موسم گرما میں فصلیں شدید متاثر ہونے کا خدشہ کیوں؟

محکمہ موسمیات نے رواں برس مئی کے دوران موسم کی شدت بڑھنے کے ساتھ غیرمعمولی ہیٹ ویو کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ اداروں اور اسٹیک ہولڈرز کو آئندہ مہینوں میں بڑھتی حدت سے نمٹنے کیلئے قبل ازوقت اقدامات کی ہدایت کر دی ہے۔
یہ انتباہ ایک ایسے موقع پر جاری کیا گیا جب محکمہ موسمیات کی طرف سے رواں سال مارچ سے ہی درجہ حرارت بڑھنے کی پیش گوئی کر دی گئی تھی، مئی تک پاکستان کے مختلف علاقوں کا اوسط درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔
پاکستان کا شمار دنیا کے ان 10 ممالک میں ہوتا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، پاکستان کو موسمیاتی تغیرات کی وجہ سے ناصرف غیر معمولی بارشوں کا سامنا کرنا پڑا بلکہ گزشتہ سال ملکی تاریخ کے غیر معمولی سیلاب سے بھ ی دو چار ہونا پڑا تھا۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے پاکستان پر اثرات کے حوالے سے ماہرِ موسمیات ڈاکٹر محمد حنیف کہتے ہیں کہ رواں سال مارچ کے بعد اگرچہ پاکستان میں گرمی کی لہر اور درجۂ حرارت میں معمول سے زیادہ اضافے کی پیش گوئی کی جا چکی ہے۔ لیکن ان کے خیال میں گزشتہ سال کی نسبت رواں سال گرمی کہ لہر کا دورانیہ شاید کم ہو۔
محمد حنیف کے مطابق رواں سال پاکستان میں موسمِ بہار کے آغا پر درجہ حرات میں اضافہ ہوا جس کی وجہ سے مارچ میں غیر معمولی بارشیں ہوئیں۔ ان کے بقول مارچ میں درجۂ حرارت معمول سے کم رہا لیکن اس وجہ سے شاید ہیٹ ویو کا دورانیہ کم ہو۔ ایسی صورتِ حال کا سامنا مستقبل میں بھی ہو سکتا ہے۔
ماہر موسمیات کہتے ہیں کہ رواں سال پاکستان میں گرمی کی شدید لہر مئی کے وسط سے شروع ہو کر جون کے آخر تک جاری رہ سکتی ہے، گزشتہ برس پاکستان میں 50 سے زیادہ دن ایسے تھے جب درجۂ حرارت 40سینٹی گریڈ سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے لیکن اس سال یہ لگ بھگ 30 دن ایسے ہوں گے جو گرم ترین ہوں گے۔
دوسری جانب موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی کی لہر کی وجہ سے شہری علاقوں میں صورتِ حال گھمبیر ہو جاتی ہے ۔کراچی کو 2015 میں غیر معمولی ہیٹ ویو کا سامنا کرنا پڑا تھا جس میں ایک ہزار سے زائد اموات ہوئی تھیں۔ ماہرینِ موسمیات کہتے ہیں کہ پاکستان میں آٹھ سے 10 شہر ایسے ہیں جہاں موسم گرما میں درجہ حرارت 50 سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے جن میں جیکب آباد ، سبی، لاڑکانہ، تربت، پنجگور ، بہاولنگر، میانوالی، سرگودھا اور بھکر شامل ہیں۔
موسمیاتی تغیرات اور بڑھتی ہوئی حدت کی وجہ سے ماہرین غذائی اور آبائی عدم تحفظ میں بھی اضافے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں، ماہرین کہتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک مستقل صورتِ حال اختیار کر چکے ہیں اور ان کے منفی اثرات زراعت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
زرعی ماہر ڈاکٹر سید ساجدین حسین کہتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے سب سے زیادہ زراعت ہی متاثر ہو رہی ہے۔وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جون کے بعد ہونے والے مون سون بارشوں سے سیلاب آیا جس کی وجہ سے کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا۔
سید ساجدین کہتے ہیں کہ گندم کو اگرچہ سیلاب سے اتنا خطرہ نہیں ہے کیوں کہ یہ ان علاقوں میں اگائی جاتی ہے جہاں سیلاب آنے کی شرح کم ہے لیکن اس کے باوجود بھی خشک سالی کی وجہ سے گندم کے متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔
پیر مہر علی شاہ ایریڈ ایگری کلچر یونیورسٹی کے شعبہ زراعت کے اسسٹنٹ پروفیسر غلام عباس شاہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں مختلف فصلوں خاص طور پر گندم کی کاشت کرنے کے وقت میں تبدیلی کے بارے میں کسانوں میں آگاہی کی ضرورت ہے۔غلام عباس شاہ کہتے ہیں کہ عمومی طورپر پاکستان میں گندم کی بوائی 15 اکتوبر کے بعد شروع ہوتی ہے ۔ البتہ تجرباتی بنیادوں پر یہ کام ہو چکا ہے کہ گندم کی فصل کی بوائی معمول سے 15 دن قبل کی جائے تو زیادہ بارش، ہیٹ اسٹریس اور خشک سالی کے اثرات سے کسی حد تک بچا جا سکتا ہے۔ فصل کی کاشت کی سائیکل کو تبدیل کرنے سے پیداوار میں 20 سے 30 فی صد ہونے والی کمی کو روکا جا سکتا ہے۔
