مودی سرکارنےپولیس کولامحدوداختیارات سےنوازدیا

مودی سرکارنےنئی دہلی میں پولیس کونیشنل سیکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) کےتحت خصوصی اختیارات دےدیےگئےہیں جن کےتحت پولیس کسی بھی شخص کوملک کی سیکورٹی یا امن عامہ کےنام پر غیرمعینہ مدت تک حراست میں رکھ سکتی ہےدہلی پولیس کےمطابق وزارت داخلہ کےجاری کردہ احکامات عمومی کارروائی ہےاس کا حالیہ صورت حال سےکوئی تعلق نہیں ہے. قواعد کےتحت این ایس اے کےاطلاق کے لیےتین ماہ کےاحکامات جاری ہوتےہیں تاہم موجودہ حکومت نےجولائی2019، اکتوبر2019 اورحالیہ احکامات جاری کیےہیں اس قانون کےتحت سیکیورٹی ادارےکسی بھی مشتبہ شخص کو10ماہ سےایک سال کےلیےحراست میں رکھ سکتے ہیں.
قانون سیکیورٹی اہلکاروں کواس بات کی بھی اجازت دیتا ہےکہ وہ10روزتک زیرحراست شخص کواس کےجرم یا الزام سےآگاہ نہ کریں نیشنل سیکیورٹی ایکٹ کےتحت زیرحراست شخص اپنی گرفتاری کے خلاف ہائی کورٹ کےمشاورتی بورڈ میں اپیل دائرکرسکتا ہےتاہم اسےوکیل کی معاونت کی اجازت نہیں ہوتی، واضح رہے کہ اس قانون پرشدید تنقید کی جاتی رہی ہےکیونکہ اس قانون کےتحت کسی بھی شخص کا یہ بنیادی حق ختم ہوجاتا ہےکہ اس حراست میں لیےجانےکےبعد اس پرعائد الزام سےآگاہ نہیں کیا جاتا بھارت میں 11دسمبرکودونوں ایوانوں سےمنظورہونےوالےمتنازع شہریت قانون کےخلاف ملک بھرمیں احتجاج جاری ہےجب کہ اس احتجاج کامرکزاب دہلی بن چکا ہے۔
جہاں مسلسل مظاہرےہورہےہیں جب کہ مستقل احتجاج کےلیےکئی مقامات پرمظاہرین موجود ہیں.متعدد شہروں میں ہونےوالےاحتجاجی مظاہروں میں اب تک دو درجن سےزائد افراد ہلاک ہوچکےہیں جب کہ1500 سےزائد افراد کوحراست میں لیا گیا نئےقانون کے تحت پاکستان،بنگلہ دیش اورافغانستان سے نقل مکانی کرکےبھارت آنےوالے ہندو، سکھ، بدھ مت،جین، پارسی اورمسیحی مذاہب کےان افراد کوشہریت دی جائےگی جو2014 سےقبل بھارت آئےہوں یا وہ چھ برس تک بھارت میں مقیم رہے ہوں اس قانون میں مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا جس کی وجہ سےاسےمسلمانوں کےخلاف سمجھا جا رہا ہے۔
بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے یہ بل 2016 میں بھی لوک سبھا میں پیش کیا تھا تاہم، اس وقت بل راجیہ سبھا میں منظور نہیں ہو سکا تھا بھارت میں20 کروڑسے زائد مسلمان آباد ہیں جب کہ شمالی مشرقی علاقوں میں بنگلہ دیش سے بڑی تعداد میں مسلمان ریاست آسام میں آ کرآباد ہوئے ہیں رواں سال اگست میں بھی یہ تنازع سامنے آیا تھا کہ جب این آر سی کا اجرا ہوا تو اس میں 20 لاکھ افراد کے نام شامل نہیں تھے، یعنی یہ افراد بھارت کےشہری تسلیم نہیں کیے گئے تھےان میں اکثریت مسلمانوں کی تھی اوران میں لاکھوں ہندو بھی شامل تھے. بھارت کی حکومت کا موقف رہا ہے کہ وہ مسلمان جو اپنےخاندان کےساتھ بنگلہ دیش سےآئےتھے،انہیں بھارت میں رہنے کا قانونی حق حاصل نہیں ہے ۔
واضح رہے کہ لوک سبھا (ایوان زیریں) میں وزیر داخلہ امیت شاہ نےمتنازع شہریت ترمیمی بل پیش کیا تھا جس پر تقریباً 12گھنٹےتک بحث ہوئی بھارت کی لوک سبھا میں بل کے حق میں311 اور مخالفت میں80ارکان نے ووٹ دیا جب کہ ایوان بالا میں یہ بل 105 ووٹوں کےمقابلےمیں 125 ووٹوں سےمنظورہوا تھا.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button