مولانا فضل الرحمان کا ایک مرتبہ پھر حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کیخلاف ایک اور تحریک شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کی بڑی سیاسی جماعتوں کے حالیہ اقدام نے عوام کو مایوس کیا۔ اسٹیبلشمنٹ سے کوئی محاز آرائی نہیں، عوامی قوت سے حکومت کو گھر بھیجیں گے۔
مولانا فضل الرحمان کا جے یو آئی پنجاب کے اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو میں ایک مرتبہ پھر حکومت مخالف تحریک کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ نااہل حکومت سے عوام تنگ، خود کشیاں اور بچے بیچنے پر مجبور ہیں۔ اب تو خود ادارے بھی بول اٹھے ہیں کہ معاشی حالات دو سے تین سال تک بہتر نہیں ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے تعاون سے اب وہ بھی حکومت کا حصہ لگتی ہے۔ منتشر اپوزیشن خود حکومت کے فائدے میں ہے، اس لیے ہماری ذمہ داری اور بڑھ چکی ہے۔
امیر جے یو آئی کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ سے کوئی محاز آرائی نہیں، سیاست میں مداخلت کے مخالف ہیں۔ عوامی قوت سے نااہل حکومت کو چلتا کرینگے، عوام سڑکوں پر آئیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مدارس اصلاحات کا لفظ ہی توہین آمیز، اتحاد تنظیمات المدارس سے ساتھ مفصل گفتگو اور بہت سے ایشوز پہ اتفاق رائے ہوا ہے۔ مدارس کے خلاف پراپیگنڈہ ختم کیا جائے، وقت بتادے گا کہ مدارس اور مذہبی طبقے کو کس نے استعمال کیا۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ملک میں ناجائز اور نااہل حکومت ملک پر مسلط ہے، عام آدمی مہنگائی کے ہاتھوں کرب کا شکار ہے اور بے روزگاری سے تنگ عوام بچے بیچنے اور خود کشی کرنے پر مجبور ہیں، مالیاتی ادارے بیٹھ گئے ہیں اور دوسری جانب اپوزیشن کی بڑی جماعتوں نے بھی عوام کو مایوس کیا۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جسے ہم اپوزیشن کہتے تھے بظاہر وہ اب حکومت کاحصہ نظر آرہی ہے، توقع تھی بڑی سیاسی جماعتیں قوم کو بحران سے نکالیں گی لیکن بڑی سیاسی جماعتوں کے حالیہ اقدام سے مایوسی پیدا ہوئی، موجود سیاسی ماحول سے ہیجان اور ناراضیاں پیدا ہوئیں، آرمی چیف کی توسیع کے معاملے پر حزب اختلاف کا حکومت کا ساتھ دینے سے نقصان ہوا، اپوزیشن کا انتشار ناجائز حکومت کے استحکام کا سبب بن سکتا ہے۔ سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ آزادی مارچ کےآفٹر شاکس اب نظر آرہے ہیں، ہم اپنے مؤقف پر کھڑے ہیں اور اس کے ساتھ آگے بڑھیں گے، تبدیلی شروع ہوچکی تھوڑے عرصے میں بڑی تبدیلیاں نظرآئیں گی، عوامی طاقت کے ذریعے اس حکومت سے نجات حاصل کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button