موسم بدلتے ہی لاہور میں فضائی آلودگی انتہا پر پہنچ گئی

موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی لاہور میں فضائی آلودگی اپنی انتہا پر پہنچ گئی ہے۔ نومبر شروع ہوتے ہی شہر کا ایئر کوالٹی انڈکس خطرناک حدوں کو چھونے لگا ہے اور لاہور دوبارہ سے دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔ دنیا بھر میں ائیر کوالٹی کو مانیٹر کرنے والی امریکی ویب سائٹ آئی کیو ایئر ڈاٹ کام کے مطابق لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 438 درجے تک پہنچ چکا جوکہ خطرناک ترین شمار کیا جاتا یے، یاد رہے ایئر کوالٹی انڈیکس 50 درجے تک ہو تو فضا صحت بخش ہوتی ہے لیکن جوں جوں اس میں اضافہ ہوتا ہے، فضا بھی زہر آلود ہوتی جاتی ہے۔
محکمہ تحفظ ماحولیات کے مطابق گاڑیوں اور صنعتوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے دھویں، فصلوں کا کچرا جلانے، اینٹوں کے بھٹوں سے اٹھنے والے دھویں، عام فضلے اور تعمیرات کی دھول کی وجہ سے لاہور میں آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر درختوں کو کاٹ کر نئی سڑکیں اور عمارتیں تعمیر کرنے سے بھی فضائی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

لاہور بارے ایئر کوالٹی انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق سردیوں میں درجہ حرارت کم ہونے کی وجہ سے آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ شہر میں ٹریفک اور سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں، لاہور اور ملحقہ علاقوں میں ریئل اسٹیٹ منصوبوں کی مسلسل تعمیرات ایک الگ مسئلہ ہے، شہر میں ترقیاتی منصوبوں کی تعمیرات ہوا کے معیارنکو خراب کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ایئر کوالٹی انڈیکس کی رینکنگ میں اگر دنیا بھر کے آلودہ ترین شہروں کی بات کی جائے تو لاہور کے بعد دہلی، قازقستان کا دارالحکومت نور سلطان، دبئی اور ڈھاکا شامل ہیں۔ دوسری جانب سال 2018 میں ایئر کوالٹی ایئر وژوئل 2018 کی ورلڈ ایئر کوالٹی رپورٹ میں لاہور کا 10واں نمبر تھا۔ مجموعی طور پر پاکستان بدترین ایئر کوالٹی انڈیکس کی وجہ سے دنیا کے آلودہ ترین ملکوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے۔

یاد رہے کہ دہلی کی طرح لاہور میں بھی فضائی آلودگی کی سطح بہت بلند ہے اور یہ شہر آئی کیو ایئر ایئر ویژوئلز کی بڑے شہروں کی براہ راست آلودگی رینکنگ میں مسلسل سرفہرست شہروں میں شامل ہوتا ہے۔ تاہم 2017 کے آغاز میں عوام کو پہلی بار بڑھتی ہوئی آلودگی کا احساس ہوا جب پاکستان میں پہلی بار ہوا کے معیار کا ڈیٹا جاری کیا گیا۔ حکومتی اعداد و شمار عوامی سطح پر شائع نہ ہونے پر شہریوں کی طرف سے آپریٹ ہونے والے سینسرز کے نیٹ ورک نے ہوا میں مضر صحت ذرات، جسے پی ایم 2.5 بھی کہا جاتا ہے، کی نگرانی شروع کی اور حقیقی وقت میں ڈیٹا رپورٹ کیا۔

Back to top button