یہ کھڑک سنگھ کون ہے جس کے خوف سے کھڑکیاں کھڑکتی تھیں؟

‘کھڑک سنگھ کے کھڑکنے سے کھڑکتی ہیں کھڑکیاں’
یہ محاورہ برصغیر کے اس ان پڑھ جج کے حوالے سے جانا جاتا یے جسے تاریخ ان پڑھ جج بابا کھڑک سنگھ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ کھڑک نے روایتی تعلیم حاصل نہ کر سکنے کے باوجود منصب عدل پر بیٹھ کر ایسے تاریخی فیصلے دئیے جن کی وجہ سے نہ صرف علاقے میں انصاف کا بول بالا ہوا بلکہ جرائم کی شرح بھی صفر ہو گئی۔ بابا کھڑک سنگھ کے مقدمات کا فیصلہ کرنے کا انداز بھی نرالا تھا۔ کھڑک سنگھ پٹیالہ کے مہاراجہ کے ماموں اور لمبی چوڑی جاگیر کے مالک تھے۔ وہ پٹیالہ کے سب سے بااثر بڑے جاگیردار اور گاؤں کے پنچایتی سرپنچ بھی تھے۔
ایک دن معمول کے معاملات سے تنگ آکر بھانجے کے پاس پہنچے اور کہا کہ شہر کے سیشن جج کی کرسی خالی ہے مجھے جج لگوا دو، ان دنوں کسی بھی سیشن جج کے آرڈر انگریز وائسراۓ کرتے تھے۔ کھڑک سنگھ نے پٹیالہ کے مہاراجہ یعنی اپنے بھانجے کو کہا کہ تو مجھے لاٹ صاحب کے نام چٹھی لکھ دے اور میں سیشن جج کا پروانہ لے آتا ہوں۔
مہاراجہ سے چٹھی لکھوا کے کھڑک سنگھ لاٹ صاحب کے سامنے حاضر ہو گئے۔ وائسرائے نے پوچھا، نام؟ بولے، کھڑک سنگھ۔ تعلیم؟ بولے کیوں سرکار؟ میں کوئی اسکول میں بچے پڑھانے کا آرڈر لینے آیا ہوں۔ وائسرائے ہنسے، بولے سردار جی، قانون کی تعلیم کا پوچھا ہے۔ آخر آپ نے اچھے بروں کے درمیان تمیز کرنی ہے۔ کھڑک سنگھ بولے، سرکار اتنی سی بات کے لیے گدھوں کی طرح کتابوں کا وزن اٹھانے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ کام میں برسوں سے پنچائیت میں کرتا آیا ہوں اور ایک نظر میں اچھے بُرے کی تمیز کر لیتا ہوں۔ وائسرائے نے کھڑک سے اسکی درخواست لی اور حکم نامہ جاری کر دیا۔ اب وہ جسٹس کھڑک سنگھ بن کر پٹیالہ تشریف لے آئے۔
خدا کی قدرت کہ پہلا مقدمہ ہی جسٹس کھڑک سنگھ کی عدالت میں قتل کا آگیا۔ ایک طرف چار قاتل کٹہرے میں کھڑے تھے، دوسری طرف ایک روتی ہوئی عورت آنسو پونچھ رہی تھی۔ جسٹس کھڑک سنگھ نے کرسی پر بیٹھنے سے پہلے دونوں طرف کھڑے لوگوں کو اچھی طرح دیکھ لیا۔ اتنے میں پولیس آفیسر آگے بڑھا۔ اس نے کھڑک سنگھ کے سامنے کچھ کاغذات رکھے اور کہنے لگا، مائی لارڈ یہ عورت کرانتی کور ہے اور اسکا کہنا ہے کہ ان چاروں نے ملکر اس کے خاوند کا خون کیا ہے۔ کیوں مائی؟ جسٹس کھڑک سنگھ نے پولیس افسرکی بات بھی پوری نہیں سنی اور عورت سے پوچھنے لگے کہ انہوں نے تمھارے شوہر کو کیسے مارا تھا؟ عورت نے ایک ایک قاتل کی طرف اشارہ کر کے تفصیل بتائی کہ میرے سر کے تاج کو انہون نے کیسے جان سے مارا۔
