مودی سرکار گھبرا گئی؟ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کےسوشل میڈیا اکاؤنٹس بند

بھارت میں نوجوانوں کی وائرل طنزیہ تحریک ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اچانک بند یا محدود کیے جانے کے بعد سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا صارفین میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت بڑھتی عوامی تنقید اور نوجوانوں کے غصے سے خوفزدہ دکھائی دے رہی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق چند ہی دنوں میں غیرمعمولی مقبولیت حاصل کرنے والی ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کے ایکس، انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی متاثر ہوئی ہے۔بھارتی جریدے دکن کرانیکل کے مطابق تنظیم کے بانی ابھیجیت دپکے نے دعویٰ کیا ہے کہ ہیکنگ حملوں اور پلیٹ فارمز کی بندش کے باعث ان کی تنظیم اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک رسائی کھو چکی ہے۔ابھیجیت دپکے نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ان کا ذاتی انسٹاگرام اکاؤنٹ بھی ہیک کر لیا گیا ہے، جبکہ انہیں اس مہم کے باعث جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی موصول ہو رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کی آن لائن مہم نے بہت کم وقت میں کروڑوں افراد کی توجہ حاصل کی۔ ہزاروں نوجوان اس تحریک کا حصہ بنے جبکہ اس کے سوشل میڈیا پیجز پر تیزی سے فالوورز بڑھتے گئے۔یہ تحریک بنیادی طور پر بھارت میں بڑھتی بے روزگاری، تعلیمی نظام کی خامیوں، امتحانی پرچوں کے لیک ہونے اور نوجوانوں میں بڑھتی بے چینی کے خلاف ایک طنزیہ مگر طاقتور عوامی ردعمل کے طور پر سامنے آئی۔تنظیم نے بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کیلئے بھی آن لائن مہم چلائی، جس میں پیپر لیک اسکینڈلز اور تعلیمی بحران کو اہم مسئلہ بنایا گیا۔
خیال رہے کہ یہ پوری مہم اُس وقت شروع ہوئی جب بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت کے ایک متنازع بیان کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ صارفین کے مطابق بے روزگار نوجوانوں کو ’’کاکروچ‘‘ سے تشبیہ دی گئی، جس کے بعد نوجوانوں نے احتجاجاً ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کے نام سے ایک طنزیہ سیاسی تحریک شروع کردی۔اگرچہ بعد ازاں وضاحت دی گئی کہ بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، تاہم سوشل میڈیا پر یہ تحریک تیزی سے وائرل ہو گئی اور Gen Z نوجوانوں کی ناراضی کی علامت بن گئی۔
