا۔ اس کے علاوہ ان کے پر دادا نواب فقیر محمد خاں صاحب ِ دیوان شاعر تھے۔ ان کے خاندان میں خواتین شاعرات بھی موجود تھیں۔ جوش کی دادی بیگم نواب محمد احمد خاں، مرزا غالب کے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ اس طرح جوش کو شاعری ورثے میں ملی تھی؛ لیکن جوش صرف شاعر نہیں تھے ایک ہشت پہلو شخصیت تھے۔ ان کی شخصیت کا ہشت پہلو ہونا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں شعر اور نثر دونوں پرکامل عبور تھا۔ شاعری کی تو اوجِ کمال تک پہنچے اور نثر لکھی تو ادبی حلقوں میں ہنگامہ برپا کردیا۔ جہاں تک ان کی شعری استعداد کا تعلق ہے تو یہ چونکہ وراثت میں ملا تھا اس لیے بچپن میں ہی شعر موزوں ہونے لگے تھے اور انہوں نے نو برس کی عمر میں یہ پہلا شعر کہا:
شاعری کیوں نہ راس آئے مجھے
یہ میرا فن خاندانی ہے
جوش ؔعنفوانِ شباب میں فارغ البال تھے لیکن 1916ء میں والد کے انتقال کے بعد فارغ البالی ختم ہوگئی اور ذمہ داریوں کا بوجھ کاندھوں پر آپڑا۔ یہی وجہ ہے کہ 1916ء سے 1920ء کی شاعری میں تلخی، زندگی سے اکتاہٹ، دنیا کی بے ثباتی اور صوفیانہ خیالات ملتے ہیں۔ انہی مجامیں اور خیالات پر مشتمل ان کا پہلا مجموعہئ کلام ”روحِ ادب“ 1920ء میں شائع ہوا۔ اس مجموعے کے بعد 1936ء تک آتے آتے ان کی شاعری میں عشقیہ مضامین کے ساتھ ساتھ بغاوت کے عنصر نے بھی جگہ بنالی نیز ہم عصروں کا اثر بھی ان کی شاعری میں نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ چنانچہ اس دورانیے میں انہوں نے جو کلام جمع کیا وہ ”شعلہ وشبنم“ کے نام سے 1936ء میں منصہ شہود پر آیا جبکہ تیسرا مجموعہ کلام ”نقش و نگار“ 1944ء میں زیور طباعت سے آراستہ ہوا؛ تاہم جوشؔ کی زندگی کی بہترین شاعری پر مشتمل ان کا ضخیم شعری مجموعہ ”محراب ومضراب“ ان کے انتقال کے گیارہ سال بعد 1993ء میں قارئین تک پہنچ سکا۔ مجموعے کی تاخیر پر تبصرہ کرتے ہوئے جوش ؔ کی پوتی تبسم اخلاق لکھتی ہیں، ”حضرت جوش ہر دور میں متنازعہ شخصیت بنے رہے یا بنائے جاتے رہے۔ جب ان کا انتقال ہوا تو وہ مارشل لاء کا زمانہ تھا۔ اس دور میں لوگ ان کا نام زبان پر لاتے ہوئے ڈرتے تھے کہ مبادا ان کو بھی نوکری سے برطرف ہونا پڑے“۔ تبسم اخلاق کے بیان سے اتفاق کر نا پڑتا ہے کیونکہ ان کے انتقال سے دس گیارہ سال پہلے ان کی خود نوشت ”یادوں کی بارات“ 1972 ء میں کراچی سے شائع ہوئی تھی اور ان کا انتقال 22 فروری 1982 ء کو ہوا۔ یوں ایک طرح سے وہ دس برسوں تک تنازعات میں گھرے رہے اور اس کے باعث انہیں بے حد دشواریوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ حکومت کے عتاب کا شکار بھی ہوئے؛ لیکن اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ جوش جہاں ایک عظیم شاعر تھے وہیں وہ صاحب طرز نثر نگاربھی تھے۔ شاعری میں جوش ایک ایسے شاعر ہیں جن کے بے شمار مجموعہ ہائے کلام منصہ شہود پر آئے۔ ان میں؛روح ادب، آوازہ حق، شاعر کی راتیں، جوش کے سو شعر، نقش و نگار، شعلہ و شبنم، پیغمبر اسلام، فکر و نشاط، جنوں و حکمت، حرف و حکایت، حسین اور انقلاب، آیات و نغمات، عرش و فرش، رامش و رنگ، سنبل و سلاسل، سیف و سبو، سرور و خروش، سموم و سبا، طلوع فکر، موجد و مفکر، قطرہ قلزم، نوادر جوش، الہام و افکار، نجوم و جواہر، جوش کے مرثیے، عروس ادب ، عرفانیات جوش، محراب و مضراب، دیوان جوش وغیرہ شامل ہیں ۔
علاوہ ازیں نثر میں بھی ان کے کمالِ فن کے نمونے دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان کے نثری مجموعوں میں؛مقالات جوش، اوراق زریں، جذبات فطرت، اشارات، مقالات جوش، مکالمات جوش اوریادوں کی بارات شامل ہیں۔ کلامِ جوش میں جا بجا زندگی کی بے ثباتی کا تذکرہ ملتا ہے۔ جوش ؔکے ہاں زندگی کی بے ثباتی کا پہلو یک لخت پیدا نہیں ہوا۔ جوش ؔزندگی کو جس رنگ ڈھنگ سے دیکھتے تھے، جب اسے اسطرح گزار نہ سکے تو ان کے اندر ایک ایسی ضد پیدا ہوگئی جو انہیں لحظہ لحظہ وادئ موت کی طرف لے گئی اور پھر وہ اس وادی میں یوں اتر گئے جیسے سورج سرِ شام دور سمندروں میں اتر جاتا ہے۔ جوشؔ تقسیم ہند کے بعد بھارت سے ترکِ سکونت کرکے 1956ء میں جب پاکستان آئے تو اپنے ساتھ یادوں کی ایک بیاض لائے اور پھر وہ سلسلہ چل نکلا کہ جس کا انجام قید وبند کی صعوبتیں اور حکام کی طعن و تشنیع نکلا۔ یارِ زنداں فیض احمد فیضؔ کی طرح جو ش ملیح آبادی کو بھی کئی بار اپنے خاندان کی جدائی سہنا پڑی۔ وہ جس سرزمین کے لیے مہاجر ہوئے، اس سرزمین کی بستیاں اس پر تنگ کر دی گیئں۔ اسی کیے جوشؔ ملیح آبادی کی شاعری میں بغاوت کے ساتھ ساتھ ِ انقلاب کا عنصر بھی نمایاں ہے۔ اسی لیے جوش کہتے ہیں:
کام ہے میرا تغیر، نام ہے میرا شباب
میرا نعرہ انقلاب و انقلاب و انقلاب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button