کھڑک سنگھ نے غصے سے چاروں ملزموں کو دیکھا اور کہا کیوں بدمعاشو، تم نے بندہ مار دیا؟ ملزمان نے کہا کی یہ عورت جھوٹی یے۔ ایک نے کہا کہ میرے ہاتھ میں تو بیلچہ تھا ہی نہیں، دوسرا ملزم بولا۔کہ جناب میرے پاس برچھا نہیں تھا ایک سوٹی کے آگے درانتی بندھی تھی پتے جھاڑنے والی۔ جناب ہمارامقصد تو نہ اسے مارنا تھا، نہ زخمی کرنا تھا۔ اس پر جسٹس کھڑک سنگھ بولے، تمہاری ایسی کی تیسی، کیا مقصد تھا پھر تمہارا؟ کرتا ہوں مین ابھی تم سب کا بندوبست، ۔ انہوں نے کاغذوں کے پلندے کو پکڑ کر اپنے آگے کیا اور فیصلہ لکھنے ہی لگے تھے کہ ایک دم سے عدالت کی ایک کرسی سے کالے کوٹ والا آدمی اُٹھ کر تیزی سے سامنے آیا، اور بولا، مائی لارڈ آپ پوری تفصیل تو سنیں۔ میرے یہ موکل تو صرف سمجھانے کے لیے اس کی زمین پر گئے تھے۔ ان کے ہاتھ میں تو صرف ڈنڈے تھے، ڈنڈے بھی کہاں وہ تو کماد سے توڑے ہوئے گنے تھے۔
اس پر کھڑک سنگھ نے کالے کوٹ والے کو روکا اور پولیس افسر کو بُلا کر پوچھا کہ یہ کالے کوٹ والا کون ہے؟ سرکار یہ وکیل ہے، ملزمان کا وکیلِ صفائی، پولیس افسر نے بتایا۔ کھڑک سنگھ نے وضاحت کی یعنی یہ وکیل بھی انھی کا بندہ ہوا نا جو ان کی طرف سے بات کرتا ہے، کھڑک سنگھ نے وکیل سے کہا۔ ادھر کھڑے ہو جاؤ قاتلوں کے ساتھ۔ اور ساتھ ہی کاغذوں کے پلندے پر ایک سطری فیصلہ لکھ کر دستخط کر دیے۔ جسٹس کھڑک سنگھ نے فیصلہ لکھا تھا کہ چار قاتل اور پانچواں انکا وکیل، پانچوں کو علی الصبح پھانسی پر لٹکا دیا جائے۔ پٹیالے میں تھرتھلی مچ گئی، کھڑک سنگھ آگیا ہے جو قاتل کے ساتھ وکیل کو بھی پھانسی دیتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اسکے بعد جب تک جسٹس کھڑک سنگھ سیشن جج رہے، پٹیالہ ریاست میں کوئی قتل نہیں ہوا اور جرائم کی شرح صفر ہوگئی، حالات یہ ہو گے کہ کوئی وکیل کسی مجرم کا کیس نا پکڑتا، جب تک کھڑک سنگھ پٹیالہ میں جج رہے، ریاست میں خوب امن رہا.
آس پڑوس کی ریاست سے لوگ اپنے کیس کھڑک سنگھ کی عدالت میں لاتے اور فوری انصاف پاتے۔
یہ ساری ایک فرضی کہانی ہے، افسانہ ہے یاحقیقت، اس سے کسی کی کوئی دلچسپی نہیں۔ تاہم اس واقعہ میں دور حاضر کے پڑھے لکھے ججوں کے لیے ایک گہرا سبق موجود ہے، کہ اگر انصاف فوری کیا جائے اور مجرموں کے ساتھ انکے وکیلوں کو بھی سزا ملنے لگے تو ملک میں جرائم کی شرح صفر ہو جاۓ گی۔
