نئے برطانوی وزیراعظم رشی کا تعلق گوجرانوالہ سے نکل آیا

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چودھری نے کہا ہے کہ برطانیہ کے نئے وزیراعظم رشی سوناک کا بھارت سے کوئی تعلق نہیں تھا‘ ان کے والدین کینیا میں پیدا ہوئے اور رشی سوناک نے برطانیہ میں جنم لیا لیکن جب وہ وزیراعظم بنے تو پورے بھارت میں جشن منایا گیا‘ حالانکہ یہ جشن بھارت کی بجائے گوجرانوالہ میں ہونا چاہیے تھا کیوں کہ رشی سوناک کے دادا رام دیوسوناک چھ نسلوں تک گوجرانوالی تھے اور آج بھی گوجرانوالہ میں ان کا محلہ موجود ہے۔
اپنی تازہ تحریر میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ ہم رشی سوناک کو یہ کیوں نہیں بتا رہے کہ آپ کے آباؤاجداد کا تعلق انڈیا سے نہیں، پاکستان سے تھا اور آپ کی جڑیں بھارت نہیں بلکہ گوجرانوالہ میں ہیں۔ ہمیں رشی سے کہنا چاہئے کہ ہم آپ کو آپکی جڑیں تلاش کر دیتے ہیں۔بقول جاوید بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے اس ملک کو مذہب اور نفرت میں دفن کر دیا ہے، ہم آج بھی خطے کے ہندوؤں‘ پارسیوں‘ عیسائیوں اور سکھوں کو اون کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، ڈاکٹر عبدالسلام نے 1979 میں فزکس میں نوبل انعام حاصل کیا تھا۔
اٹلی نے ٹریسٹ شہر میں ان کے نام سے پورا سینٹر بنا دیا۔ یہ سینٹر اب تک سیکڑوں سائنس دان پیدا کر چکا ہے مگر ہم نے اس شخص کو قادیانی ہونے کی وجہ سے گالی بنا دیا اور آج بھی اس کی قبر کی تذلیل کرتے ہیں‘ ڈاکٹر صاحب کا خاندان آج بھی پاکستان نہیں آ سکتا، آئی کے گجرال جہلم کے رہنے والے تھے‘ وہ بھارت کے وزیراعظم بن گئے۔ وہ پوری زندگی جہلم شہر کو یاد کرتے رہے مگر ہم نے ان کو اون نہیں کیا اور کلدیپ نائر کا تعلق سیالکوٹ سے تھا‘ وہ پوری زندگی سیالکوٹ، سیالکوٹ کرتا مر گیا، موت کے بعد بھی اس کی راکھ پاکستان آئی اور راوی میں بہائی گئی مگر ہم نے اسے بھی اون نہیں کیا اور یہ صرف تین چار کہانیاں نہیں ہیں۔
جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ ہمارے اردگرد ایسی سینکڑوں کہانیاں بکھری ہوئی ہیں جنھیں ہم نے مذہب‘ فرقے اور عصبیت کی صلیب پر لٹکا دیا‘ ہمارے ایک طرف برطانیہ ہے جس نے انڈین کے لیے اپنی وزارت عظمیٰ کا دروازہ کھول دیا‘ گوروں کا سربراہ براؤن کو بنا دیا اور 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں چھوٹا سا مندر کھول دیا جب کہ دوسری طرف ہم ہیں جو رشی سوناک کو گوجرانوالہ کا ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں‘ ہم اس کا آبائی گھر تلاش کر کے‘ اس کی تزئین وآرائش کر کے اسے ’’سوناک ہاؤس‘‘ بنانے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں‘ کیا ہم اس نفرت کے ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں؟جی نہیں‘ یہ یاد رکھیں نفرت دنیا کا سب سے بھاری بوجھ ہوتی ہے۔
جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ آپ اس بوجھ کے ساتھ کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے لہٰذا ہم اگر انفرادی یا قومی سطح پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں نفرت کی گٹھڑی نیچے رکھنا ہو گی‘ یہ بھی یاد رکھیں فرد ترقی نہیں کرتے‘ ملک کرتے ہیں‘ ملک معاشی لحاظ سے آگے بڑھے گا تو فرد بھی بڑھیں گے‘ ملک نیچے جائے گا تو ہم بھی پیچھے کھسکیں گے اور ملکوں کی ترقی ہمیشہ خطے سے جڑی ہوتی ہے۔ یورپ نے ترقی کی تو اس کے آخری کونے میں بیٹھے بلغاریہ‘ رومانیہ اور یونان بھی آگے بڑھ گئے اور اگر افریقہ پیچھے رہ گیا تو ساؤتھ افریقہ بھی سونے اور ہیروں کی دنیا کی سب سے بڑی کانوں کے باوجود فرسٹ ورلڈ نہیں بن سکا‘ یہ بھی پیچھے رہ گیا۔
جاوید چوہدری کے بقول آرمی چیف جنرل باجوہ کو چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا تھا کہ پہلے ترقی کریں اور تنازعے بعد میں حل کریں‘ صدرشی جن پنگ نے مثال دی کہ ہماری 2020 میں لداخ میں بھارت کے ساتھ فوجی جھڑپیں ہوئیں‘ ہمارے تعلقات اس کے بعد خراب ہو جانے چاہیے تھے جب کہ اس کے بعد ہماری انڈیا سے ایکسپورٹس تین گنا بڑھ گئیں اور آپ سرحدیں بند کر کے بیٹھ گئے ہیں۔ صدر شی جن پنگ کی بات غلط نہیں تھی‘ انڈیا نے5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی اور ہم نے انڈیا سے تجارت بند کر دی‘ کیا ہم نے اس سے کشمیر حاصل کر لیا؟ اور یہ تجارت اگر مزید دو سو سال بند رہتی ہے تو کیا ہمیں کشمیر مل جائے گا؟ ہرگز نہیں‘ ہم دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں۔
ہم اب لڑ اور مر کر بھی کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کر سکیں گے‘ ہمارے پاس اس کا صرف ایک ہی آپشن ہے اور وہ ہے معیشت‘ ہمیں مضبوط ہونا ہوگا ورنہ ہم کشمیر تو دور پاکستان بھی کھو دیں گے چناں چہ میری درخواست ہے نفرت کا ٹوکرا نیچے رکھ دیں‘ بھارت کے ساتھ بیٹھیں‘ سرحدیں کھولیں تاکہ رشی سوناک کی کامیابی کا جشن گوجرانوالہ اور بنگلور دونوں شہروں میں منایا جا سکے، دونوں ملک قریب آ سکیں۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ میری یہ درخواست ہے کہ آپ تعلقات کا آغاز کتابوں اور ادویات سے کریں‘ ہم نے 2020 میں کتابوں اور ادویات کے خام مال پر بھی پابندی لگا دی تھی‘ ہم نے علم اور صحت پر بھی سرحدیں بند کر دی تھیں اور اس کا نقصان ہمارے طالب علموں بالخصوص میڈیکل اسٹوڈنٹس اور مریضوں کو ہو رہا ہے‘ کیا یہ عقل مندی ہے؟ چناںنچہ سرحدیں نہیں کھولتے تو بھی ادویات اور کتابوں کا راستہ کھول دیں تاکہ اس ملک میں کسی جگہ سے تو ہوا آئے‘ آپ یقین کریں اس گھٹن کے ساتھ وہ وقت بھی دور نہیں جب بریلوی بھی بارہ فرقوں میں بٹ کر ایک دوسرے کے گلے کاٹنا شروع کر دیں گے‘ کیوں؟ کیوں کہ ہم نفرت کی منڈی بن چکے ہیں‘ ہمیں کوئی اور نہ ملے تو ہم خود سے ہی نفرت شروع کر دیتے ہیں۔
